او آئی سی: پانچ رکن ممالک بھارت-وسط ایشیا ڈائیلاگ میں شریک

وسطی ایشیا کے پانچ ممالک جن کے وزرائے خارجہ اس وقت بھارت میں ہیں، او آئی سی کے رکن بھی ہیں اور انہوں نے نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کو چھوڑ دیا۔

بھارتی وزیر خارجہ اور ہم منصبوں کے درمیان وسیع تر تجارت، سرمایہ کاری اور رابطوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال  (تصویر: ٹوئٹر، ایس جے شنکر)

بھارت کے وزیر امور خارجہ ایس جے شنکر نے اتوار کو وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ سے خطاب میں کہا ہے کہ ان سب کے افغانستان میں’خدشات اور مقاصد ایک جیسے ہیں۔‘

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان کے مطابق  دارالحکومت نئی دہلی میں بھارت-وسط ایشیا ڈائیلاگ میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان نے شرکت کی۔

وزرائے خارجہ سے خطاب میں بھارتی فارن منسٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ’حقیقی شمولیتی اور نمائندہ حکومت، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانا، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ‘ان کے خدشات اور اہداف ہیں۔

واضح رہے کہ ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ ایس جے شنکر کے بقول: ’ہم سب کے افغانستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور ثقافتی روابط ہیں۔ اس ملک میں ہمارے خدشات ایک جیسے ہیں۔ ہمیں افغان عوام کی مشکلات حل کرنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وسطی ایشیا کے پانچ ممالک جن کے وزرائے خارجہ اس وقت بھارت میں ہیں، او آئی سی کے رکن بھی ہیں اور انہوں نے نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کو چھوڑ دیا۔ پاکستان منعقدہ کانفرنس میں ان ممالک کے سفارتی وفود نے اپنے ممالک کی نمائندگی کی ہے۔

آج (اتوار) کے اجلاس میں توقع ہے کہ وزرا تجارت، رابطے اور ترقیاتی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کریں گے۔ وہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ بھی ملاقات متوقع ہے۔

2012 سے بھارت اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ایک فعال مصروفیت چلی آ رہی ہے۔ بھارت انہیں اپنے’توسیع شدہ پڑوس‘کا حصہ سمجھتا ہے۔ جے شنکر نے اس سال قازقستان، کرغزستان تاجکستان اور ازبکستان کا دورہ کیا تھا اور اکتوبر میں ترکمانستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا