پاکستان: 2023 انتخابات سے پہلے نئی مردم شماری کی تیاری

آئین کے مطابق ملک میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہونی چاہیے لیکن حکومت نے سال 2023 کے انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

15 مارچ 2017 کی اس تصویر میں پاکستان ادارہ شماریات کے اہلکاروں کو کراچی کے ایک علاقے میں مردم شماری کے دوران دیکھا جا سکتا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان حکومت نے اگلے سال ملک میں نئی مردم شماری مکمل کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) میں سمری پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق 2023 کے انتخابات کے لیے اس مردم شماری نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جائے گئیں۔

 2017 میں ہونے والی آخری مردم شماری کے نتائج کو خاص طور پر کراچی اور پورے سندھ میں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں حلقہ بندیوں کی تقسیم اور حد بندی میں بعض علاقوں کے لاکھوں باشندوں کو شمار نہیں کیا جا سکا تھا۔

اگرچہ آئین کے مطابق ملک میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہونی چاہیے لیکن حکومت نے سال 2023 کے انتخابات سے قبل نئی مردم شماری کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس )کے چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر نے جمعے کو اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کو ساتویں مردم اور خانہ شماری 2022 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ اور اس حوالے سے ورک پلان اور پیش رفت پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پی بی ایس ٹائم لائنز پر سختی سے عمل پیرا ہے اور دسمبر 2022 میں الیکشن کمیشن کو عام انتخابات 2023 کے پیش نظر حد بندی کے عمل کے لیے اعداد وشمار فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمیٹی نے 2022 کی مردم شماری کے سوال نامے کو حتمی شکل دے دی ہے اور مردم شماری پر عمل درآمد کے منصوبے کے ساتھ سمری بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشترکہ مفادات کی کونسل کی جانب سے مردم شماری کی منظوری کے بعد حکومت چیف سینسس کمشنر کو مطلع کرے گی اور صوبے اپنے متعلقہ سینسس کمشنرز کو مطلع کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق مردم شماری کے عمل میں فوج کی مدد لی جائے گی اور اس دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً ڈھائی لاکھ مسلح افواج کے اہلکار پورے پاکستان میں تعینات کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ مردم شماری قانونی بنیادوں پر کی جائے گی جس میں ہر فرد کو ان خطوں میں شمار کیا جائے گا جہاں وہ گذشتہ چھ ماہ میں رہ رہے تھے۔

اگلی مردم شماری کمپیوٹر ٹیبلٹس پر مرتب کی جائے گی جس کے لیے حکومت ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ڈیوائسز کی خریداری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

مردم شماری کے سوال نامے کو تفصیل سے پُر کرنے کے لیے تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کے محکموں سے تقریباً چھ لاکھ شمار کنندگان کو تعینات کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان