کام کرنے والی ماسی اور خاتون خانہ کی عید کہانی

بیشتر خواتین کی عید باورچی خانہ میں گزرتی ہے وہ بھی کسی مدد کے بغیر کیونکہ گھر کے کام کاج میں مدد کروانے والی ماسی عید کی لمبی چھٹی لے گر گاؤں یا میکے چلی جاتی ہے۔

(اے ایف پی)

عید سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک کارٹون گردش کرتا دکھائی دیا جس میں ایک خاتون چہرے پر ماسک لگائے ہاتھوں میں دو سوٹ تھامے کھڑی ہیں۔ اس کارٹون کے نیچے کچھ یوں تحریر تھا: ’عید کے دو سوٹ لے لیے ہیں، انشاء اللہ ایک سوٹ پہلے دن پہن کر برتن دھونے ہیں اور ایک دوسرے دن پہن کر برتن دھونے ہیں۔‘

بات اس کارٹون تک ہی محدود نہیں ہے، فیس بک پر بنے خواتین کے ایک گروپ میں ایک اور دکھی خاتون کی پوسٹ پڑھی جس میں لکھا تھا کہ وہ ویلینشیا میں رہتی ہیں اور انہیں فوری طور پر گھر کے کام میں مدد کرنے کے لیے ایک ماسی درکار ہیں، ماسی رکھوانے والے کو انعام بھی دیا جائے گا۔

یہ کارٹون اور پوسٹ بیشتر خواتین کے دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ حقیقت اس سے کافی ملتی جلتی ہے۔  ہمیشہ سے یہی ہوتا رہا ہے کہ بیشتر خواتین کی عید باورچی خانہ میں گزرتی ہے وہ بھی کسی مدد کے بغیر کیونکہ گھر کے کام کاج میں مدد کروانے والی ماسی عید کی لمبی چھٹی لے گر گاؤں یا میکے چلی جاتی ہے۔

خواتین کی ماسی کے بغیر عید کیسے گزرتی ہے یہی جاننے کے لیے ہم ماڈل ٹائون لبنیٰ امیر کے گھر پہنچے۔ پورچ میں داخل ہوتے ہی دیکھا کہ لکڑی اور اینٹوں کے چولہے پر ایک دیگ چڑہی ہے اور ایک خاتون اس میں چمچ چلا رہی تھیں۔ یہ لبنیٰ کی ساس ہیں جو عید کے لیے حلیم تیار کر رہی تھیں۔

گھر کے اندر داخل ہوئے تو باورچی خانے میں بھی چولہوں پر دیچکے چڑھے تھے اور گھر کی خواتین مختلف پکوان تیار کرنے میں مصروف تھیں۔ لبنیٰ کے اس گھر میں 12 افراد رہتے ہیں جن میں کچھ چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لبنیٰ، ان کی ساس اور دیورانیاں عید کے دن کی تیاری کر رہے ہیں۔

لبنیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’آپ نے تو ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے یا یوں کہیں کہ زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔  ہمارے لیے کیا بیشتر خواتین کے لیے چاہے وہ کسی پیشے سے وابسطہ ہوں یا خاتون خانہ، عید کا دن دیگر دنوں سے زیادہ مشکل اور تھکا دینے والا ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ نے پورے روزے بھی رکھے ہوں۔ گھر کے کام میں مدد کروانے والی ماسیاں تو دو روز پہلے ہی چھٹی چلی گئیں۔ ہم  دیورانیاں جٹھانیاں مل کر عید سے پہلے ہی اس کا اہتمام کرنے لگتے ہیں۔‘

’عید کی صبح  معمول سے کافی پہلے اٹھنا پڑتا ہے یا یوں کہیے کہ چاند رات پر بچوں کی شاپنگ، چوڑیاں، جوتے مہندی لگوانا وغیرہ کرتے اتنا وقت ہو جاتا ہے کہ سونے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ الصبح گھر کے مرد نماز کے لیے تیار ہو کر مسجد چلے جاتے ہیں اور ہم بچوں کو تیار کر کے سویاں وغیرہ بنا لیتے ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ شوہر کے نماز پڑھ کر آنے سے پہلے تیار ہو جائیں بس پھر اس کے بعد چونکہ ہمارے گھر میں عید کے روز رات کا کھانا ہوتا ہے، تمام رشتہ دار آتے ہیں، پچاس ساٹھ افراد کا کھانا ہم گھر پر ہی تیار کرتے ہیں، کام والی ماسی ہوتی نہیں اس لیے پہلے سے تیاری کے باوجود چھوٹے چھوٹے کام کرتے اور آنے جانے والوں کی تواضع میں سارا دن باورچی خانے میں ہی گزر جاتا ہے اور اس پر گرمی بس نہ پوچھیں۔‘

لبنیٰ کہتی ہیں کہ گھر کے کام کاج میں مدد کرنے والی ماسی کے نہ ہونے سے کافی مشکل پیش آتی ہے۔ خاص طور پر جب آپ کے ساتھ چھوٹے بچے ہوں، ایک آپ کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور دوسرا اپنی طرف ایسے میں آپ کے گھر مہمانوں کا آنا جانا اور بڑی دعوت کا اہتمام بھی ہو تو بس دل چاہتا ہے کہ کوئی آپ کو بھی آرام سے بٹھا کر یہ کہے ’باجی آپ بیٹھیں میں سارا کام کر دوں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کہہ کر لبنیٰ ہنس پڑیں۔ ان کے خیال میں گھر کے مرد روزے رکھ کر خواتین سے زیادہ تھک جاتے ہیں اسی لیے نماز پڑھ کر آتے ان سب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تھوڑی دیر آرام کر لیں۔ بس پھر کیا بچے اور کچن خاتون کے کندھوں پر۔

کام والی ماسی عید کی چھٹی پر جاتے کیا سوچتی ہے؟

اس کے چہرے پر عجب سی مسکراہٹ تھی جیسے دل میں کہہ رہی ہو ’آیا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔‘

یہ قندیل ہے، مختلف گھروں میں کام کر کے روزی روٹی کماتی ہے۔ انہیں باجیوں سے شکایت ہے اور باجیوں کو ان سے۔ جی ہاں باجیاں جن کے گھر یہ مددگار کے طور پر کام کاج میں ہاتھ بٹاتی ہیں۔

قندیل ڈیفینس کے ایک گھر سے بڑی تیزی سے باہر نکل رہیں تھیں جب ہم ان سے ملے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ اس گھر میں کام کرتی ہیں اور جلد از جلد کام نمٹا کر گھر کو جا رہی ہیں۔

انڈپنڈینٹ اردو سے بات کرتے ہوئے قندیل نے اپنی مسکراہٹ کی وجہ کچھ  زیادہ ہی کھل کر بیان کر دی: ’میں تو باجی کی حالت سوچ کر ہنس رہی ہوں کی میرے بغیر وہ کیسے سارے کام نمٹائیں گی ویسے مجھے ترس بھی آرہا ہے کہ ان کے دو چھوٹے بچے ہیں اور گھر میں عمر رسیدہ ساس بھی مگر میں بھی مجبور ہوں عید ہمارے لیے بھی تو آتی ہے۔‘

قندیل کہنے لگی ’میں جلدی اس لیے جارہی ہوں کیونکہ میں نے بچے کی شاپنگ کرنی ہے اور پھر اپنے میکے جانا ہے اب میں پانچ روز بعد ہی آؤں گی۔‘

یہ ساری گفتگو قندیل کی باجی گیٹ کے پیچھے کھڑی سن رہی تھیں۔ ہم نے ان سے بات کرنے کے لیے جب ان کی طرف رخ کیا تو ان کا موڈ شدید خراب تھا، انہوں نے ہمارے منہ پر دروازہ دے مارا یہ کہہ کر کہ نہیں کرنی کسی میڈیا والے سے بات، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا آپ کو کیا احساس کہ خاتون خانہ کی عید کس قدر تھکا دینے والی ہوتی ہے۔

خیر اب ایسی بھی بات نہیں بہت سی ایسی خواتین بھی ہیں جو کام بھی کرتی ہیں اور انہیں عید کے روز اپنے گھر کو بھی دیکھنا ہے اور نوکری کو بھی جن میں ڈاکٹرز، میڈیا میں کام کرنے والی خواتین، نرسز، کال سینٹرز، وغیرہ پر کام کرنے والی خواتین شامل ہیں۔

 ویسے یہ عید کہانی لکھتے ہوئے میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ میری ماسی بھی تو ایک ہفتہ کی چھٹی چلی گئی، گھر اور آفس کیسے چلے گا؟ اس کا ایک حل ویسے لبنیٰ نے ہمیں بتا دیا تھا۔ آپ بھی آزما کر دیکھ لیجیے گا۔

لبنیٰ کہتی ہیں کہ ’عید کے دوسرے دن ہم دعا کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں اپنے گھر دوپہر اور رات کے کھانے پر بلا لے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ہم خود ہی کسی کے گھر چلے جاتے ہیں مہمان بن کر آخر ہمیں بھی تو تھوڑے ریسٹ کی ضرورت ہے۔‘

یہ کہہ کر انہوں نے زور کا قہقہ لگایا اور چولھے پر چڑھی سویٹ ڈش کے پتیلے میں زور سے چمچ چلانے لگیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر