طالبان کو حکومت تسلیم کروانے میں کیا مشکلات پیش آ سکتی ہیں؟

پاکستان نے بھی کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اس مرتبہ عجلت میں نہیں بلکہ علاقائی مشاورت کے بعد کرے گا۔

امریکی سفارت خانے کے باہر کابل میں طالبان کے پرچم فروخت کرنے والا ایک دکاندار (تصویر: اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان نے 15 اگست،2021 کو کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب عبوری حکومت اور کابینہ کا اعلان کر دیا ہے جس میں زیادہ تر وزارتیں طالبان کے پرانے اور اہم رہنماؤں کو دی گئی ہیں۔

نئی افغان کابینہ میں شامل 33 وزرا میں سے زیادہ تر کا تعلق قندھار اور پکتیا صوبے سے ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ نئی افغان حکومت کو کون تسلیم کرے گا اور کون نہیں؟

کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی نئی حکومت کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا معیار اور طریقہ کار کیا ہوتا ہے؟

دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی افغانستان کی صورت حال پر غور کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک سمیت خطے کے آٹھ ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کا اجلاس دو روز جاری رہنے کے بعد ختم ہو چکا ہے جب کہ قطر سے ایک اعلی سطح کے وفد نے بھی کابل کا دورہ کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے حکومت کے اعلان کے بعد کسی بھی غیر ملکی وفد کا یہ پہلا دورہ کابل تھا جس میں قطر کے وزیر خارجہ بھی شامل تھے۔  خیال رہے قطر نے بھی ابھی تک طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ 

تاہم گذشتہ دنوں پاکستان کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک راب نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم طالبان کو بحیثیت حکومت تسلیم نہیں کرنا چاہتے لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ان سے رابطے کا کیا فائدہ ہے۔‘

یورپی یونین نے بھی فل الحال طالبان حکومت تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ بھی کوئی جلد فیصلہ کرنے کے حق میں دکھائی نہیں دیتا۔ 

پاکستان نے بھی کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ اس مرتبہ عجلت میں نہیں بلکہ علاقائی مشاورت کے بعد کرے گا۔

حکومتوں کو تسلیم کرنے کا بین الاقوامی ضابطہ کار بدقسمتی سے سفارت کاری کی ضروریات کی وجہ سے مبہم ہے۔ حکومتوں کو تسلیم کرنے کے عمل میں تاخیر یا انکار کیے جانے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

عالمی جنگ کے دوران فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے پولینڈ اور چیکوسلواکیہ کو آزاد حکومت یا ریاست کے طور پر وجود میں آنے سے قبل ہی تسلیم کر لیا تھا۔ اسی طرح جرمنی نے لیتھوینیا کو جنگی مقاصد کے لیے تسلیم کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے قانونی اور سیاسی امور کے ماہرین سے اس سلسلے میں یہ جاننے کے لیے رابطہ کیا کہ کسی بھی ملک میں حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کن عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور کیا دنیا میں ایسا کوئی قانون موجود ہے جس کے تحت ایک حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی پیمانہ دیا گیا ہو؟

ایک حکومت کو تسلیم کرنے کا معیار کیا ہے؟

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل اور افغانستان کے قانونی معاملات پر نظر رکھنے والے طارق افغان نے بتایا کہ سب سے پہلے تو کسی بھی ریاست میں کسی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاست ایک تسلیم شدہ ریاست ہو اور اس کی باقاعدہ حدود مقرر ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ دو قسم کی حکومتیں ہوتی ہیں جس میں ایک کو’ڈی فیکٹو‘ اور دوسری کو ’ڈی جیور‘ کہتے ہیں۔

ڈی فیکٹو اس حکومت کو کہا جاتا ہے جو حقیقت میں ایک طاقت ہو لیکن وہ حکومت اس ریاست کے قانون کے مطابق برسراقتدار نہ ہو جب کہ ’ڈی جیور‘ وہ حکومت ہوتی ہے جو قانون کے مطابق کسی ریاست میں برسراقتدار ہو۔

ان دونوں کی مثال افغانستان ہی میں دی جا سکتی ہے۔ طارق افغان نے بتایا: ’افغانستان میں طالبان کی ڈی فیکٹو حکومت ہے کیونکہ بظاہر وہ ایک طاقت ہے اور اب ملک ان کے زیر انتظام ہے لیکن وہ قانونی طریقے سے نہیں آئے جب کہ دوسری طرف اشرف غنی کی حکومت ہے جو افغانستان کے قانون کے مطابق برسراقتدار میں آئی۔‘

طارق افغان نے مزید بتایا کہ دوسرے ممالک افغانستان کو ڈی فیکٹو یا ڈی جیور کے طور پر حکومت تسلیم کریں گے، یعنیٰ بعض ممالک اشرف غنی یا اب نئے دعویدار امراللہ صالح کی حکومت کو تسلیم کریں گے جب کہ بعض ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں گے۔

کسی بھی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کن عوامل کو دیکھا جاتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر منہاس مجید خان مروت نے بتایا کہ کسی بھی حکومت کو تسلیم کرنے سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ برسراقتدار قوت ایک مستقل آبادی اور زمین کو کنٹرول کرتی ہو اور وہاں پر اس قوت کی رٹ قائم ہو۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ قوت بین الاقوامی اقدار کا احترام کرتی ہو۔ یعنی وہاں کسی قسم کی حقوق انسانی کی خلاف ورزی نہ ہو رہی ہو اور اس حکومت کے باقی ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات بھی ہوں تب ہی اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔

منہاس مجید نے بتایا: ’جب کسی حکومت کو تسلیم کیا جاتا ہے تو اس پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ ریاست میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور وہاں کے لوگوں کے تمام حقوق کا خیال رکھے۔ طالبان کی حکومت کو بھی انہی چیلنجز کا سامنا ہوگا اور تب ہی ان کو کسی دوسری ریاست کی جانب سے تسلیم کیا جائے گا۔‘

ماضی کو دیکھیں تو 1921 میں جب سوویت یونین نے اس وقت رومانوف بادشاہت کو اقتدار سے بے دخل کر کے حکومت پر قبضہ کیا تو برطانیہ نے سوویت یونین کو بطور ڈی فیکٹو حکومت تسلیم کیا تھا کیونکہ وہ ریاست کے قانون کے تحت اقتدار میں نہیں آئے تھے لیکن چونکہ اس وقت حکومت سوویت یونین کے پاس تھی، تو برطانیہ نے اس کو تسلیم کیا تھا۔

اسی طرح 1913 میں میکسیکو کے صدر کی حکومت کو امریکہ نے ڈی فیکٹو حکومت تسلیم نہیں کیا تھا اور اس وقت امریکہ نے باقاعدہ ایک پالیسی دی تھی کہ امریکہ کسی بھی ایسے حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جو کسی تشدد کے نتیجے میں اقتدار میں آئی ہو۔ تاہم طارق نے بتایا کہ امریکہ کے صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ کسی ریاست یا کسی حکومت  کو تسلیم کرے اور وہاں پر اپنا ایلچی بھیجے لیکن بعد میں کانگریس سے اس ریاست یا حکومت کی منطوری ضروری ہوتی ہے۔

کیا ماضی میں طالبان حکومت کو تسلیم کیا گیا تھا؟

1996 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ تین ممالک تھے جنہوں نے ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ کے وکیل بیرسٹر علی گوہر درانی کے مطابق ایک اہم نکتہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ’ریاست اور حکومت کو تسلیم کرنے میں فرق ہے۔‘ اس سوال کا جواب کہ کیا اقوام متحدہ کو کسی حکومت یا ریاست کو تسلیم کرنے کا اختیار ہے، علی گوہر نے بتایا ’اقوام متحدہ چونکہ بذات خود ایک ریاست نہیں ہے تو وہ کسی دوسری ریاست کو تسلیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہے تاہم کوئی بھی ریاست اقوام متحدہ کی رکن بننے کے لیے درخواست کرسکتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’کہ اقوام متحدہ میں کسی ریاست کے رکن بننے کا ایک طریقہ کار ہے۔ جب کبھی کوئی ریاست رکن بننے کے لیے درخواست کرتی ہے تو اس پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ووٹنگ کی جاتی ہے اور اس میں جب کم از کم نو ارکان اس ریاست کے رکن بننے کے حق میں ووٹ دے دیں، تو وہ اقوام متحدہ کی رکن بن جاتی ہے۔‘

تاہم ریاست کو تسلیم کرنا اور حکومت کو تسلیم کرنا دو الگ موضوعات ہیں۔ انہوں نے بتایا ’ری پبلک آف چائنہ (موجود تائیوان) کی مثال موجود ہے جس کو طویل عرصے تک بہت سے ممالک نے تسلیم نہیں کیا تھا لیکن وہ اقوام متحدہ کا رکن ملک تھا۔‘

اسی طرح ہمارے پاس ایک مثال طالبان کی ’امارت اسلامی‘ کی حکومت کی ہے جو 1996 سے 2001 تک افغانستان میں برسر اقتدار تھی لیکن اس کو صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا اور برہان الدین ربانی کی حکومت (جس کو طالبان نے ختم کیا تھا) کو باقی دنیا نے ڈی فیکٹو اور ڈی جیور حکومت تسلیم کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’کسی حکومت کو تسلیم کرنا کسی بھی ملک کا صوابدیدی اختیار ہے اور تسلیم کرنے کے لیے کوئی پیمانہ موجود نہیں ہے۔ طالبان کی 1990 کی دہائی میں حکومت ان تین ممالک کے علاوہ باقی دنیا نے تسلیم نہیں کی تھی اور باقی دنیا کے روابط ان تین ممالک کے ذریعے ہوتے تھے۔‘

کیا کوئی ملک حکومت تسلیم کیے بغیر سفارتی تعلقات رکھ سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں علی گوہر نے بتایا کہ سفارتی تعلقات کے لیے کسی حکومت کو تسلیم کرنا شرط نہیں ہے کیونکہ 1990 کی دہائی میں طالبان حکومت کو ترکمانستان نے تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اس نے طالبان کے ساتھ تیل کے تجارتی معاہدے کیے تھے۔

جب کہ چین نے بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا لیکن اس وقت کے چین کے پاکستان میں سفیر طالبان کے امیر ملا محمد عمر سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ چین بظاہر طالبان کی حکومت کو ڈی فیکٹو حکومت تسلیم کرتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی ادارہ ’دی ولسن سینٹر‘ کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور بین الاقوامی امور کے ماہر مائیکل کوگل مین نے انڈپیندنٹ اردو کو بتایا کہ ’کسی بھی ریاست کا کسی دوسرے ملک میں حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے۔‘

مائیکل کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کوئی بھی ملک کسی حکومت کو تسلیم کرنے میں یہ ضرور دیکھتا ہے کہ برسر اقتدار پارٹی اس ریاست میں قانونی طریقے سے آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں میانمار میں فوج کے حکومت پر قبضے کے بعد اس کو ایک قانونی حکومت تسلیم نہیں کیا جاتا۔‘

ماہرین کے خیال میں دنیا کو جلد کابل میں نئی حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا لیکن اگر یہ ملکی مفادات کی بجائے افغان عوام کی بھلائی کو ذہن میں رکھ کر ہوتا ہے تو بہتر ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا