’عیدی نہ دیں مگر کم از کم تعریفی سند یا خط ہی لکھ دیں‘

عید کا تہوار اپنوں کے ساتھ مل جل کر گزارا جائے تو کیسی ہی بات ہے مگر کچھ پیشے ایسے ہوتے ہیں جس میں آپ کو کبھی کبھار اپنی خوشیوں کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے جیسے ڈاکٹری کا پیشہ۔

پاکستان بھر میں آج عید الفطر کا تہوار منایا جا رہا ہے۔ خوشی کے اس موقع کو اپنوں کے ساتھ گزارنے کے کی غرض سے حکومت پاکستان کی جانب سے چار روز کی چھٹیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

عید کا تہوار اپنوں کے ساتھ مل جل کر گزارا جائے تو کیسی ہی بات ہے مگر کچھ پیشے ایسے ہوتے ہیں جس میں آپ کو کبھی کبھار اپنی خوشیوں کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے جیسے ڈاکٹری کا پیشہ۔

اس موقع پر پنجاب بھر کے 44 ٹیچنگ اور 325 تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز میں ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز کام کرتے ہیں جن میں سے بیشتر داکٹر جن کا تعلق دوسرے شہروں سے ہوتا ہے انہیں عید کی چھٹی پر گھر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ مقامی ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینی پڑتی ہے۔ اور وہ بھی کسی اضافی معاوضہ کے بغیر۔

میو ہسپتال کے ڈاکٹر سلمان کاظمی بھی عید کے تینوں روز ڈیوٹی پر رہیں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عید کے تینوں روز سرکاری ہسپتالوں میں رش بڑھ جائے گا کیونکہ چھوٹے چھوٹے نجی ہسپتال اور کلینک بند ہو جائیں گے۔ اس لیے لوگ سرکاری ہسپتالوں کا رخ کریں گے۔

ڈاکٹر سلمان کاظمی کا کہنا ہے کہ بڑے نجی ہسپتالوں میں جو ڈاکٹر عید کے دن ڈیوٹی کرتے ہیں انہیں 12 گھنٹے کے اضافی چار ہزار روپے ملتے ہیں، جبکہ سرکاری ڈاکٹرز کو کوئی معاوضہ یا حوصلہ افزائی نہیں ملتی۔

ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ چاند رات سے ہی مریضوں کا رش شروع ہو جائے گا جن میں سے بہت سے زیادہ شراب پی کر ہسپتال پہنچیں گے اور بیشتر گیسٹرو کی تکلیف کے ساتھ آئیں گے کیونکہ چاند رات سے ہی لوگ مرغاً کھانے کھانا شروع کر دیتے ہیں اور روزے رکھنے سے معدہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ فوراً سکیل غزا کو ہضم کر سکے۔  ایسے کم از کم 30 سے 35 ہزار مریض ان تین دنوں میں سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسی کا رخ کریں گے جن کا علاج ہم ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کریں گے۔

سینیر ڈاکٹروں کے حوالے سے ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ وہ آن کال ہوں گے، یعنی کسی ایمرجنسی کی صورت میں انہیں گھر سے بلایا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ وارڈون میں سینیئر ڈاکٹر موجود نہیں ہوتے، بس ایک سینیئر رجسٹرار ہی ہوتا ہے اور باقی ینگ ڈاکٹرز۔

ڈاکٹر سلمان نے بتایا کہ ایسا ہر برس ہی ہوتا ہے، عید کے دنوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں محکمہ صحت پنجب کی جانب سے لگائی جاتی ہیں مگر ڈاکٹروں کو اس کے لیے کچھ نہیں دیا جاتا جبکہ دیگر شعبوں میں گزٹڈ چھٹیوں میں کام کرنے والے ملازمین کو اضافی پیسے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ بخوشی اپنی ڈیوٹی سرانجام دے سکیں۔ ڈاکٹر سلمان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے پاس اتنا بجٹ نہیں ہے تو وہ بے شک پیسے نہ دے مگر کم از کم ان ڈاکٹروں کو تعریفی سند یا تعریفی خط ہی لکھ دے اس سے بھی ڈاکٹر کی حوصلہ افزائی ہو جائے گی۔

دوسری جانب پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی آئی سی میں ڈاکٹروں کو اضافی رقم دینا بنتا ہی نہیں کیونکہ جو ڈاکٹر عید کے تین روز ڈیوٹی دیں گے وہ ان تین دن کے بدلے کسی بھی تین دن چھٹی لے سکتے ہیں دوسرا ہسپتال میں ہونے والی پرائیویٹ پریکٹس سے اکٹھے ہونے والے منافع سے بھی حصہ ملتا ہے اور یہ حصہ صرف ڈاکٹروں کو ہی نہیں بلکہ پیرا میڈک سٹاف کو بھی دیا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں کے ڈاکٹروں کو ایسے مطالبات نہیں کرنے چاہیے۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر خان نے اس حوالے سےانڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کی چھٹیوں پر ڈاکٹروں کو اضافی پیسے دینا حکومت کی اقتصادی سسٹم کی پالیسی نہ ہے اور شاید کبھی تھی بھی نہیں، مگر ان دنوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو بعد میں چھٹیاں دے دی جاتی ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ کسی پر زیادہ بوجھ نہ پڑَے، اسی لیے ڈیوٹی آوورز کو بھی کم زیادہ کر دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ہارون کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں عید کی چھٹیاں قربان کرنے والے ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے۔ وہ چاہے پیسوں کی شکل میں ہو یا کام کے بدلے چھٹی کی شکل میں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان