ٹوئٹر: بغیر اجازت لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوزشیئر کرنے پر پابندی

جیک ڈورسی کے استعفے کے بعد پراگ اگروال کا کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا بڑا پالیسی اعلان ہے۔

12 اکتوبر 2021 کو ماسکو میں لی گئی اس تصویر میں سمارٹ فون کی اسکرین پر امریکی سوشل نیٹ ورک ٹوئٹر کا لوگو دکھایا گیا ہے  (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے عام لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب یہ ہوگا کہ لوگ اپنی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کی صورت میں انہیں ویب سائٹ سے ہٹانے کا کہہ سکتے ہیں۔ عوامی شخصیات اپنی تصاویر نہیں ہٹوا سکیں گے جب تک کہ انہیں ہراساں نہ کیا جا رہا ہو اور ایسے معاملات میں جہاں تصاویر اور ٹویٹس عوامی مفاد میں ہوں یا ’عوامی بیانیے کی اہمیت میں اضافہ کریں‘ تب وہ موجود رہیں گی۔

پیر کو جیک ڈورسی کے استعفے کے بعد پراگ اگروال کے کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا بڑا پالیسی اعلان ہے۔ اعلان کے مطابق نئے رولز ’نجی معلومات‘ سے متعلق ٹوئٹر کے موجودہ قواعد کی توسیع ہیں۔

موجودہ قواعد کے تحت لوگوں کے رہائشی پتے اور شناختی دستاویزات جیسی معلومات شیئر کرنے پر پابندی ہے۔

نئے قواعد ٹوئٹر کی ناروا پالیسی کے قواعد سے مختلف ہیں جو ایسی تصاویر کو ہٹانے کے لیے ہیں جنہیں ہراسانی یا ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔

نئے قواعد مرضی کے بغیرعریانیت سے متعلق پہلے سے موجود پالیسی سے بھی الگ ہیں جو ایسے واقعات کا احاطہ کرتی ہے، جن میں عوامی شخصیات اور عام لوگوں کی عریاں تصاویر ان کی اجازت کے بغیر شیئر کی گئی ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹوئٹر نے اعتراف کیا ہے کہ ایسے معاملات سامنے آئیں گے جن میں ’بحرانی صورت حال، جیسا کہ کسی پرتشدد واقعے کے شکار فرد کی مدد کی کوشش یا مفاد عامہ کے اعتبار سے اہم واقعے (جس کی خبر بنتی ہو) کے طور پر، اور ہو سکتا ہے کہ اس کی اہمیت فرد کی حفاظت کو لاحق خطرات سے بڑھ کر ہو تو اس صورت میں تصاویر شیئر کی جا سکتی ہیں۔‘

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ ان حالات میں تصویر کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے سیاق و سباق کا اندازہ لگایا جا سکے اور ٹوئٹر فیصلہ کرسکتا ہے کہ اسے بہرحال ویب سائٹ پر موجود رہنا چاہیے۔

اس میں ایسی تصاویر شامل ہو سکتی ہیں جو پہلے ہی عوامی سطح پر دستیاب ہوں یعنی وہ تصاویر جنہیں خبروں کی ویب سائٹ نے شائع کر رکھا ہو یا ’کوئی مخصوص تصویراور اس کے ساتھ ٹویٹ کیا گیا متن جو عوامی بیانیے کو فروغ دے، عوامی مفاد میں شیئر کی جا رہی ہو یا اس کا تعلق کمیونٹی کے ساتھ ہو۔‘

ٹوئٹر کے مطابق: ’ٹوئٹر پر تحفظ کا احساس ہر کسی کے لیے مختلف ہوتا ہے اور ہماری ٹیمیں اسے سمجھنے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا کام کبھی ختم نہیں ہو گا اور ہم اپنی مصنوعات کو زیادہ پائیداراور شفاف بنانے کے لیے سرمایہ لگاتے رہیں گے تاکہ اپنی خدمات استعمال کرنے والے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا جاری رکھیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی