برطانیہ کی جانب سے ایرانی بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت: بیان مسترد، ایران

ایرانی میزائلوں کو دوران مشق ایسے اہداف کی جانب بڑھتے دکھایا گیا جو اسرائیلی ری ایکٹر جیسے تھے۔ برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ایران اپنی سرگرمیاں فوری بند کرے، ایران کی جانب سے یہ بیان مسترد کر دیا گیا۔

پانچ روزہ ایرانی جنگی مشقوں کے دوران 23 دسمبر 2021 کو ٹینک سے میزائل فائر کیے جانے کا منظر ، ایران کا کہنا ہے کہ وہ ٹینکوں پر میزائل شکن نظام نصب کرے گا (تصویر: اے ایف پی)
 

برطانیہ نے جمعے کے روز ایران کی طرف سے کیے جانے والے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کی ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ کارروائیاں علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرگرمیاں فوری طور پر بند کردے۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رواں ہفتے خلیج میں جنگی مشق کا مقصد اسرائیل کو وارننگ بھیجنا تھا۔ ایرانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف محمد باقری نے مشق کے آخری مرحلے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’میزائلوں نے طویل فاصلے پر موجود مخصوص طے شدہ ہدف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔‘

انہوں نے مشق کی پیشگی منصوبہ بندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’اسرائیلی حکومت کی طرف سے بہت سی  کھوکھلی دھمکیوں کی وجہ سے مشق بروقت انجام پائی۔‘ انہوں نے مزید کہا ’حقیقت یہ ہے کہ 16 میزائل ایک ہدف کو نشانہ بناتے ہیں، یہ سینکڑوں میزائلوں کا ایک چھوٹا حصہ ہے جو بیک وقت ایران کے اس ہدف کو نشانہ بنا کر تباہ کر سکتے ہیں جو ایران سے لڑنے یا حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔‘

پاسداران انقلاب کی جنگی مشق میں بیلسٹک اور کروز میزائل فائر کرنا شامل تھا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعے کو مشقوں کے اختتام پر میزائلوں ایسے ہدف کی جانب بڑھتے دکھائے جو اسرائیل کے ڈیمونا جوہری ری ایکٹر سے مشابہت رکھتا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا کہ ’دیمونا جوہری تنصیبات کی نقل کے ذریعے، ایرانی افواج نے اپنی میزائل مشق میں اسرائیلی حکومت کے اس اہم مرکز پر حملہ کرنے کی کامیابی سے مشق کی۔‘

پاسداران کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر کہا ’ان مشقوں میں ایک بہت واضح پیغام تھا کہ اسرائیلی حکام اپنی غلطیوں سے ہوشیار رہیں۔‘

جنرل سلامی نے مزید کہا ’اگر انہوں نے کوئی غلط اقدام کیا تو ہم ان کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ اصل کارروائیوں اور فوجی مشقوں کے درمیان فاصلہ صرف میزائلوں کو لانچ کرنے کے زاویوں میں تبدیلی ہے۔‘

برطانیہ نے ان بیانات کے فوری بعد جنگی مشقوں کے دوران بیلسٹک میزائل داغنے کی مذمت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، سعید خطیب زادہ نے برطانوی بیان کو ’ایران کی دفاعی صلاحیت میں مداخلت‘ کے طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) ہے اور یہ خطے میں اسرائیل اور امریکی اڈوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسرائیل، جو ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی کوششوں کی مخالفت کرتا ہے، طویل عرصے سے کہتا رہا ہے کہ اگر یہ سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو فوجی کارروائی کی جائے گی۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری عزائم پرامن ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری مذاکرات میں وقت ضائع کرنے کی اجازت نہ دیں۔ وسیع پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کا واحد ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا