بھارت کے ڈیفنس چیف کی ہلاکت پر پاکستانی آرمی چیف کا اظہار افسوس

بھارتی فضائیہ نے تصدیق کر دی ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

بھارتی فضائیہ نے تصدیق کر دی ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہیلی کاپٹر بدھ کی دوپہر جنوبی ریاست تمل ناڈو کے علاقے کنور میں گر کر تباہ ہو گیا تھا لیکن جنرل بپن راوت کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں تھی۔

تاہم اب بھارتی فضائیہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’ہم انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر 11 افراد بدقسمت حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

ٹویٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گروپ کیپٹن ورون سنگھ زخمی ہیں جن کا ویلنگٹن میں ملٹری ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

یہ حادثہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب 63 سالہ چیف آف ڈیفنس سٹاف اپنی اہلیہ اور دیگر 12 افراد کے ہمراہ روسی ساختہ ایم آئی 17 وی 5 ہیلی کاپٹر پر ڈیفنس سروسز سٹاف کالج جا رہے تھے۔

بھارتی ڈیفنس چیف آف سٹاف جنرل بپن راوت کی ہلاکت پر وزیراعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

نریندر مودی نے سلسلہ وار ٹویٹ میں کہا کہ ’مجھے تمل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد کی ہلاکت پر شدید صدمہ پہنچا ہے۔‘

انہوں نے لکھا کہ ’میری نیک تمنائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔‘

پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ندیم رضا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی جنرل بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔

اس سے قبل  بھارتی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے جنرل بپن راوت کے ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ’تاحال ہمیں ان (بپن راوت) کے بارے میں کوئی حتمی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔‘

جنرل بپن راوت کے برادر نسبتی یشوردھن سنگھ نے ٹائمز ناؤ سے بات کرتے ہوئے کہ انہیں حکام کی جانب سے دہلی طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارا رابطہ اے ڈی سی سے ہوا کرتا تھا لیکن وہ بھی اسی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے اس لیے ان سے بھی رابطہ ممکن نہیں۔‘

اس حوالے سے ٹوئٹر پر بھارتی فضائیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ جنرل بپن راوت کا ہیلی کاپٹر ’تمل ناڈو کے علاقے کُنور کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق موقع پر موجود ایک حکومت وزیر نے حادثے میں اب تک کم از کم سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حادثے کے مقام پر تین سے چار افراد کی لاشیں موجود ہیں لیکن ہم ان کی شناخت کی تصدیق نہیں کرسکتے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’کچھ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔‘

ایک سینیئر فوجی افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ دیگر سکیورٹی افسران کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار تھے اور ڈیفنس سروسز سٹاف کالج جا رہے تھے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ ’ٹائمز ناؤ‘ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں چیف آف ڈیفنس سٹاف، ان کی اہلیہ، دفاعی معاون، سکیورٹی کمانڈوز اور انڈین ایئر فورس کے پائلٹ سمیت کل 14 افراد سوار تھے۔

بھارتی نیوز چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں ضلع نیلگری میں کالج کے قریب ایک گھنے جنگلات والے علاقے میں حادثے کی جگہ پر ایک ملبے کو لگی ہوئی آگ کو دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حادثے کی کچھ ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے بدھ کی سہ پہر سلور ایئر فورس سٹیشن سے اڑان بھری اور کچھ مسافروں کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

جنرل بپن راوت بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف ہیں۔ انہیں31 دسمبر 2016 کو اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ یہ عہدہ بھارتی حکومت نے 2019 میں قائم کیا تھا اور انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی کئی نسلیں بھارتی مسلح افواج میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔

بپن راوت، جنہوں نے چار دہائیوں تک خدمات انجام دیں، بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور چین کی سرحد سے متصل لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ فورسز کی کمان کرتے رہے ہیں۔

بھارت کی شمال مشرقی سرحد پر شورش کو کم کرنے کا سہرا جنرل راوت کے سر جاتا ہے۔ وہ ہمسایہ ملک میانمار میں سرحد پار سے انسداد شورش آپریشن کی نگرانی بھی کرتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا