نوشین ہاسٹل کا کمرہ تبدیل کرنا چاہتی تھی: والد

ہدایت اللہ شاہ کے مطابق نوشین اپنی تعلیم مکمل کرکے غریب مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہتی تھیں اور بچوں کی تعلیم پر توجہ دینا چاہتی تھیں۔

ڈاکٹر نوشین کاظمی کے والد سید ہدایت اللہ شاہ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کر رہے ہیں(تصویر انڈپینڈنٹ اردو)

چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والی طالبہ نوشین کاظمی کے والد کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کے انتہائی قدم پر حیران ہیں۔

نوشین کاظمی کے والد سید ہدایت اللہ شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے کئی مرتبہ ہاسٹل وارڈن کو کمرے کی تبدیلی کی درخواست دی تھی اور اس کے علاوہ ان کی بیٹی نے گھر میں کبھی کسی پریشانی کا ذکر نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی تحقیقات اپنی جگہ لیکن بچی کے انتہائی قدم پر حیراں ہیں۔

سید ہدایت اللہ شاہ کا کہنا تھا کہ ’بیٹی دین دار اور خوش مزاج تھی وہ خودکشی نہیں کر سکتی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی چاہتی تھی کہ وہ اپنے علاقے کی لڑکیوں کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے کیمیکل ایگزامنیش رپورٹس آنے پر درست واقعات کا علم ہوگا۔

ہدایت اللہ شاہ کے مطابق نوشین اپنی تعلیم مکمل کرکے غریب مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہتی تھیں اور بچوں کی تعلیم پر توجہ دینا چاہتی تھیں۔

نوشین کے والد نے بتایا کہ ’ان کا طب کے شعبے سے اس حد تک لگاؤ تھا کہ پہلے انٹری ٹیسٹ میں انہوں نے ڈینٹل کالج کے لیے کلئیر کر لیا تھا لیکن پھر بھی داخلہ نہیں لیا اور دوبارہ محنت کر کے انٹری ٹیسٹ دیا اور میڈیکل کی سیٹ میرٹ پر حاصل کی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا