کراچی کی مردم شماری کے متنازع نتائج کا معاملہ ایک بار پھر گرم کیوں؟

مطالبات نہ مانے جانے پر ایم کیو ایم پاکستان نے ایک بار پھر حکومت چھوڑنے کا اشارہ دیا تو پی ٹی آئی کے رہنما منانے کے لیے پہنچ گئے اور 2017 کی مردم شماری کے نتائج پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہوگئی۔  

وفاقی کابینہ کے دسمبر میں  ہونے والے  اجلاس میں 2017  کی  مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی گئی(تصاویر: اے ایف پی)

گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی وفاق میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے اپنے مطالبات نہ مانے جانے کی وجہ سے ایک بار پھر حکومت سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دیا تو کراچی کی مردم شماری کے متازع نتائج کا معاملہ ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا۔

دسمبر میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ 2018 میں ایم کیو ایم نے حکومت میں شامل ہونے کے لیے نو نکات پر مشتمل ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں پہلی شرط ہی کراچی کی مردم شماری کے متنازع نتائج کے حوالے سے تھی۔

نتائج کی حکومتی منظوری کے بعد ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدہ ہونے کے عزم کا اظہار کیا، جس کے بعد گذشتہ ہفتے ناراض اتحادی کو منانے کے لیے وفاقی وزیر اسد عمر کی قیادت میں پی ٹی آئی کے وفد نے کراچی میں ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایم کیو ایم نے آئندہ الیکشن سے قبل نئی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا، جس پر اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری موجودہ نہیں، پچھلی حکومت نے کروائی ہے اور ایم کیو ایم قیادت کو یقین دلایا کہ مردم شماری دوبارہ کرائی جائے گی۔ 

چار سال سے جاری تنازع

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو لے کر ایم کیو ایم سمیت مختلف سیاسی پارٹیاں نتائج کو قبول نہ کرنے کے اعلانات کر چکی ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان میں ’شہر کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے۔‘

وفاقی ادارہ شماریات نے 1998 کے بعد 2017 میں ہونے والی ملک کی چھٹی مردم شماری میں دس بڑے شہروں کی آبادی کے اعدادو شمار پیش کیے تھے، جن کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ 51 ہزار 521 بتائی گئی، جبکہ 1998 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی 98 لاکھ 65 ہزار تھی۔ کراچی سب سے زیادہ آبادی والا شہر جبکہ لاہور دوسرے نمبر پر رہا۔

تاہم ان نتائج کا اعلان ہوتے ہی سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت صوبے کی اکثر سیاسی جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی نے تو احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں جس میں انہوں نے مردم شمارے کے نتائج کو رد کیا اور کراچی میں دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کیا۔

 2017 میں وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم نے مردم شماری میں دھاندلی کا الزام لگا کر کراچی میں مردم شماری کے بلاکس کم ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کردی تھی۔ 

اس درخواست میں ایم کیو ایم پاکستان کے اس وقت کے سربراہ فاروق ستار کا موقف تھا کہ 18 سال بعد کراچی کی آبادی بڑھنے کی شرح سو فیصد، جبکہ تھر اور گھوٹکی میں آبادی کا اضافہ چار سو فیصد تک دکھایا گیا ہے، جو بالکل غیرمنطقی ہے۔

ان کے مطابق 1998 کی مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں بشمول کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے بلاکس 47.65  فیصد تھے، جو نئی مردم شماری میں دو فیصد تک کم ہو کر 45 فیصد ہوگئے جبکہ 18 سالوں میں دیہی آبادی کے بلاکس 52.35 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد ہوگئے۔

فاروق ستار کے مطابق شفاف مردم شماری کے بعد کراچی میں قومی اسمبلی کی 20 کے بجائے 40 اور سندھ اسمبلی کی 42 کے بجائے 84 نشستیں ہوں گی۔

معاملہ ایک بار پھر گرم

گذشتہ اتوار کو  نکالی گئی ایک احتجاجی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحیح مردم شماری نہ ہونے تک کراچی خاموش نہیں رہے گا۔

دوسری جانب جماعت اسلامی بھی اس معاملے پر آواز اٹھا چکی ہے، جس کے تحت اس نے ’حقوق کراچی تحریک‘ بھی چلائی اور مردم شماری کے نتائج کے خلاف کئی مظاہرے بھی کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی تاحال وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ایک خط لکھ کر وفاقی کابینہ میں مردم شماری کے نتائج کو منظور کیے جانے پر اعتراض اٹھایا ہے۔ وہ اس کے قبل بھی اسی حوالے سے وزیر اعظم کو ایک اور خط لکھ چکے ہیں۔   

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق سندھ کی آبادی چھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے مگر مردم شماری میں سندھ کی آبادی تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ بتائی گئی ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 میں وزارت شماریات کو کہا تھا کہ حتمی نتائج تیار کرنے سے قبل ہر صوبے کے ایک فیصد سینسس بلاک میں تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے، جسے بعد میں بڑھا کر پانچ فیصد تک کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ 24ویں آئینی ترمیم منظور کرتے وقت تمام پارلیمانی پارٹیوں کے درمیان معاہدے کی صورت میں کیا گیا تھا، جس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں ہی کرائے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے اس فیصلے کو مارچ 2018 میں بھی دہرایا، لیکن اس وقت سے اب تک ملک میں مردم شماری کے حتمی نتائج جاری کرنے کا کام تعطل کا شکار ہے۔

اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے ایک عالمی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مردم شماری کے دوران وہ تمام لوگ جو دوسرے صوبوں سے آ کر سندھ میں آباد ہوئے، انہیں سندھ کی آبادی کی بجائے دوسرے صوبوں کی آبادی میں شمار کر کے صوبے کی حق تلفی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں سندھ کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب کم ظاہر کی گئی۔

اس حوالے سے جب انڈپینڈںٹ اردو نے رابطہ کیا تو وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے کہا: ’2017 کی مردم شماری میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے، جس کے باعث اب صوبے کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ، قومی سطح کی نوکریوں سمیت قومی وسائل کی تقسیم میں منصفانہ حصہ نہیں ملے گا، اس لیے سندھ کو 2017 کی مردم شماری پر اعتراض ہے۔‘

عبدالرشید چنا کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو خطوط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری والے معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جاکر اس کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ 

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پہلے دن سے ان نتائج کے خلاف تھی، مگر چونکہ کابینہ میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں اور مردم شماری کے نتائج پر کسی اور  صوبےکو مسئلہ نہیں تھا تو اس لیے وہ منظور ہوگئے۔

انہوں نے کہا: ’ہمیں انصاف نہ عدالت سے ملا، نہ کابینہ سے، نہ پارلیمان سے۔ اس لیے ہم مظاہرہ کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جایا جائے اور مردم شماری دوبارہ کروائی جائے۔‘

سیاسی تجزیہ کار فیاض نائچ کے مطابق مردم شماری کے نتائج کا تنازع سندھ میں سیاسی پارٹیوں کے لیے اہم ہے کیونکہ مردم شماری سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹیں بڑھنے کا امکان تھا، مگر ایسا نہیں ہوا جس کی وجہ سے دیگر پارٹیاں احتجاج کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست