پنجاب میں کرونا کے خلاف ’ریڈ مہم‘ اور ویکسین کی بوسٹر ڈوز

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبے بھر میں ریڈ مہم کے ساتھ ساتھ کرونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ ریڈ مہم کیا ہے اور ویکسین کی بوسٹر ڈوز کس کو لگائی جا سکتی ہیں؟

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ بوسٹر ڈوز کے لیے کوئی بھی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کرونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایسا دنیا میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی نے بدھ کی شام کرونا کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہیلتھ ورکرز اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت بوسٹر ڈوز لگائی جائیں گی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ بوسٹر ڈوز کے لیے کوئی بھی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔ 

واضح رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کرونا کے خلاف بوسٹر ڈوز لگانے کی اجازت منگل کی رات کو دی تھی۔

این سی او سی نے بوسٹر ڈوز کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا ہے جن میں یہ ڈوز ہیلتھ ورکرز، 50 سال سے زائد عمر کے افراد اور وہ افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہے کو لگائی جائیں گی۔

یہ بوسٹر ڈوز مفت لگائی جائیں گی اور یہ کرونا کے خلاف لگوائی جانے والی ویکسینیشن کی دوسری خوراک  کے چھ ماہ کے بعد لگوائی جا سکتی ہیں۔

بوسٹر ڈوز کیوں ضروری ہے؟

پنجاب کی کرونا ایڈوائزری کمیٹی کے اہم رکن اور پلمنالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حیات نے کرونا کے خلاف بوسٹر ڈوز کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اسرائیل میں ایک تحقیق کی گئی ہے جس میں معلوم ہوا کہ کرونا کے خلاف ویکسی نیشن لگوانے کے چھ ماہ بعد جسم میں اینٹی باڈیز کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس کے بعد یورپی ممالک میں بوسٹر ڈوز لگانے کا آغاز کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تیسری خوراک عمر رسیدہ لوگوں یا ان لوگوں کے لیے تھی جو پہلے سے کسی بیماری کا شکار ہیں اور ان کی قوت مدافت کمزور ہے۔ اس کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن( ایف ڈی اے) نے بھی اس کی اجازت دے دی اور یورپی ممالک میں بوسٹر ڈوز 40 سال کے افراد کو بھی لگانا شروع کر دی گئی۔

ڈاکٹر جاوید حیات کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاں تو ابھی بیشتر لوگوں نے کرونا کے خلاف ویکسینیشن کی دوسری خوراک بھی نہیں لگوائی تو وہ بوسٹر ڈوز کیسے لگوائیں گے؟‘

’سائنسی اعتبار سے ہمارے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ بوسٹر ڈوز لگوانے سے انفیکشن ریٹ کم ہو سکتا ہے۔ بوسٹر ڈوز تب لگانی چاہیے جب آپ کی پوری کمیونٹی کو ویکسین کی پہلی دونوں خوراکیں مل چکی ہوں اور ہمارے ہاں تو ابھی صرف 24 فیصد لوگ پوری طرح ویکسینیٹد ہیں۔‘

ان کے مطابق بوسٹر ڈوز ان ممالک میں لگی ہیں جہاں 70 سے 80 فیصد تک آبادی کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگ چکی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا بوسٹر بھی اسی ویکسین کی لگے گی جو پہلے لگ ہیں؟

ڈاکٹر جاوید حیات اس بارے میں کہتے ہیں کہ ’بوسٹر ڈوز کے لیے اگر آپ نے فائزر یا سائنو فام کی دو خوراکیں لی ہیں تو تیسری بوسٹر ڈوز بھی آپ اسی کی لگوا سکتے ہیں لیکن بین الاقوامی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ مکس اینڈ میچ کر کے ویکسین لگواتے ہیں تو وہ آپ کی اینٹی باڈیز کے ردعمل کو زیادہ تحفظ دیں گی۔‘

ریڈ (RED) مہم کیا ہے؟

صوبائی وزیر صحت اور چیف سیکرٹری پنجاب کی زیر صدارت بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کرونا ویکسینیشن مہم ’ریچ ایوری ڈور‘  (RED)کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا۔

یہ مرحلہ 31 دسمبر تک جاری رہے گا جس کے دوران دو کروڑ 67 لاکھ افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جبکہ پہلے مرحلے میں ایک کروڑ 32 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی گئی۔

حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں ویکسین لگانے کے لیے 18 ہزار سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ دوسری ڈوز کے لیے لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے اضلاع میں کال سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں۔

اس بارے میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح اب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ البتہ جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون سامنے آنے کے بعد ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔‘ اس سے پہلے اس مہم کا پہلا مرحلہ 25 اکتوبر سے 30 نومبر تک جاری رہا۔ 

لاہورکے ایکسپو سینٹر میں کرونا ویکسینیشن سینٹر کیوں بند کیا گیا؟

چند روز قبل لاہور کے ایکسپو سینٹر میں کرونا ویکسی نیشن سینٹر کو بند کر دیا گیا تھا۔

محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان حماد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایکسپو سینٹر کے ویکسی نیشن سینٹر کو بھی RED  مہم کے تحت بند کیا گیا ہے، ’کیونکہ اب ویکسی نیشن کی سہولت عوام کے دروازے پر جا کر دی جا رہی ہے۔‘ 

کرونا ایڈوائزری کمیٹی کے رکن ڈاکٹر جاوید حیات کہتے ہیں کہ اس وقت کرونا کے مثبت کیسسز کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ہسپتالوں میں بھی مریضوں کی تعداد کم ہے ایسے میں ایکسپو سینٹر والے یونٹ کو کھلا رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

’جہاں تک وہاں ویکسین لگانے کا تعلق ہے تو حکومت نے اپنی پالیسی تبدیل کر کے گھر گھر جا کر ویکسین لگانا شروع کی ہے اس لیے بھی ایکسپو سینٹر کے کھلے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔‘

اومیکرون کتنا خطرناک ہے؟

ڈاکٹر جاوید حیات کہتے ہیں کہ ’اس نئے ویریئنٹ کے حوالے سے بہت سی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جن میں یہ تک کہا جا رہا ہے کہ یہ 15 منٹ میں آپ کے پھیپھڑے تباہ کر دیتا ہے حالانکہ ابھی تک ہماری اطلاعات کے مطابق ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘

’یہ خطرناک ویرینٹ نہیں ہے ہاں اس کا ایک سے دوسرے کو لگنے کا عمل تیز ہے جس سے ری انفیکشن ریٹ زیادہ ہو سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ سے اومیکرون کے جو کیس رپورٹ ہوئے ان میں سے بیشتر کو تو ہسپتال جانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی اور یہ وہ لوگ تھے جنہیں کوئی بھی ویکسین نہیں لگی تھی۔

’اس ویرینٹ کے حوالے سے تحقیق جاری ہے اس لیے اس وقت اس وائرس کو انتہائی خطرناک کہنا بہت مشکل ہے۔‘

سیکریٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور میں کرونا وائرس نے چار افراد کی جان لی، 46 نئے کیس رپورٹ ہوئے جبکہ صوبہ بھر میں مثبت کیسسز کی تعداد 91 رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت