شادی سے ماں بننے تک کا مشکل سفر!!

جب میں ڈاکٹر کے پاس جانے کی تجاویز سے چڑ کر کہتی کہ ’جب ہونا ہو گا بچہ ہو جائے گا‘ تو میرے اردگرد لوگ مجھے ایسے دیکھتے جیسے میں پاگل ہوں۔

بچے عمومی طور پر سب کو پسند ہوتے ہیں لیکن کیا سب لوگ بچہ پیدا کرنے اور پالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں؟(اے ایف پی)

شادی کرنے کا فیصلہ ہو یا بچے پیدا کرنے کا معاملہ، اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین کی مرضی اور سوچ کو اہمیت نہیں دی جاتی۔

ہمارے معاشرے میں کیا کوئی عورت شادی کے بعد بچہ نہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے؟ ایسا تصور بھی ہمارے معاشرے کے لیے ناممکن ہے۔

چند ایسی عورتیں شاید ہوں جن کو یہ فیصلہ کرنے کی آزادی ہو اور وہ برملا اس کا اظہار بھی کرتی ہوں لیکن عورت کی شناخت، بقا، اہمیت اور بالخصوص شادی شدہ عورت کی کامیابی اس کے ماں بننے سے جوڑ دی گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو خواتین بچہ پیدا نہیں کر سکتیں ان کی شادی بہت کمزور پڑ سکتی ہے۔ بانجھ پن کو عورت کی سب سے بڑی کمی سمجھا جاتا ہے۔

بچہ نہ ہونے کی صورت میں سارا قصور بھی عورت کا سمجھا جاتا ہے اور سماجی دباؤ اور بے اعتنائی کا شکار بھی عورت ہی ہوتی ہے۔

ایسی عورتوں کی زندگی کو بے مقصد بھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سوچ رکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ 

بچے عمومی طور پر سب کو پسند ہوتے ہیں۔ لیکن کیا سب لوگ بچہ پیدا کرنے اور پالنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں؟

شادی شدہ جوڑوں پر خاندان اور سماج کا دباؤ کسی نہ کسی طرح ضرور اثر انداز ہوتا ہے۔

مہذب دنیا میں اس حساس موضوع پر بات کرنا ایک معمول ہے۔ اس گفتگو کے بعد ہی جوڑے فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں والدین بننا چاہیے۔

ہمارے ہاں اس موضوع پر اردگرد کے لوگ حتمی سوچ رکھتے ہیں۔ شادی کا مطلب ہے کہ بس اب آپ نے بچہ پیدا کرنا ہے۔

شادی سے دو ماہ بعد ہی کچھ لوگ اشارے کنائے میں اور کچھ براہ راست آپ سے سوال کرنے لگتے ہیں آپ کب خوش خبری سنا رہی ہیں۔

شادی میں دو انسان ایک نئی زندگی کا آغاز کر تے ہیں ان کو بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ لیکن لوگ شادی کی تقاریب کی کامیابی کو ہی شادی کی کامیابی سمجھنے لگتے ہیں اور اگلی ذمہ داری کی طرف آپ کو دھکا دینے لگتے ہیں۔

مجھے بچے بہت پسند ہیں اور ماں بننے کا شوق بھی تھا۔ پاکستان میں شادی کی عمر کے حساب سے میں نے دیر سے شادی کی۔

جو لوگ شادی کے لیے مجھ سے سوال کرتے تھے وہ یہ بھی کہتے تھے کہ بعد میں بچہ نہیں ہو گا۔

میں سوچتی تھی کہ جب ذہنی طور پر شادی کے لیے ہی تیار نہیں تو اگلے مرحلے کی فکر کا کیا کروں؟

لیکن ان جملوں کی وجہ سے شادی کے فیصلے کے وقت بھی میرے ذہن میں کہیں یہ خدشہ جگہ بنا چکا تھا کہ شاید میری اولاد نہ ہو۔

مجھے اس سماجی دباؤ نے اس خوف کا شکار بھی کر دیا کہ کیا ہمارے ہاں شادی کا مطلب اور مقصد صرف بچہ پیدا کرنا ہے؟ اس کے علاوہ زندگی میں شادی کا کوئی کردار نہیں؟

خیر اللہ اللہ کر کے شادی کر لی ہم نے اور دو ماہ گزرے نہیں تھے کہ بچے کا سوال سر اٹھانے لگا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ میرے میاں اور میرے درمیان اس موضوع پر نہ شادی سے پہلے کوئی سنجیدہ بات چیت ہوئی نہ شادی کے بعد کے ابتدائی عرصے میں۔

لیکن میرے ارد گرد جیسے یہ سوال چکر کاٹ رہا تھا۔ کوئی ہنستے ہنستے کہتا کہ شادی کر لی ہے اب بچہ بھی پیدا کر لو۔

کوئی ڈراتا کہ بچہ پیدا کر لو ورنہ دیر ہو جائے گی اور کوئی تو سیدھا سیدھا حملہ ہی کر دیتا کہ بچہ کیوں نہیں پیدا کر رہی ہو؟

میرے بعد خاندان میں چند شادیاں ہوئیں اور ان کے بچے بھی ہو گئے۔ جب میں کسی کی طرف مبارک باد کے لیے جاتی تو مجھے دعا بھی ترس کھانے والے انداز میں دی جاتی۔

ساتھ ایک آہ بھی ہوتی ’اللہ تمہیں بھی اولاد والا کرے۔‘ میں آمین کہتی تو بھی خاندان کی خواتین مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتیں۔ چپ رہتی تو بھی نظروں میں عجیب سا وہم نظر آتا۔

ان مواقعوں پر ڈاکٹرز بھی بتائے جاتے ہیں، ہسپتال بھی اور علاج ٹوٹکے بھی۔ اگر کسی کی تجویز پر عمل نہ کرتی تو وہ مجھے ایسے دیکھتے جیسے میں کوئی مجرم ہوں۔

کچھ لوگ وظیفے بھیجتے اور کچھ نے میری ماں کو دم بھی بتائے اور کسی نے ایک جادوئی پھکی کی ترکیب بتائی۔

ان سب خیر خواہوں میں سے کبھی بھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں بچہ پیدا کرنا بھی چاہتی ہوں یا نہیں۔ کہیں نہ کہیں یہ سب باتیں مجھ پر دباؤ بڑھا رہی تھیں۔

وہ پوچھتی تھیں کہ ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتی تو میں ان تجاویز سے چڑ کر کہتی کہ ’جب ہونا ہو گا بچہ ہو جائے گا۔‘

میرے جواب کے بعد لوگ مجھے ایسے دیکھتے تھے جیسے میں پاگل ہوں۔ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے لیے بھی مجھ پر دباؤ تھا۔

شادی کے دوسرے سال میں نے خوف کے مارے ڈاکٹرز سے چیک اپ بھی کروا لیا۔ ان کے مطابق کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس کا علاج کروایا جاتا۔

جب کبھی میں کسی کی پریشانی کو دیکھ کر ڈاکٹر کی بات بتاتی تو کہیں اور سے چیک کرا لو کا تقاضہ ہونے لگتا۔

مجھے تو چونکہ بچہ پیدا کرنے کا شوق تھا اس کے باوجود یہ تفتیش اور تشویش کا عمل کافی تکلیف دہ تھا۔

کچھ لوگوں نے اپنے تئیں یہ طے کر لیا کہ میں بچہ پیدا نہیں کر سکتی کچھ کا خیال تھا کہ شاید بچہ پیدا ہی نہیں کرنا چاہتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہر بار خاندان کے مختلف افراد کی طرف سے جب بھی اس موضوع پر مجھے لیکچر دیا جاتا میں مزید چڑ جاتی۔

شادی کے چوتھے سال تک میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ بس اب مجھے بچہ پیدا ہی نہیں کرنا۔

یہ عجیب بات ہے کہ سب میرے پیچھے پڑ گئے ہیں لیکن پھر میں سوچتی کیا میری اتنی بڑی خواہش میں اس لیے چھوڑ دوں کہ لوگ مجھے خواہ مخواہ میں زچ کر رہے ہیں۔

شادی کے چار سال بعد اللہ نے مجھے صاحب اولاد کیا لیکن میں سوچتی ہوں ایسے خواتین جو بچے کی خواہش نہ رکھتی ہوں یا انہیں شوق نہ ہو تو ان کے ساتھ یہ معاشرہ کیا کرتا ہوگا؟

پھر وہ خواتین جن کی خواہش اور شوق کے باوجود ان کے ہاں اولاد نہیں ہوتی وہ اس سماجی دباؤ سے کیسے نمٹتی ہوں گی؟

میں ایسے بہت سے جوڑوں کو جانتی ہوں جو بغیر اولاد کے بھی خوش ہیں لیکن سماج کی نظروں میں وہ نامکمل ہیں اور قابل ترس ہیں۔

سماج بار بار ان کو اس کمی کا احساس دلاتا ہے جب تک کہ ان کے رشتے میں دراڑ نہ پڑ جائیں۔

خیر اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا لیکن حیران کن طور پر سوالات کا سلسلہ اس کی پیدائش پر بھی نہیں رکا۔

ہر طرف سے دو بچے ہونے چاہیں تین بچے ہونے چاہیں۔ اب وقفہ نہ کرنا جلدی سے دوسرا بچہ کر لو جیسی گفتگو شروع ہو چکی ہے۔

ماں بننے کا عمل جسمانی اور جذباتی لحاظ سے ایک مشکل اور آزمائش والا عمل ہے۔ حمل کے آٹھویں مہینے میں گرنے سے میرے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حمل کی آخری چھ ہفتے جگر کا مسئلہ بن گیا۔

بچے کے ساتھ زندگی کیسے بدلتی ہے اس کا احوال اگلی تحریر میں بتاؤں گی۔

بچے نہ ہونے کی صورت میں شادی کو ناکام اور زندگی کو نامکمل یا بے مقصد قرار دینا بھی زندگی کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اگر دو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں تو وہ بچوں کے بغیر بھی خوش رہیں گے، جو خوش نہیں وہ چھ بچوں کی صورت میں بھی ناخوش رہیں گے اور اپنے ساتھ ساتھ ان بچوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوچ کا انداز بدلا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ