افسانہ نگار اور دانشور ڈاکٹر انور سجاد انتقال کر گئے

’انور سجاد ویسے تو ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے، مگر خدا نے انہیں کئی اور کاموں کے لیے پیدا کیا تھا۔ وہ رقص بھی کرتے تھے، مصور بھی تھے اور اداکار، مترجم، براڈ کاسٹر، ڈرامہ نگار بھی۔‘

اپریل 2004 میں اردو افسانے کے سو سال مکمل ہونے پر لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ( دائیں سے بائیں، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ، ڈاکٹر انور سجاد، عامر فراز) ۔  پکچر کریڈٹ: عامر فراز

اردو ادب کے صفحہ اول کے افسانہ نگاراور دانشور ڈاکٹر انور سجاد جمعرات کو 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

 لاہور رائیونڈ روڈ کے پاس ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیگم رتی سجاد کے ساتھ رہائش پزیر انور سجاد طویل عرصے سے علیل تھے۔ 1989 میں صدارتی تمغہ امتیاز لینے والے انور سجاد صرف ادیب ہی نہیں بلکہ ہر فن مولا تھے۔

نامور افسانہ نگار مسعود اشعر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا انور سجاد ویسے تو ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے، مگر خدا نے انہیں کئی اور کاموں کے لیے پیدا کیا تھا۔’وہ رقص بھی کرتے تھے، مصور بھی تھے اور اداکار، مترجم، براڈ کاسٹر، ڈرامہ نگار بھی۔‘

مسعود اشعر کا کہنا ہے انور سجاد ادب میں ٹرینڈ سیٹر تھے۔ ان کی اپنی زبان تھی اور علامتی استعاراتی اور تجریدی رنگ ان کے افسانوں میں نمایاں تھا۔

انور سجاد کے قریبی دوست مستنصر حسین تارڑ سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا: انور میرا قریبی دوست تھا، میں اس وقت شدت غم سے نڈھال ہوں اور دماغی طور پر خود کو نارمل محسوس نہیں کر رہا۔

انور سجاد سے جڑی کچھ یادوں کا تذکرہ حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری عامر فراز نے بھی کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انور سجاد حلقہ ارباب ذوق کے سینئیر اراکین میں سے تھے، لیکن ستر کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پنجاب آرٹس کونسل ان کے سپرد کی گئی تو حلقہ ارباب ذوق سے ان کے تعلقات کچھ عرصہ کشیدہ رہے، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے آرٹس کونسل کے پروگراموں میں کلاسیکیت پر انقلابی رویے کو فوقیت دی۔

عامر فراز نے بتایا کہ ان کا ایک جملہ ان دنوں بہت مشہور ہوا 'اب یہاں درباری نہیں قوالی چلے گی'، لیکن 99-1998 سے وہ ایک بار پھر حلقہ ارباب زوق کے پروگراموں میں بہت متحرک رہے۔

’2008 میں جب میں حلقہ ارباب ذوق کا سیکرٹری تھا تو انہوں نے مجھ سے گلہ کیا کہ حلقے کے ایک سینئیر رکن ہونے کے باوجود ذاتی پسند ناپسند کی وجہ سے انہیں کبھی حلقے کے سالانہ جلسے میں خطاب کرنے کی دعوت نہیں دی گئی، اس پر مجھے حیرت ہوئی اورمیں نے فوراً اس برس کے سالانہ خطبے کے لیے ان کا انتخاب کر لیا۔ اس برس کا ان کا سالانہ خطبہ ایک عرصہ تک زیر بحث رہا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انور سجاد ادیبوں اور شاعروں کے فیملی ڈاکٹر بھی سمجھے جاتے تھے۔ ’ویسے تو وہ ڈاکٹری کی پریکٹس نہیں کرتے تھے مگر ہم ان ادویات لکھوا لیتے تھے۔‘

عامر نے بتایا کہ انور سجاد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ’وہ اپنے والد صاحب کے انتقال تک ڈاکٹری کے پیشے سے وابستہ رہے اور چونا منڈی میں اپنے والد صاحب کے کلینک میں بیٹھتے تھے۔ انور سجاد بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ جس روز ان کے والد کا انتقال ہوا اسی روز انہوں نے کلینک بند کر دیا۔‘

یوں اس بات کا اندازہ ہوتا تھا کہ اگرچہ انہیں طب کے شعبے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر وہ اپنے والد صاحب کی فرماں برداری میں ان کے انتقال تک اس شعبے سے منسلک رہے۔

ادب میں ان کا نام ایک جدید اردو افسانہ نگار کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ساٹھ کی دہائی میں نئے افسانے کی جس تحریک کا آغاز ہوا انور سجاد اس کے بانیوں میں سے تھے۔ ان کے ساتھ احمد ہمیش اور بلراج مینرا وغیرہ کے نام بھی نمایاں تھے۔

انور سجاد کی ہم عصر معروف افسانہ نگارعفرا بخاری نے ان کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج صرف اردو ادب ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کا ایک عہد ختم ہوا۔

دوسری جانب، صوبائی وزیر اطلاعات صمصام بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا انور سجاد کے مالی حالات کچھ ٹھیک نہیں تھے اور وہ حکومت کی ہیلپ لسٹ کے رکن تھے۔ صمصام بخاری نے کہا ان کے انتقال سے ادب کی دنیا میں بہت بڑا خلا پیدا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انور سجاد کے انتقال کے بعد حکومت پنجاب ان کے خاندان کے لیے جو کچھ بھی ہو گا وہ کرے گی۔

انور سجاد کی اہم کتابوں میں چوراہا، جنم روپ، خوشیوں کا باغ، نیلی نوٹ بک، اور تلاش وجود شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی