چین کی خود مختاری پر امریکی موقف میں تبدیلی نہیں آئی: صدر بائیڈن

یہ تیسرا موقع ہے کہ صدر بائیڈن نے امریکی پالیسی کی بظاہر تردید کی اور یہ تاثر دیا کہ وہ تائیوان کے لیے اپنی حمایت میں سختی لا رہے ہیں۔

تائیوان کے بارے میں ملے جلے بیانات کے سلسلے کا تازہ ترین بیان امریکی اور چینی صدور کے درمیان آن لائن ملاقات کے ایک روز بعد آیا ہے(اے ایف پی)
 

امریکی صدر جوبائیڈن نے تائیوان کو بظاہر ’آزاد‘ کہنے کے بارے میں اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی خود مختاری سے متعلق امریکی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تائیوان کے بارے میں ملے جلے بیانات کے سلسلے کا تازہ ترین بیان امریکی اور چینی صدور کے درمیان آن لائن ملاقات کے ایک روز بعد آیا ہے۔

 واضح رہے کہ تائیوان چین کی عمل داری سے باہر ایک جمہوری ملک ہے جسے کے بارے میں چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا حصہ ہے۔

اس سوال پر کہ چینی صدر سے ورچوئل ملاقات میں تائیوان کے معاملے میں کوئی پیشرفت ہوئی جس کے غیر سرکاری سطح پر امریکہ کے ساتھ قریبی روابط ہیں، بائیڈن نے کہا انہوں نے اس معاملے میں امریکہ کے موجود قانون کی ‘بہت واضح طور پر‘ حمایت کی۔ تائیوان ایکٹ کے تحت امریکہ تائیوان کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا لیکن اس کے باوجود دفاع میں اس کی مدد کا عزم کر رکھا ہے۔

تاہم منگل کو دورے پر نیو ہیمپشائر آنے والے بائیڈن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تائیوان آزاد ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس نے اس وضاحت کے لیے کی گئی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا کہ بائیڈن نے تائیوان کے حوالے سے کیا کہا؟

تاہم جلد ہی بائیڈن نے خود صحافیوں پر واضح کر دیا کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ تائیوان کے لیے امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ بائیڈن کے بقول: ’ہم اپنی پالیسی بالکل تبدیل نہیں کر رہے۔ ہم ان سے وہی کرنے کا کہہ رہے جو تائیوان ایکٹ کے تحت ضروری ہے۔ ہم یہی کام کر رہے ہیں۔ انہیں اپنا ذہن بنانے دیں۔‘

یہ تیسرا موقع ہے کہ بائیڈن نے امریکی پالیسی کی بظاہر تردید کی اور یہ تاثر دیا کہ وہ تائیوان کے لیے اپنی حمایت میں سختی لا رہے ہیں۔ جب اکتوبر میں ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا امریکہ چین کے خلاف تائیوان کا دفاع کرے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہاں، ہم نے اس کا وعدہ کر رکھا ہے۔‘

انہوں نے اگست میں بھی اس قسم کا تبصرہ کیا۔ دونوں بار بعد میں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ امریکہ کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔

ان حالات میں کہ جب امریکہ تائیوان کو اس کے دفاع میں مدد دیتا ہے، اس سوال پر کیا آیا امریکی فورسز تائیوان کے معاملے میں مداخلت کبھی کریں گی واشنگٹن اپنی پالیسی کو ’سٹریٹیجک ابہام‘قرار دیتا ہے۔

منگل کو رپورٹرز کے ساتھ بات چیت میں بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ پر زور دیا ہے کہ ایسی صورت میں کہ جب امریکی بحریہ کے جہاز جہاز چین کی سمندری حدود سے باہر رہیں گے، وہ جنوبی چینی سمندر تک رسائی کے حق پر زور دیں گے اور ’ہمیں دھمکایا نہیں جا سکتا۔‘

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چین میں کام کرنے والے میڈیا کی’پیشرفت‘ کی تعریف کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 امریکہ نے منگل کو بتایا ہے کہ حالات کار اور چین میں کام کرنے والے صحافیوں کی رسائی بہتر بنانے کے معاملے پر چینی حکام کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے۔ امریکہ چین میں کام کرنے والے صحافیوں کے ساتھ سلوک میں خرابی کی باقاعدگی سے مذمت کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی طرف سے امریکہ میں کام کرنے والے میڈیا کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔

چینی میڈیا پر بیجنگ کی پروپیگنڈا مشینری ہونے کا الزام ہے۔ 2020 میں چین نے اخبار نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال سٹریٹ جرنل کے ساتھ کام کرنے والے امریکی صحافیوں کو ملک سے نکال دیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے مذاکرات کی بدولت میڈیا کے حوالے سے ماحول سے متعلق’چند معاملات‘میں ابتدائی پیشرفت ہوئی ہے۔

 ترجمان کے بقول: ’ہم اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اسے محض ابتدائی قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن امریکی اور دوسرے غیر ملکی میڈیا کے لیے رسائی اور حالات کار بہتر بنانے عمومی طور پر وسیع تر آزادی صحافت پر زور دیتا رہے گا۔

امریکی عہدے دار کا کہنا تھا کہ چین نے امریکی صحافیوں کے گروپ کو ویزے جاری کرنے کا وعدہ کیا تاہم انہیں تمام قوانین اور قواعد کی شرائط پوری کرنی ہوں گے۔ امریکی عہدے دار نے مزید کہا کہ چین نے ملک میں پہلے سے موجود امریکی صحافیوں کو آزادی کے ساتھ آنے جانے کی اجازت دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

 اس سے پہلے امریکی صحافیوں کو ایسا کی اجازت نہیں تھی۔

امریکی عہدے دار کے مطابق چین نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی صحافیوں کے ویزے کی مدت کو بڑھا کر ایک سال کر دے گا۔ جواب میں واشنگٹن بھی ایسا ہی کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کا ماننا ہے کہ امریکہ چین سربراہ ملاقات کے تناظر میں یہ جو اقدامات کیے گئے ہیں ان سے امریکی میڈیا نمائندگان’اپنا ضروری کام‘جاری رکھنے کے لیے چین واپس جانے کے قابل ہو جائیں گے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا