گیس ناپید لیکن کنفیوژن وافر مقدار میں

معاشی بدحالی‎ ہو یا مہنگائی، اہم ملکی اور سیاسی معاملات ہوں، یا عدالتی کارروائیاں ہوں، ہم سب آڈیو اور ویڈیو لیکس میں پھنس چکے ہیں۔

کراچی میں 29 اکتوبر کو مہنگائی کے خلاف مظاہرہ (اے ایف پی)

‎ملکی سیاست اور صحافت اس وقت آڈیو اور ویڈیو لیکس کی زد میں ہیں۔ مہنگائی ہو، منی بجٹ کی شنید ہو، سردیوں میں گیس ناپید ہو لیکن حکومت، اپوزیشن اور ہم میڈیا سب مل کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔

آزادی پاکستان سے لے کر آج تک ہر سکینڈل پر کمیشن بنا، لمبی چوڑی رپورٹیں بنیں، لیکن ہم بحیثیت قوم اپنی غلطیوں سے سیکھنے سے انکاری ہی رہے۔

ایک واقعہ ہو جائے سیاست دانوں سے لے کر میڈیا تک رونا دھونا اور مذمتیں کرنا شروع کردیتے ہیں، لیکن دو دن بعد سب کچھ بھولنے کے ہم عادی ہو چکے ہیں، جس کی بہترین مثال آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہے، جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

ہم کچھ دن روئے دھوئے اور قوم کو نیشنل ایکشن پلان کی بتی کے پیچھے لگا کر چند سال بعد سہی لیکن پاکستانی طالبان سے مذاکرات میں مشغول ہوگئے۔ ان والدین کو اعتماد میں لینے تک کی زحمت نہیں کی گئی جو اپنے لخت جگر کے ساتھ ساتھ دنیا کھو چکے ہیں، جن کے آنسو تک خشک ہوچکے ہیں۔ 

‎یہ تو صرف ایک مثال ہے۔ ہم سب، ہمارا سماج، بلکہ پورا ملک اسی ڈگر پر چلایا جارہا ہے۔ جسٹس (ر) ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو لیکس سامنے آئیں جس میں وہ مبینہ طور پر تین دفعہ منتخب وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی کو سزا دینے کی بات کررہے ہیں کیونکہ ’عمران خان کو لانا ہے‘۔ (اب اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ آڈیو اصلی ہے یا جعلی)، لیکن اس آڈیو کے سامنے آنے کے بعد میڈیا میں  بھونچال آگیا، آدھے چینلز اسے صحیح ثابت کرنے جبکہ آدھے اسے جعلی ثابت کرنے میں لگ گئے۔ حکومت وقت کھل کر جسٹس ثاقب نثار کی حمایت میں کود پڑی تو اپوزیشن ثاقب نثار کے خلاف۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

‎ایک سابق چیف جسٹس پر اتنے سنجیدہ الزامات کے (جوکہ پہلی بار نہیں لگائے گئے) بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس معاملے پر عدالت میں ہی کارروائی ہوتی اور عدالت ہی ان الزامات اور اس آڈیو کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتی۔ لیکن ایک طرف میڈیا نے اپنی عدالت لگائی، تو دوسری طرف حکومت اور اپوزیشن نے اپنی۔ 

‎یہی معاملہ قومی اسمبلی کے حلقہ 133کے ضمنی انتخاب کا ہے جہاں ن لیگ پر پیسے دے کر ووٹ فروخت کرنے کی مبینہ ویڈیو سامنے آئی، جس کے بعد ن لیگ نے الٹا پیپلز پارٹی پر ووٹ خریدنے کا الزام لگا دیا۔ 

‎اہم ملکی اور سیاسی معاملات ہوں، عدالتی کارروائیاں ہوں، ہم سب آڈیو اور ویڈیو لیکس میں پھنس چکے ہیں۔

‎ملک کو درپیش مسائل، خصوصاً تیزی سے گرتی ہوئی معیشت، پر کوئی بحث و مباحثہ نہیں، پچھلے تین سالوں میں روپے کی قدر میں کمی آتی رہی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم نے ملک کو گروی رکھ دیا ہے لیکن ہر کوئی آڈیو، ویڈیو لیک کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

‎مان لیا کہ عمران خان سے حکومت نہیں چل رہی لیکن اپوزیشن  کی بطور اپوزیشن  کارکردگی پر اور ان کی پرفارمنس پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ پی ڈی ایم اجلاسوں پر اجلاس منعقد کیے جا رہی ہے، پارلیمان کے اہم بلوں پر ہر مرتبہ حزب اختلاف کو شکست ہورہی ہے۔ حتیٰ کہ سینیٹ، جہاں اپوزیشن کی اکثریت ہے، وہاں بھی حکومت، جو عوام میں تیزی سے مقبولیت کھو رہی ہے، اپوزیشن کو چاروں شانے چت کر دیتی ہے۔

‎بھلا ہو بےچارے مولانا فضل الرحمٰن کا جو پہلے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سینڈوچ بنے رہے اور اب ن لیگ کی راہ تک رہے ہیں جو کہ مفاہمت اور مزاحمت  کے بیانیے میں کنفیوژ رہتے رہتے مولانا کو بھی کنفیوژ کر گئے ہیں۔

مولانا بحق بجانب ہیں اس استفسار میں کہ بھائی اب آپ فیصلہ کرلیں کہ مفاہمت چاہ رہے ہیں یا مزاحمت؟ 

‎حکومت اپنی جگہ کنفیوژ ہے، وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش میں ہے کہ اور کتنا عرصہ اقتدار کی سیڑھی انہیں نصیب رہے گی۔ اپوزیشن کنفیوژ ہے کہ کیا اب اعتبار کر کے مفاہمت ہی کو بڑھایا جائے۔ میڈیا لیکن ان دونوں سے زیادہ کنفیوژ ہے کہ آڈیو اور ویڈیو لیکس میں سے جعلی کونسی ہے اور اصلی کون سی۔ 

‎اس ملک میں آج کل گیس ناپید ہوچکی ہے کنفیوژن البتہ وافر مقدار میں موجود ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس کے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ