’آنٹی دو سال پہلے اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے‘

ایک عورت کو کسی عورت کے کردار پر بات کرنے سے پہلے کم از کم ایک بار سوچنا ضرور چاہیے۔ اگر کسی کو سہارا نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کے لیے مشکلات تو کھڑی نہ کریں۔

جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اس کے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اس کی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی(اے ایف پی)

کسی معاشرے کی تعمیر میں عورت کا اہم کردار ہے۔ عورت ہی ہے جو ایک بہترین اور مکمل معاشرہ بنا سکتی ہے۔ میں نے ایسی کئی ماؤں کو دیکھا ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے کے باوجود حوصلہ نہیں ہاریں اور حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کر رہی ہیں۔ وہ محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں۔

افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کسی عورت کی علیحدگی ہو جائے تو اس پہ انگلی اٹھانے والی عورتیں ہی ہوتیں ہیں۔ ان کا اصرار ہوتا ہے کہ اس میں ہی کوئی قصور ہوگا تبھی اسے طلاق ہوئی ہوئی۔ ہاں ایک کڑوی سچائی یہ بھی ضرور ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ عورت کو کھلی تجوری کی طرح دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس تک رسائی آسان سمجھی جاتی ہے۔ البتہ ایک طلاق یافتہ عورت سے کم ہی کوئی کنوارا شادی کرتا ہے۔

اکثرایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اس کے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اس کی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی۔ بعد میں کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا بھلے وہ اپنی زندگی میں خوش ہو۔ معاشرہ اس کو یہ بات اتنی بار یاد دلاتا ہے کہ آپ خود بھی کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید ان میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ بعض اوقات ایسی ہی وجوہات ایک عورت کے لیے مشکلات کھڑی کر دیتی ہیں۔

یہ بات 2011 کی ہے۔

ہمارے جاننے والے سے شادی کا دعوت نامہ آیا تو کارڈ دیکھ کے حیرانی ہوئی کہ اس لڑکی کی شادی ہو رہی ہے جسے میں جانتی ہوں۔ اس کی اس وقت عمر کوئی 15 یا 16 سال ہوگی۔ خیر شادی کافی دھوم دھام سے ہوئی۔ لڑکے کی عمر بھی بیس بائیس سال کے لگ بھگ تھی۔

کافی ٹائم بعد میرا جانا ان کے گھر ہوا تو وہی بچی میرے سامنے تھی پر اس نے ایک تین سال کا ایک بچہ گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ کے شوہر کیا کام کرتے ہیں تو وہ میری طرف دیکھ کے بولی۔ ’آنٹی دو سال پہلے اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔‘

مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ پر میں نے صرف ’اوہ‘ کہہ کر چپ ہوگئی کیونکہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اس سے کریدتی اور وجہ پوچھتی۔ پر اس لڑکی کی ماں خود ہی بتانے لگی کہ اس کی سوتیلی ساس اور نندوں نے اس کا جینا مشکل کیا ہوا تھا۔ ’بات بات پہ اس کو شوہر سے پٹوا دیتی تھیں۔ جب یہ بیمار ہوتی تھی تو ہسپتال لے کے نہیں جاتے تھے ہمیں فون کرکے بلاتے تھے کہ اس کو اپنے گھر لے جاؤ وہاں کسی ڈاکٹر کو دیکھا دینا۔‘

جیسے جیسے اس بچی کی ماں بیٹی کے ساتھ ہوئے ظلم کی داستان سنا رہی تھی اور ان لوگوں کو کوس رہی تھی میں خاموشی سے سنتی رہی۔ مجھے کہیں نہ کہیں اس بچی کی ماں بھی مجرم لگ رہی تھی کیونکہ جب مجھے اس بچی نے کہا (شادی سے پہلے)  کہ مجھے پڑھنا ہے آپ میری امی سے بات کریں کہ مجھے پڑھنے دیں ابھی میری شادی نہ کریں۔  میں نے یہی جب اس عورت سے کہا کہ ابھی یہ بہت چھوٹی ہے اس کو پڑھنے دیں تو اس کا جواب تھا کہ پڑھ کے کون سا اس نے افسر لگ جانا ہے۔ ’کرنا تو وہی ہانڈی چولہا ہے۔ وہاں جا کے بھی پڑھ لے گی اگر پڑھنا ہوگا۔‘

اس کی ماں کا اتنے سال پہلے دیا جواب میرے کانوں میں گونجنے لگا۔ خیر میں نے ان سوچوں سے خود کو نکالتے ہوئے اس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: ’بیٹا آگے کا کیا سوچا ہے؟‘

اس سے پہلے وہ کچھ جواب دیتی ماں بولنے لگی کہ ’آگے کیا کرنا ہے جوان بیٹی کو گھر تھوڑا ہی بٹھا کے رکھ سکتے ہیں۔ بس کوئی اچھا رشتہ نہیں مل رہا جو بچے کو بھی ساتھ رکھے کیونکہ باپ نے بچہ ماں کو دے دیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوچتی ہوں اس بچی کا کیا قصور کہ 20 سال کی عمر میں طلاق ہوگئی اور پھر اس بچے کا کیا قصور جس کا بچپن باپ کے پیار سے محروم ہو کے رہ گیا۔ میرے خیال میں جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔ بعض دفعہ ہمارے جلدی میں کیے گئے غلط فیصلے ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔

اس لڑکی کے مطابق ’میں ہر ایک کو اپنی صفائی دے دے کے تھک گئی ہوں پر پھر بھی محلے کی عورتیں باتیں کرتیں ہیں کہ ضرور میرے اندر ہی کوئی قصور ہوگا تبھی نوبت یہاں تک پہنچی۔‘

ایک عورت کو کسی عورت کے کردار پر بات کرنے سے پہلے کم از کم ایک بار سوچنا ضرور چاہیے۔ اگر کسی کو سہارا نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کے لیے مشکلات تو کھڑی نہ کریں۔

میرے خیال میں ایک عورت کو جب ایک ’فل سپورٹ‘ ملتی ہے (اس کے خاوند یا والدین کی) تو وہ نہ صرف ایک اچھی ماں بلکہ ایک اچھی بیوی بیٹی بہن بن کر دکھاتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایک عورت کا مقام کیا ہے۔ اس کی پسند ناپسند کیا ہے اور اس کی ضرویات کیا ہیں۔ جب اس کا جواب ملے گا اور اس پہ عمل ہوگا تو آنے والی نسلوں کو ایک اچھا معاشرہ خوش آمدید کہےگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ