امریکہ سے جمہوریت پر مناسب وقت پر بات کریں گے: پاکستان

پاکستان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ’ڈیموکریسی سمٹ‘ کے لیے مدعو کیے جانے پر شکریہ تو ادا کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اس موضوع پر مستقبل میں ’مناسب وقت‘ پر بات کرے گا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ  ’پاکستان ایک فعال جمہوریت ہے جہاں عدلیہ خودمختار،  متحرک سول سوسائٹی اور میڈیا آزاد ہے‘ (اے ایف پی/ فائل)

پاکستان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ’ڈیموکریسی سمٹ‘ کے لیے مدعو کیے جانے پر شکریہ تو ادا کیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ اس موضوع پر مستقبل میں ’مناسب وقت‘ پر بات کرے گا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دونوں ہی دو طرفہ کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے طور پر  بڑھانا چاہتے ہیں۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے بدھ کی شام جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ڈیموکریسی سمٹ کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکہ کے شکر گزار ہیں۔‘

تاہم بیان میں اس ’ڈیموکریسی سمٹ‘ کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ کئی مسائل پر رابطے میں ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ ہم اس موضوع پر مستقبل میں کسی مناسب وقت پر بات کریں گے۔‘

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے جمہوریت کے عنوان پر کیا جانے والا یہ ورچوئل سمٹ رواں ماہ نو اور دس دسمبر کو منعقد  کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ورچوئل سمٹ میں شرکت کے لیے صدر جو بائیڈن کی جانب سے برازیل، بھارت اور پاکستان سمیت تقریباً 110 ممالک کو دعوت دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے اس سمٹ میں شرکت کے لیے روس اور چین کومدعو نہیں کیا جبکہ یورپی ملک ہنگری اور نیٹو اتحادی ترکی کو بھی اس سمٹ میں شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ 

روس اور چین اس سمٹ میں دعوت نہ دیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’سرد جنگ کے زمانے کی سوچ کا ثبوت‘ قرار دے چکے ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان ایک فعال جمہوریت ہے جہاں عدلیہ خودمختار،  متحرک سول سوسائٹی اور میڈیا آزاد ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان