انتشار اور فساد کی جڑیں

بہت کچھ عوام، تجزیوں اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ کرنے والوں کے کارنامے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف سے جب سوالات ہوئے تو انہوں نے اپنے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے نکتہ نظر سے  اتفاق کرنے سے یکسر انکار کر  دیا(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

ایک ٹیلی وژن پروگرام میں پچھلے ہفتے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف میزبان کو یہ بتا رہے تھے کہ کیسے ریاستی امور کے بارے میں ذرائع ابلاغ سنجیدگی سے اتفاق رائے بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔

ان کا فرمانا تھا کہ بہت سے معاملات کو خفیہ اس وجہ سے رکھنا پڑتا ہے کہ میڈیا بات کا بتنگڑ بنا دیتا ہے۔ یہ تجزیہ اس حد تک تو درست ہے کہ نئے دور میں ہر موضوع زیر بحث لایا جا سکتا ہے لیکن اس کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مباحثہ بامقصد اور بانتیجہ ہو گا۔ سیاست اور ادارتی تعصب مزید الجھنیں پیدا کرتا ہے۔ ذاتی مفادات کو بھی تجزیوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

یہ کہنا کہ ملک میں خلفشار اور بنیادی معاملات پر بےیقینی، بے ربطی اور بعض اوقات عناد پر مبنی بحث کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، درست نہیں۔ اصل وجوحات کچھ اور ہیں۔ جن میں جانے سے پہلے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ریاست کے امور آسمان پر چمکتے چودھویں کے چاند کی ماند نہیں ہیں جس کی طرف عام لوگ ہاتھ بڑھائیں تو اس کی ہتک ہو جاتی ہے۔

نہ ہی یہ امور قانون، آئین اور عوام کی فلاح سے علیحدہ کوئی ایسی مخلوق ہے جو چٹانوں پر بسیرا کرتی ہے اور قدیم زمانے کے خداؤں کی طرح قربانی طلب کرنے کے لیے اپنے وفاداروں کو جھلک دیکھائے بغیر دو چار سال میں ایک آدھ مرتبہ زمین پر قدم رکھ کر واپس لوٹ جاتی ہے۔

عوام سے ریاستی امور کے تقدس کے نام پر فیصلہ سازی کے عمل کو کمبلوں میں لپیٹ کر رکھنے والے اصل میں اپنی نااہلی اور نکمے پن کے احتساب سے بچنے کے لیے حیلے بہانے کرتے ہیں۔ مہذب معاشروں میں حکومتیں خفیہ پالیسی سازی کے راز افشا ہونے پر عوام سے معافی مانگتی ہیں، شرمندہ ہوتی ہیں، طاقت سے نکالی جا سکتی ہیں۔ یہاں پر دریا الٹے بہتے ہیں۔

عوام کے نام پر بڑے بڑے فیصلے چھپن چھپائی کے ذریعے کر کے دفاع میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قوم اور اس کے تجزیہ نگار اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان معاملات کو سمجھ سکیں۔ پاکستان کا جتنا بیڑہ غرق ’قابلین‘ کے قبیلے نے کیا ہے اتنا شاید ہمارے ازلی دشمنوں نے بھی نہیں کیا ہو گا۔ ہر شاخ پر ایسا ایسا الو بیٹھا ہے کہ جن کی حرکات کو دیکھ کر اس پرندے کی دانش مندی سے متعلق کہاوتوں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔

لیکن اصل معاملہ قومی امور کے بارے میں اتفاق رائے نہ ہونے کا ہے۔ یہ کہنا کہ مخالفین اور تنقیدی ذرائع ابلاغ اگر تدبر سے کام لیں تو قوم اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے خطرات سے جم کر لڑ سکتی ہے، حقائق سے رو گردانی کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔

تازہ ترین واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ اصل انتشار کی وجہ منتشر الذہن فیصلہ ساز قوتیں ہیں جو دائیں ہاتھ سے ایک کام کر کے بائیں ہاتھ سے اس کے نشانات مٹانے میں مصروف رہتی ہیں۔

مودی کو فاشزم کا مجسمہ قرار دینے والے بھارت کے سرکردہ جاسوس کو بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انصاف دینے کے لیے قانونی بندوبست کر رہے ہیں۔ کشمیر کو نئے نقشے بنا کر اپنے ساتھ ملاتے ہوئے ذہنی سکون حاصل کرنا اب ہماری پالیسی کی معراج ہے۔ کبھی طالبان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے کر دیا جاتا تھا اور اب ان کی حکومت کو منوانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی سربراہی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔

ریاست سے متحارب گروپوں کو نیست و نابود کروانے کے لیے تمام قوم سے مکمل تعاون اور وسائل کی طلب اب مفاہمت اور بات چیت کی کاوش میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ جو فورتھ شیڈول کے تحت دہشت گرد تھے اب انتخابی قوت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ جن کی تقریر سنوانا اور دکھانا دس سال کی سزا کا باعث بن سکتا تھا اب سرکار کے ہاتھوں دستار بند ہو رہے ہیں۔

یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ عوام، تجزیوں اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ کرنے والوں کے کارنامے ہیں۔ یہ ان کی قابلیت کے نشان ہیں جو اپنی تعمیرات کو زمین بوس کر کے کھنڈر بناتے ہیں اور پھر کھنڈرات کی مٹی سے نئے مسائل کے شہر آباد کرتے ہیں جن کا انجام بھی ان سے پہلے بنے ڈھانچوں جیسا ہی ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اس ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے والوں کے پاس یہ سب کچھ کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ یہ بھی اتنا برا نہ ہوتا اگر اس عمل میں مستقل مزاجی برقرار رکھی جاتی۔ کم از کم قوم کو یہ تو علم ہوتا کہ وہ لڑھکتے ہوئے کس گڑھے میں گرے گی۔ یہاں پر بھی منتشر خیال حاوی نظر آتے ہیں۔

اس حکومت نے تحریک لبیک سے خود معاہدہ کیا، اس کو اپنی دہشت گردوں کی فہرست سے ہٹا کر معتبر بنایا، مقدمات واپس لیے، قیادت کو رہا کیا اور ان کا تمام تنظیمی ڈھانچہ دوبارہ سے فعال کیا۔ پھر اس پالیسی کو پاکستان کی بہترین خدمت قرار دیتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو تعاون پر مجبور کیا۔ سب سے کہلوایا واہ واہ۔

پھر وزیر برائے اطلاعات نے اپنی حکومت اور ریاستی اداروں کی پالیسی کی ان الفاظ میں تردید کی۔ اخبارات میں چھپنے والے بیان کے مطابق وزیر نے یہ کہا: ’ریاست کی رٹ قائم کیے بغیر انتہا پسندی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ جو ریاست قانون کی عمل داری نہ کروا سکے اس کی بقا پر بہت جلد سوالات اٹھتے ہیں۔ تحریک لبیک کے کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔‘

چوہدری فواد نے اس کے بعد اپنے اس بیان کی ایک اور وضاحت کر کے مزید کنفیوژن پھیلائی۔ اس پر قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف سے جب سوالات ہوئے تو انہوں نے اپنے وزیر کے نکتہ نظر سے اتفاق کرنے سے یکسر انکار کر دیا اور کہا کہ ہم تو بہترین کام کر رہے ہیں۔ جب فیصلوں کی باگ دوڑ الجھنوں سے بھرے ہوئے ازہان کے اختیار میں ہو تو ملک کی سمت کیا سیدھی ہو گی؟ قوم کیا امید باندھے گی؟ انتشار کیسے کم ہو گا؟ انجام گلستان کیا ہو گا؟

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پہر مبنی ہے جس سے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ