کشمیر آن ’سیل‘

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ کی شرط ختم ہو گئی ہے جس کی رو سے غیر پشتینی باشندے پہلے جموں و کشمیر میں زمین و جائیداد خریدنے کے اہل نہیں تھے۔

30 جولائی، 2020 کو لی گئی اس تصویر میں ایک خاتون سوپور میں باغیوں کے ساتھ فائرنگ کے دوران بھارتی فوجیوں کی جانب سے داغے گئے مارٹروں سے تباہ حال اپنے رشتہ داروں کے مکانات کے ملبے کا معائنہ کر رہی ہے(اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 


سنیل ڈمپل مشن سٹیٹ ہوڈ کے سربراہ اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’جموں و کشمیر کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ وہ ہماری تاریخ، آبادی کا تناسب، شناخت اور ثقافت تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ہم ہر ایسی کوشش کو ناکام بنائیں گے جو جموں و کشمیر کی ہیت کو تبدیل کرنے کے لیے شروع کر دی گئی ہے، وہ جموں و کشمیر کو نیلام کرنے والے ہیں۔‘

جموں و کشمیر کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک بار اس وقت شدید کھلبلی مچ گئی جب مرکزی حکومت نے چند روز پہلے جموں میں اپنی نویت کی پہلی ایسی کانفرنس بلائی جس کا مقصد ریئل اسٹیٹ سے وابستہ کمپنیوں اور مالکان کو خطے میں زمین و جائیداد خریدنے کی جانب مائل کرنا تھا۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد خطے میں سٹیٹ سبجیکٹ کی شرط ختم ہو گئی ہیں جس کی رو سے غیر پشتینی باشندے پہلے جموں و کشمیر میں زمین و جائیداد خریدنے کے اہل نہیں تھے۔

عوامی حلقوں اور سیاست دانوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر جموں و کشمیر کو ’سیل‘ پر رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اب کھل کر مقامی آبادی کو بے اختیار کرنے کا چیلنج دیا ہے۔ بعض سیاست دانوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’کشمیر کے ذخائر کے بعد اب اس کی زمین اور جائیداد پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔‘

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کانفرنس کے دوران 39 سمجھوتوں پر دستخط ہوئے ہیں جن کے تحت ساڑھے اٹھارہ کروڑ روپے مالیت کے برابر تعمیرات کی جا رہی ہیں۔

حکومت نے غیر زرعی زمین کے خریدنے کے اس عمل کو تاریخی اقدام قرار دیا جبکہ عوام کو خدشہ ہے کہ بی جے پی نے ’کشمیری عوام کو اپنے حقوق، جائیداد اور جدوجہد سے نہتا کرنے کا عہد کیا ہے جس سے خطے کے عوام کے تئیں پارٹی کی شدید نفرت کا احساس ہوتا ہے۔‘

کانفرنس سے قبل جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے زرعی زمین کو غیرزرعی زمین کے لیے وقف رکھنے کا نیا قانون بنایا جس کے پیچھے بظاہر یہ مقصد کار فرما ہے کہ ’غیر پشتینی باشندوں کی رہائش کے لیے راستہ ہموار کیا جاسکے۔‘ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ سے زائد افراد کو ڈومیسائل قانون کے تحت شہریت دی گئی ہے۔

5 اگست 2019 کے بعد جب ریاست کو توڑ کر دو یونین ٹریٹری بنا کر اندرونی خودمختاری کو ختم کر دیا گیا، اس وقت سے اب تک سرکاری ریکارڈ کے مطابق سات غیر کشمیریوں نے زمین خریدی ہے۔ جبکہ صنعتی شعبے میں بیشتر تاجر شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں چند ہندووں کی ہلاکتوں کے بعد یہ سلسلہ پھر رک گیا ہے۔

بی جے پی نے بعض کشمیری نوجوانوں کو سیاسی اکھاڑے میں کودنے پر مائل بھی کر دیا ہے لیکن ان میں سے کئی نوجوان سوال کرنے لگے ہیں کہ جموں و کشمیر میں جہاں گذشتہ تین برسوں میں بے روزگاری 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے وہاں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی بجائے ان کی زمینوں اور جائیداد کے خریدار تلاش کیے جا رہے ہیں۔

حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک سرکردہ کارکن (سکیورٹی کی وجہ سے نام تبدیل کیا گیا ہے) ریاض احمد نے ایک مقامی رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بی جے پی میں شامل ہو کر مجھے اس کے عزائم کا خوب احساس ہوا۔ میرا خیال تھا کہ شاید یہ پارٹی خطے میں بے روزگاری کے خاتمے اور ترقی کے لیے کوئی پروگرام شروع کرے گی۔

’میں اپنے والدین کی مرضی کے برعکس پارٹی میں شامل ہوگیا مگر میں اب سمجھتا ہوں کہ اس پارٹی کو یہاں کی معدنیات، پانی زمین اور قدرتی وسائل کو فروخت کرکے کشمیریوں سے صرف بدلہ لینا ہے۔

’حالت اس نوبت تک پہنچ گئی ہے کہ انتظامیہ سے لے کر یہاں کی زمین، نوکریوں اور وسائل پر غیرکشمیری مسلط کر دیئے گئے ہیں جیسے ڈوگرہ مہاراجوں کا دور پلٹ کر واپس آگیا ہے۔‘

مرکزی حکومت نے دوسری رئیل اسٹیٹ کانفرنس کشمیر میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور شہریوں کو وادی میں آکر زمین یا دوسرا مکان خریدنے پر مائل کیا جا رہا ہے۔

ماحولیات کے ماہرین دنیا میں پہاڑ، جنگلات یا گلیشئیرز کو بچانے کی مہم پر گامزن ہیں مگر کئی برسوں سے جموں، سری نگر اور لداخ کے پہاڑوں کی اتنی چیر پھاڑ شروع ہوچکی ہے کہ ماحولیات کے ماہرین نے اس راستے میں موجود گلیشئیرز کے پگھلنے کی وارننگ بھی دے دی ہے۔ بلکہ زوجیلا کی چوٹی پر سب سے اونچا اور پرانے گلیشیر کے پگھلنے کی خبریں بھی گشت کر رہی ہیں۔

اس وقت لداخ تک جانے کے لیے دو سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں جس میں ایک تقریباً مکمل ہوچکی ہے جبکہ جموں سری نگر شاہراہ کی تعمیر نو اور ریل پٹٹری بچھانے کا کام کئی برسوں سے جاری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب جب زمین اور جائیداد کی خریدو فروخت بھی شروع کر دی گئی ہے تو یہاں کے عوام کے پاس باقی کیا بچے گا؟ مرکزی دھارے کے سیاست دانوں نے گو کہ اپنی برہمی ظاہر کی ہے مگر مجال ہے کہ مرکزی حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف اسی طرح احتجاج کرنے کے لیے پارٹی اجلاس بلاتے ہیں جیسے انتخابات کی تیاری میں ہر ضلع میں آج کل جلسے کرنے بیٹھے ہیں۔

آزادی پسند گروپوں کو فی الحال ہر طرف سے خاموش کر دیا گیا ہے، یاسین ملک سمیت لبریشن فرنٹ کے بیشتر رہنما پابند سلاسل ہیں۔ جو بعض لوگ الحاق پاکستان کی وکالت کرتے آ رہے ہیں وہ پاکستان کی خاموش پالیسی سے ناخوش نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انسانی حقوق کے کارکن راجا حنیف کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے اپنی کشمیر پالیسی تبدیل کرکے سبھی ان جعلی اداروں کو بند کر دیا ہے جو کشمیر کے نام پر بھاری رقومات حاصل کرنے کے عوض چلائے جا رہے تھے۔

’ان اداروں کے بعض سربراہان نے بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنانے اور لوگوں کو ڈرانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ اندرون کشمیر بیشتر عوامی حلقے پاکستان کی اس پالیسی پر مطمئن ہیں کہ بندوق کی بجائے مربوط سفارتی پالیسی پر زور دیا جا رہا ہے اور جس میں عالمی تھنک ٹینکس کی مدد سے کشمیر مسئلے کے حقیقی حل کی جانب راستہ تلاش کیا جانا مقصود ہے۔‘

اس کے برعکس سری نگر ڈاؤن ٹاون کے محمد عبداللہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اپنی جگہ ٹھیک ہیں اور موجودہ دور کے تقاضے کے مطابق عالمی رائے عامہ کو باخبر کرنے کا یہ بہترین عمل ہے لیکن جس تیزی سے جموں و کشمیر کی اندرونی ہیت، جغرافیہ اور تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اگلے چند برسوں میں شاید ہی دنیا کے نقشے پر کشمیر ملے گا یا اس خطے میں کوئی پشتینی باشندہ نظر آئے گا۔‘


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ