پاکستان نے کبھی امریکی مفادات کے حق میں، کبھی خلاف کام کیا: اینٹنی بلنکن

اینٹنی بلنکن کا کہنا تھا کہ تمام ممالک بشمول پاکستان کو یہ چاہیے کہ وہ ان توقعات پر پورا اترے جو عالمی برادری کی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن منگل کو ایوان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے افغانستان سے انخلا کے معاملے پر ممبران کی جرح کا سامنا کر رہے ہیں (تصویر: سکرین گریب امریکی محکمہ خارجہ یوٹیوب چینل)

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے آپ کو عالمی برادری کے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا تاکہ وہ افغانستان کے حوالے سے عالمی برادری کی توقعات پر پورا اتر سکے۔

وہ منگل کو ایوان کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے افغانستان سے انخلا کے معاملے پر ممبران کی جرح کا سامنا کر رہے تھے۔

میساچوسٹس سے نمائندے بل کیٹنگ نے اینٹنی بلنکن سے سوال کیا کہ ’پاکستان نے گذشتہ 20 سالوں کے دوران بڑا متحرک اور بعض اوقات بڑا منفی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے طالبان کے نام کو بنانے میں کردار ادا کیا ہے اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے طالبان کے حقانی نیٹ ورک سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔‘

’گذشتہ ماہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بیان دیا تھا کہ افغانستان نے غلامی کی بیڑیاں توڑ دی ہیں۔ ہم سفارتی سطح پر یہ سنتے رہے ہیں کہ ہمارے پاکستان کے ساتھ مشکل تعلقات رہےہیں۔ تو اب جب ہم آگے کی جانب جا رہے ہیں اور خطے میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں تو ہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کیسے پرکھیں گے؟‘

اس سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ ’پاکستان کے گذشتہ 20 سالوں کے دوران کردار کے بارے میں آپ نے درست نشاندہی کی ہے۔ یہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں شرط لگانے کی طرح ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس میں حقانی گروپ سمیت طالبان کے ممبران کو مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس میں دیگر نکات بشمول انسداد دہشت گردی بھی شامل ہے۔ اس میں افغانستان کے بارے میں ہمارے مفادات کا ٹکراؤ بھی شامل ہے۔ اس میں انڈیا کا کردار بھی شامل ہے جو وہ افغانستان میں ادا کررہا ہے۔ تو اس کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جو کچھ بھی کیا گیا ہے وہ کبھی ہمارے مفادات کے خلاف کیا گیا اور کبھی حق میں۔‘

اینٹنی بلنکن کے مطابق: ’آگے بڑھنے کے دوران ہم تمام ممالک بشمول پاکستان سے یہ چاہیں گے کہ وہ ان توقعات پر پورا اترے جو عالمی برادری کی ہیں۔ تو پاکستان کو اپنے آپ کو عالمی برادری کے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا تاکہ وہ ان معاملات پر کام کر سکے اور توقعات پر پورا اتر سکے۔‘

امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے پیر کو کانگریس کے قانون سازوں کے تنقیدی اور چبھتے ہوئے سوالات کے جواب میں اس بات پر اسرار کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان میں بد ترین حالات کی بھی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

ان کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کانگریس کے سامنے دو روز تک جرح کا سامنا کریں گے، یہ سیاسی حریفوں کے لیے پہلا موقع ہے کہ وہ طالبان کی تیزی سے جیت پر امریکی انتظامیہ کو براہ راست چیلنج کریں کیونکہ صدر جو بائیڈن نے 20 سالہ امریکی فوجی مشن کا اختتام کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اینٹنی بلنکن نے ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ امریکیوں کی حفاظت کے بارے میں ’مستقل متوجہ‘ تھی اور وہ مغربی حمایت یافتہ حکومت کے ’مستقل اقتدار‘ میں رہنے کے بارے میں متعدد منظرناموں کا مسلسل جائزہ لے رہی تھی۔

افغانستان سے اتنی عجلت میں انخلا اور وہاں سے نکلنے کے کئی خواہشمندوں کو پیچھے چھوڑے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جب انہوں نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہیں ایک سپیشل امیگریشن ویزہ پروگرام ملا تھا جو ان لوگوں کے لیے تھا جنہوں نے افغانستان میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ لیکن وہ مہینوں سے بند اور غیر فعال تھا جسے انہوں نے زیادہ افرادی قوت اور مستعدی  کے ساتھ شروع کیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ سے سوال کیا گیا جب وہ ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے دیگر معاہدوں کو جن میں پیرس معاہدہ بھی شامل ہے ختم کرسکتے ہیں تو پھر انخلا کے معاہدے پر کیوں کاربند رہے جس  کی وجہ سے جانوں کا نقصان بھی ہوا اور کئی افغان پیچھے چھوٹ گئے اور عالہمی برادری کے سامنے امریکہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا؟

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان سے معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ نے کیا تھا جس میں ڈیڈ لائن طے کر دی گئی تھی اور طالبان نے کئی بار یہ واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ انخلا کے لیے طے کی گئی ڈیڈ لائن پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہیے ورنہ وہ اس معاہدے کو منسوخ سمجھیں گے جو ٹرمپ انتظامیہ سے کیا گیا تھا اور وہ حملے شروع کر دیں گے جو انہوں نے روکے ہوئے تھے۔ اگر ہم معاہدے پر عمل درآمد نہیں کرتے تو طالبان ہم پر حملے کرتے جس کے جواب میں ہمیں وہاں مزید فورسز پانچ یا 10 سال کے لیے بھیجنی پڑتیں۔‘

انخلا کے بعد وہ افغانستان میں اس بات کو کیسے یقینی بنائیں گے کہ وہ پھر سے دہشتگردی کا مرکز نہ بن جائے اس سوال کے جواب میں اینٹنی بلنکن نے کہا کہ ’افغانستان میں القاعدہ کو ختم کیا ہے اور اس کی امریکہ یا دیگر ممالک پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا ہے۔ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور ان کو اندازہ ہونا چاہیے کہ اگر وہ یہ کرتے ہیں تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ لیکن ہم ان کے وعدوں پر انحصار نہیں کر رہے ہم نظر رکھیں کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اور ہم یہ دیگر ممالک میں بھی کرتے ہیں جہاں ہمارے ’بوٹس آن گراؤنڈ‘ نہیں ہوتے۔ ہم ’ہائپر وجیلنٹ‘ رہیں گے۔‘

انہوں نے کمیٹی کے سامنے اس بات کا انکشاف کیا کہ افغان فورسز کو 20 سالوں کے دوران بہت سارا اسلحہ دیا گیا اور جب وہ ناکام ہوگئے تو سارا اسلحہ طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا لیکن ان کے مطابق اس اسلحے کی کوئی تزویراتی اہمیت نہیں ہے اور وہ پڑوسی ممالک کے لیے خطرناک نہیں ہے۔


ایک کروڑ 80 لاکھ افغانوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے: شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں انسانی صورتحال پر اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ افغانستان کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی اشد ضرورت ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’اس اہم اور نازک مرحلے پر افغانستان کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا ہوگا جس میں مالی اور سیاسی حمایت دونوں شامل ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم ہوائی جہازوں کے ذریعے افغانستان کو خوراک اور ادویات کی انسانی بنیادوں پر فراہمی کا سلسلہ پہلے ہی شروع کرچکے ہیں، یہ سلسلہ زمینی راستوں کے ذریعے جاری رہے گا۔‘

’ہم اقوام متحدہ کی چھتری تلے افغان عوام کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی میں مدد کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جس میں اجناس کے ذریعے معاونت بھی شامل ہے۔ ہم نقل وحرکت اور پاکستان سے راستے کی فراہمی کے ذریعے اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی میں سہولت کاری بھی جاری رکھیں گے۔‘

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ نہایت ضروری ہے کہ ایک حقیقت پسندانہ اور طویل المدتی سوچ اور انداز فکر کو اختیار کیا جائے۔‘

 

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن ال ثانی نے پیر کو دوحہ میں فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں افغانستان میں استحکام کے لیے قومی مفاہمت کو ’حفاظتی والوو‘ کے طور پر ضروری قرار دیا ہے۔

طویل عرصے سے قطر افغانستان کے معاملے میں مصالحت کنندہ کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔

قطر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے اور اب مغرب نواز معزول افغان حکومت کا میزبان ہے۔

قطر کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک افغانستان میں قومی مفاہمت کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔ ان کے بقول: ’ہمارا ماننا ہے کہ قومی مفاہمت افغانستان میں مستقبل میں استحکام کے لیے واحد حفاظتی والوو ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمن ال ثانی اتوار کو طالبان حکومت سے ملاقات کرنے والے سب سے سینیئر غیر ملکی رہنما بن گئے تھے۔

طالبان کے مطابق انہوں نے افغانستان کے نئے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات کی۔

پیر کو قطر کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آیا طالبان کو سفارتی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، اس حوالے سے باتیں غیر ضروری ہیں۔ زور افغانستان میں معاملات کو ٹھیک کرنے پر ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ طالبان کو اقوام متحدہ کے رکن کسی بھی ملک نے ابھی تک باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا جن میں قطر بھی شامل ہے۔


افغانستان میں طالبان نے اپنے سینیئر رہنما اور نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کی ہلاکت کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان کا ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے ٹوئٹر پر عبدالغنی برادر کا پشتو میں صوتی پیغام جاری کیا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’چند بری افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ افواہوں کے وقت سفر میں تھے اس لیے جلد تردید نہ کرسکے۔ ’الحمد اللہ ہم سب صحت مند ہیں۔‘

اطلاعات ہیں کہ عبدالغنی بردار طالبان تحریک کے رہنما ملا ہبت اللہ سے مشاورت کے لیے قندھار پہنچے ہیں۔

اس سے قبل ان کے بارے میں افواہیں تھیں کہ حقانی نیٹ ورک کے رہنما انس حقانی کے ساتھ ایک جھڑپ میں وہ ہلاک جبکہ انس زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان ذرائع تصاویر کے ذریعے انس حقانی کے زخمی ہونے کی تردید کر رہے ہیں۔

ملا عبدالغنی برادر کے ترجمان مولوی موسیٰ کلیم نے بھی ایک بیان میں اس خبر کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے میڈیا کو افواہوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔


’آج امید کا دن ہے‘: طالبان دور میں پہلی عالمی کمرشل پرواز کابل اتر گئی

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز پیر کو افغان دارالحکومت کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر گئی۔

گذشتہ ماہ ملک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد یہ اس ہوائی اڈے پر اترنے والی پہلی بین الاقوامی کمرشل پرواز ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے جانے والے طیارے میں سوار خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی کا کہنا تھا کہ ’طیارے میں تقریباً 10 سے زیادہ لوگ سوار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مسافروں کے مقابلے میں عملے کی تعداد زیادہ ہو۔‘

پی آئی اے کے ترجمان نے اختتام ہفتہ پر کہا تھا کہ فضائی کمپنی افغانستان کے لیے باقاعدہ کمرشل پروازوں کی بحالی میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں کے درمیان تواتر کے ساتھ پروازیں کب چلیں گی۔

30 اگست کو غیر ملکی فوج کے عجلت میں ہونے والے انخلا کے بعد ایک لاکھ 20 ہزار افغان شہریوں کو نکالنے کی کوشش میں کابل ہوائی اڈے پر حالات خراب ہو گئے تھے۔

تب سے طالبان قطر اور دوسرے ملکوں کی فنی معاونت سے کابل ہوائی اڈے کو فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

کمرشل پروازوں کو بحال کرنا طالبان کے لیے بڑی آزمائش ہو گی۔ طالبان کئی بار وعدہ کر چکے ہیں کہ جن افغان شہریوں کے پاس سفری دستاویزات ہوں گی انہیں ملک چھوڑنے کی آزادی ہو گی۔ دوسری جانب نیٹو ممالک اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے کی جانے والی انخلا کی مہلت ختم ہونے سے پہلے خطرے سے دوچار ہزاروں افغان شہریوں کو ملک سے نکالنے کے لیے وقت نہیں ملا۔

قطر کی فضائی کمپنی نے گذشتہ ہفتے کابل سے متعدد چارٹرڈ پروازیں چلائی تھیں جن میں زیادہ تر وہ غیر ملکی اور افغان شہری سوار تھے جو ملک نہیں چھوڑ سکے تھے۔

ایک افغان فضائی کمپنی کی اندرون ملک پروازیں تین ستمبر کو بحال ہوگئی تھیں۔ شلوار قمیص اور نمایاں نظر آنے والے ویسٹ کوٹ میں ملبوس ہوائی اڈے کے ایک ملازم کے بقول: ’یہ بڑا لمحہ ہے۔ ہم بہت پرجوش ہیں۔ آج امید کا دن ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسری فضائی کمپنیاں اسے دیکھیں اور واپسی کا فیصلہ کریں۔‘


طالبان تمام افغان فریقوں کو قومی مفاہمت میں شامل کریں: قطر

قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے اتوار کو افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کیے۔ وہ 15 اگست کے بعد سے کابل کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی اعلیٰ ترین عہدے دار ہیں۔

ایک طالبان عہدیدار نے ٹویٹ کیا کہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے نئی افغان حکومت کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، تاہم انہوں نے ملاقات کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

طالبان نے شیخ محمد کی اپنے نئے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات کی تصاویر جاری کی ہیں۔

مہمان وزیر کی سابق صدر حامد کرزئی کے ساتھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

دوحہ میں قطر کے وزارت خارجہ نے بھی شیخ محمد کی نئی افغان حکومت کے علاوہ معزول حکومت کے سابق چیف امن مذاکرات کار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور کرزئی سے ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق شیخ محمد نے ’افغان حکام پر زور دیا کہ وہ تمام افغان فریقوں کو قومی مفاہمت میں شامل کریں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ مذاکرات میں ’کابل ایئرپورٹ کے آپریشن اور سب کے لیے گزرنے اور سفر کی آزادی کو یقینی بنانے کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت شامل ہے۔‘

وزارت نے کہا کہ ’دونوں فریقوں نے دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قطر نے طویل عرصے تک افغانستان کے معاملے پر ثالث کا کردار ادا کیا ہے، جس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کی میزبانی اور پھر سابق صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم دینا شامل ہے۔

وہ ان دسیوں ہزار افغانوں کی بھی مدد کر رہا ہے، جنہیں ملک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان سے نکالا گیا اور اب دوسرے ملکوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ کسی بھی ملک نے ابھی تک طالبان کی نئی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کے پہلے دور حکومت (2001-1996) کو صرف تین ملکوں نے تسلیم کیا تھا۔


امراللہ صالح کے بھائی ہلاک

طالبان نے سابق افغان نائب صدر اور مزاحتمی تحریک کے اہم رہنما امراللہ صالح کے بھائی کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ بات ان کے بھتیجے عباد اللہ صالح نے بتائی ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کے عسکریت پسندوں نے وادی پنچ شیر میں روح اللہ عزیزی کو ایک ناکے پر روکا اور انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عباد اللہ صالح نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک تحریری پیغام میں بتایا: ’انہوں نے میرے چچا کو ہلاک کر دیا۔ انہوں نے انہیں ہفتے کو قتل کیا اور وہ ہمیں انہیں دفن کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ کہتے رہے کہ ان کی لاش خراب ہونی چاہیے۔‘

عباد اللہ صالح نے مزید بتایا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ جب ان کے چچا کو قتل کیا گیا تو وہ اس وقت گاڑی چلا کر کہاں جا رہے تھے۔

دوسری جانب طالبان کی اردو زبان میں معلوماتی سروس الامارہ کا کہنا ہے کہ ’اطلاعات کے مطابق‘ عزیزی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔

امراللہ صالح آزاد ہیں اور ان کا درست ٹھکانہ واضح نہیں ہے۔ سقوط کابل کے بعد انہوں نے افغانستان کے قائم مقام صدر ہونے کا اعلان کیا تھا۔ وہ احمد مسعود کے ہمراہ وادی پنچ شیر میں قومی مزاحمتی محاذ (این آر ایف) سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے ایک گروپ کی قیادت کر رہے ہیں۔


القاعدہ سربراہ ایمن اظواہری کی نئی ویڈیو

نائن الیون کے حملوں کے 20 سال مکمل ہونے پر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ یہ ویڈیو ان افواہوں کے کئی مہینوں بعد سامنے آئی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

جہادی ویب سائٹس کی  نگرانی کرنے والے سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے کہا ہے کہ ایمن الظواہری کی ویڈیو ہفتے کو جاری کی گئی، جس میں وہ کہتے نظر آئے کہ ’بیت المقدس کبھی یہودی نہیں بنے گا۔‘ انہوں نے القاعدہ کے حملوں کی تعریف کی ہے جن میں وہ حملہ بھی شامل ہے جس میں جنوری میں شام میں روسی فوج کو نشانہ بنایا گیا۔

سائٹ کا کہنا ہے کہ الظواہری نے امریکی فوج کے افغانستان سے 20 سال بعد ہونے والے انخلا پر بھی بات کی ہے۔ سائٹ نے مزید کہا کہ ان کے بیان سے لازمی طور پر یہ اشارہ نہیں ملتا کہ یہ تازہ ریکارڈنگ ہے، کیونکہ طالبان کے ساتھ فوج کے انخلا کے معاہدے پر فروری 2020 میں دستخط کیے گئے تھے۔

سائٹ نے مزید کہا ہے کہ الظواہری نے گذشتہ ہفتے افغانستان اور اس کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے کنٹرول کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن انہوں نے یکم جنوری کے حملے کا ذکر ضرور کیا ہے جس میں شمالی شام کے شہر رقہ کے کنارے پر روسی فوج کو ہدف بنایا گیا تھا۔ 2020 کے آخر سے افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ الظواہری بیمار ہو کر چل بسے ہیں۔ تب سے لے کر ہفتے تک کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا