عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو توڑ دیا

فواد چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے انتخابات میں جیسے نتائج ملنا چاہیئے تھے نظر نہیں آئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ تحلیل کر دیا گیا ہے اور یہ نئے سرے سے تشکیل دیا جائیگا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آج پاکستان تحریک انصاف کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر دفاع پرویز خٹک سے حالیہ بلدیاتی انتخابات پر بات ہوئی۔ ان انتخابات میں حکمران جماعت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فواد چوہدری نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جماعت کا نیا تنظیمی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا اور پارٹی کی مرکزی سے لے کر تحصیلی سطح تک تمام تنظیموں کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق پارٹی کی تمام تنظیموں کو توڑنے کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان نے بذات خود کیا ہے۔ 

فواد چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے انتخابات میں جیسے نتائج ملنا چاہیئے تھے نظر نہیں آئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا گیا کہ ’ٹکٹ خاندانوں میں بانٹے گئے‘۔

ان کے بقول: ’پی ٹی آئی خاندانی سیاست والی جماعت نہیں ہے۔‘

فواد چوہدری کے مطابق تحریک انصاف کے تمام آرگنائزرز کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ’ ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں مرکزی قیادت شامل ہو گی۔‘

’عمران خان کے پاس تنظیم سازی کے لیے وقت نہیں‘

صحافی اور سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس سے انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان تحریک انصاف کی تنظیمیں توڑے جانے سے متعلق سوال کیا جس پر ان کا کہنا تھا:’عمران خان نے گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران اپنی جماعت کو بہت زیادہ نظر انداز کیا، جس کے باعث تحریک انصاف کے اندر دھڑے بندی میں اضافہ ہوا ہے اور اب ان کے پاس تنظیم سازی کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔‘

مظہر عباس کا کہنا تھا: ’عمران خان کو تنظیم سازی کے پرانے طریقے ترک کرنا ہوں گے، انہیں تجربہ کار اور کم سے کم متنازع شخصیات کو پارٹی میں آگے لانا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے علاوہ دوسری جگہوں پر بھی دھڑے بندیوں کا شکار ہے، جسے طویل التوا تنظیم سازی کے ذریعے ہی کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پرویز خٹک کے بجائے محمود خان کو وزیر اعلی بنا کر فاش غلطی کی، جس کا خمیازہ اسے بلدیاتی انتخابات میں اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں پارٹی کو کامیابی دلانے والے لیڈر کو ہٹانے سے دھڑے بندی پیدا ہوئی، اور مخلص ورکرز اور لیڈرز کی بھی دل شکنی کا باعث بنی۔

مظہر عباس کے خیال میں یہی صورت حال دوسرے صوبوں میں بھی ہے جہاں تحریک انصاف میں گروپ بنے ہوئے ہیں، جو ایک دوسرے کی مخالفت میں مصروف رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے فیز میں تحریک انصاف نے بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، چار میں سے ایک سٹی مئیر کی نشست بھی حاصل نہیں کر سکی، جب کہ ضلع پشاور کی چھ تحصیلوں میں سے ایک میں بھی کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔

 تحریک انصاف کے برعکس حذب اختلاف کی جماعت جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) نے بلدیاتی انتخابات میں غیر یقینی طور پر بڑی کامیابی حاصل کی، جب کہ دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی بعض اہم نشستیں جیتنے میں کامیاب رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان