پی ٹی آئی کے پرانے چہرے، نئی ٹیم

جب تک ارباب اختیار کی مہنگائی اور عوام کے مسائل کے حوالے سے بے رُخی جاری رہے گی تحریک انصاف کے سیاسی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

23 جولائی 2018  کی اس تصویر میں پاکستان تحریک انصاف  کے سربراہ عمران خان  لاہور میں عام انتخابات سے قبل  ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

خیبر پختونخوا میں نتائج کے زلزلے نے جو ارتعاش پیدا کیا ہے، پاکستان تحریک انصاف ابھی تک اس کی زد میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بظاہر فٹا فٹ اقدامات اٹھا کر یہ تصور زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے پاس کوئی راستہ موجود نہیں، سوائے اس کے کہ وہ دوسرے مرحلے میں اس سے بھی بدتر نتائج کی تیاری کریں۔

انہوں نے پارٹی کے ڈھانچے کو ختم کرکے ایک نئی ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اب وہ تمام معاملات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ وزیراعظم ہر بحران کے بعد خود نگرانی کا وعدہ کرتے ہیں اور کسی اور شعبے میں دوسرے بحران کے پیدا ہونے کے بعد اس وعدے کو اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے دہراتے ہیں۔

اب تک وہ جن معاملات کی خود نگرانی کر چکے ہیں ان میں چینی سکینڈل، آٹا سکینڈل، دوائیوں کا سکینڈل، مہنگائی کا طوفان، بدعنوانی کے خلاف مہم جوئی، پنجاب میں اتحادیوں کے معاملات، بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد بننے والا منظر نامہ، کراچی کی ترقی، غربت کا خاتمہ، جوانوں کی نوکریاں، کشمیر کی آزادی، ایران اور سعودی عرب کے مابین صلح صفائی، سی پیک پراجیکٹ، پچھلی حکومتوں کے ادوار میں لیے گئے قرضوں میں مبینہ گھپلے، اہم سول انتظامی و پولیس کے سربراہان کی تعیناتیاں، شجر کاری کی مہم وغیرہ وغیرہ۔

پارٹی کے معاملات بالخصوص ٹکٹوں کی تقسیم سے جنم لینے والے مسائل کو وہ 2012 سے اپنی نگرانی میں چلا رہے ہیں، مگر اس مرتبہ نجانے کیوں یہ تصور پھیلا دیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دیے گئے ٹکٹ وزیراعظم ہاؤس کی نگرانی کے بغیر دیئے گئے، مگر چونکہ اب وزیراعظم نے پارٹی کی پرانی ٹیم کو تحلیل کرکے نئی ٹیم کو میدان میں لاکھڑا کیا ہے تو ہمیں تجزیاتی طور پر مفروضہ یہی بنانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے تباہ کن نتائج میں ٹکٹوں کے وہ غلط فیصلے تھے، جن سے عمران خان لاعلم رہے یا رکھے گئے۔

مگر نئی ٹیم ایسا کیا کرے گی جو پچھلی ٹیم نے نہیں کیا؟ اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ اسد عمر جن کو سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود معاشی امور سے مکھن سے بال کی طرح نکال کر باہر کر دیے گئے تھے۔ جنہوں نے معیشت کا ورلڈ کپ جتوانا تھا ان کو ٹیم سے ہی بےدخل کر دیا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ بعد میں آنے والے معاشی وزرا و مشیران نے آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت اور اس میں مہنگے تعطل کی ذمہ داری اسد عمر پر ڈال دی۔

اب وہ پارٹی کے اس عہدے پر ہیں جہاں سے انہوں نے اپنی جماعت کی گرتی ہوئی ساکھ اور بکھرتے ہوئے ووٹ بینک کو سنبھالنے کا کارنامہ سرانجام دینا ہے۔ حلقہ ان کا کراچی میں ہے، جیتے وہ اسلام آباد سے ہیں اور یہاں بھی یہ جیت ان مقامی دھڑوں کی مرہون منت ہے جو کسی کے لیے بھی کامیابی کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

نئے جنرل سیکرٹری کیا نسخہ اپنائیں گے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے؟ اس کے بارے میں ابھی معلومات سامنے نہیں آئیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ اسد عمر اپنے مخصوص ذاتی حالات کی وجہ سے کرشمہ ساز حلقوں کے قریب ہیں۔ عامر کیانی جو بطور وزیر صحت ایک بڑے سکینڈل کے باعث اپنی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے، دوبارہ سے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل بن کر آب و تاب سے چمکیں گے۔

خیبر پختونخوا میں پرویز خٹک کو لگانا، ان کی صلاحیتوں کا اعتراف نہیں بلکہ اس خطرے کو ٹالنے کی حکمت عملی ہے کہ کہیں وزیر موصوف دو انتخابی نشانوں پر مہر لگانے کے بعد اگلے مرحلے میں اپنا سیاسی رخ مکمل طور پر تبدیل ہی نہ کر دیں۔ یاد رہے کہ پرویز خٹک جہانگیر خان ترین کا دایاں بازو سمجھے جاتے تھے اور اپنے حلقے کے علاوہ صوبے بھر کے معاملات کے چلانے کے زاویے سے ان کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے۔

مگر چونکہ وزیر دفاع ہیں لہذا دفاعی ذرائع سے ان کے تعلقات یقیناً اچھے ہوں گے۔ پنجاب میں چینی بحران کے ساتھ جڑے ہوئے خسرو بختیار جو کئی پارٹیاں بدل چکے ہیں اب پارٹی کے امور کو سنبھالیں گے۔ جنوبی پنجاب سے ہٹ کر معاملات شفقت محمود کو سونپ دیے گئے ہیں۔ یہ دونوں بھی وفاقی وزرا ہونے کے علاوہ طاقتور قوتوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور اپنے سیاسی کیریئر میں کئی مرتبہ ادھر سے ادھر اور ادھر سے اس ادھر قلابازیاں لگا چکے ہیں۔

سندھ میں علی زیدی کے ہاتھ میں پارٹی دینے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ ان کا قریبی حلقوں کا بہرحال ماننا یہ ہے کہ ان کے دوست بڑے کار آمد ہیں جو ان کو اچھی ہدایت کے ذریعے پارٹی کے امور کو بہتر انداز سے سنبھالنے کی کوشش میں کامیاب کروا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی ٹیم اصل میں پرانی ٹیم ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہ سب وفاقی کابینہ کے ممبران ہیں، مقتدر حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور پارٹی کے اندر کم وبیش سب کے بارے میں تصور یہ ہے کہ ان میں قومی مفاد کے پیش نظر اپنے خیالات بدلنے کا عنصر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔

وفاقی وزرا ہونے کے ناطے یہ تمام احباب گلی محلے کے معاملات اپنی وزارتوں کے ذریعے طے کروایا کریں گے۔ صوبائی سطح پر موجود وہ لوگ جن کو نئی ٹیم نے کرسیوں سے اتار کر نیچے پھینک دیا ہے، ظاہر ہے خوش نہیں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں جن کو نکالا گیا وہ ناراض ہیں اور جن کو لایا گیا ان کے زور بازو کی پرکھ ابھی باقی ہے۔

ان تمام اندرونی تبدیلیوں میں خیبر پختونخوا کی شکست کا سب سے اہم عنصر ابھی تک حل طلب ہے اور وہ ہے مہنگائی جس نے ہر گاؤں اور کنٹونمنٹ میں یہ بیانیہ پھیلا دیا ہے کہ حکومت کے پاس حالات کو سدھارنے کے لیے کوئی فارمولا نہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان مختلف زاویوں سے اس وقت جنوبی ایشیا کا سب سے مہنگا ملک ہے۔

جب تک ارباب اختیار کی مہنگائی اور عوام کے مسائل کے حوالے سے بے رُخی جاری رہے گی تحریک انصاف کے سیاسی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس محاذ پر تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ ملک کے معاملات سدھرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے، پارٹی کیسے چلے گی؟

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ