پنجاب میں صحت کارڈ کا اجرا: لیکن اس کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

ماہرین معیشت کے مطابق صحت کارڈ امیر اور غریب کے لیے بلاامتیاز جاری کرنے کا اعلان کیا گیا جس سے بجٹ پر کافی دباؤ پڑے گا۔

وزیر  اعظم عمران خان 13 دسمبر 2021، کو لاہور میں پنجاب کے لیے صحت کارڈ کا افتتاح کرتے ہوئے (پی آئی ڈی)

حکومت پنجاب یکم جنوری سے صوبے کے تین کروڑ 11 لاکھ خاندانوں کو نیا پاکستان صحت کارڈ کی سہولت دینے جا رہی ہے۔ 

سرکاری حکام کے مطابق یہ کارڈ سرکاری و نجی دونوں ہسپتالوں میں علاج کے لیے استعمال ہوسکے گا۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے اور  گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب آغاز تقسیم ’نیا پاکستان قومی صحت کارڈ‘ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔

عمران خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’اس انقلابی پروگرام کے تحت صوبے بھر کی مکمل آبادی کو فی گھرانہ 10 لاکھ روپے سالانہ تک علاج معالجے اور صحت کی معیاری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں گی۔‘

حکومت نے یکم جنوری سے پہلے نادرا سمیت تمام متعلقہ اداروں کو خاندانوں کا ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت کی تھی کیونکہ صحت کارڈ کے لیے نادرا میں اندارج لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ڈی جی خان اور ساہیوال کی ڈویژنز کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی سہولت پہلے ہی فراہم کی جا چکی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور اور راولپنڈی ڈویژن میں اس کے اجرا کا اعلان کیا گیا۔ دیگر ڈویژنز میں صحت کارڈ جنوری سے دیا جا رہا ہے۔

صحت کارڈ کے حامل خاندان 10 لاکھ روپے تک کا سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مفت علاج کروا سکیں گے۔ کارڈ کے ذریعے مہلک بیماریوں کا علاج مفت کرایا جاسکے گا۔

اس کارڈ میں آؤٹ ڈور علاج کی سہولت نہیں ہوگی صرف ہسپتال میں داخل مریض استفادہ حاصل کر سکیں گے۔ یہ کارڈ 2025 تک موثر ہوگا۔

کن بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے؟

صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق نیا پاکستان صحت کارڈ کے ذریعے کینسر، گائنی، ڈائیلسز، ہر قسم کی سرجری، امراض دل اور جگر ٹرانسپلانٹ بھی کرایا جاسکے گا۔ ان کے بقول یہ ایک طرح کی ہیلتھ انشورنس ہوگی جس سے صوبے میں بیمار افراد کو باعزت علاج فراہم کیا جائے گا۔

1۔ امراض قلب کا علاج

2۔ ذیابیطس سے متعلق پیچیدگیوں کا علاج

3۔ حادثاتی چوٹیں یعنی ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ

4۔ سڑک پر پیش آنے والے حادثات

5۔ دل، جگر، گردوں اور پھیپھڑوں کا علاج

6۔ پیلیا اور کالا یرقان

7۔ کینسر کا علاج

8۔ اعصابی نظام کی جراحی (سرجری)

9۔ آخری درجے پر گردوں کی بیماری کا علاج

10۔ ترجیحی علاج میں ہسپتال کے اخراج کے بعد ایک بار مفت معائنے کی سہولت بھی موجود

ثانوی علاج

1۔زچگی

2۔ سی سیکشن

3۔ آپریشن زچگی کی پیچیدگیاں

4۔ پیدائش سے پہلے چار بار معائنہ

5۔ پیدائش کے بعد ایک بار معائنہ

6۔ نوزائیدہ بچے کا ایک بار معائنہ ۔

7۔ داخلے سے ایک دن قبل کی ادویات اور ہسپتال سے اخراج کے بعد مزید پانچ دن کی ادویات بھی شامل

ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ ’ہماری حکومت نے انتخابات سے قبل لوگوں پر خرچ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کی تکمیل جاری ہے۔ صحت کارڈ سے امیر اور غریب کو امتیازی علاج کی سہولت کا شکوہ بھی نہیں رہے گا۔‘

یاسمین راشد کے مطابق اس کارڈ سے نجی ہسپتالوں میں بھی مفت علاج کی سہولت ملنے سے سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا رش بھی کم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پرائیویٹ پبلک کے اشتراک سے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ اس سے نجی ہسپتالوں کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور جدید طبی آلات کی دستیابی ممکن ہوجائے گی۔

کارڈ کیسے استعمال کیا جا سکے گا؟

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کے مطابق نیا پاکستان صحت کارڈ ہر خاندان کے سربراہ کو ملے گا۔ طلاق شدہ یا بیوہ خواتین کو بھی یہ کارڈ ملے گا۔ کارڈ بنوانے کے لیے صرف شناختی کارڈ لازمی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق صحت کارڈ کے حامل شخص کا نام اور شناختی کارڈ نمبر کارڈ پر پرنٹ کیا جائے گا تاکہ خاندان کے کسی بھی مریض کا ڈیٹا کارڈ ہولڈر کے ریکارڈ سے تصدیق ہوسکے کیونکہ اس کارڈ سے بچوں اور نوجوانوں کا علاج بھی کرایا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ یونین کونسلزمیں منتخب نمائندگان خاندانوں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کردیں تاکہ کوئی بھی اس کارڈ سے محروم نہ رہے۔

مفت علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لیے خاتون نادرا کے ریکارڈ میں اپنی زوجیت ضرور درج کروائے۔ خواجہ سراؤں کو بھی یہ کارڈ فراہم کیے جائیں گے۔

ان کے بقول پنجاب میں خط غربت سے نیچے85 لاکھ خاندانوں کو پہلے ہی صحت کارڈ فراہم کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ کارڈ مریض کے ساتھ نجی یا سرکاری ہسپتال میں مریض کے نام کے مطابق درج ہوگا اور مریض داخل ہونے، ہر طرح کے ٹیسٹ، ادویات، آپریشن یا دیگر سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مہلک امراض کے علاج پر 10 لاکھ روپے تک خرچ ہوسکے گا لیکن اگر علاج پر اس سے زائد خرچ آئے تو علیحدہ سے درخواست دے کر اس کی حد میں اضافہ ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے خصوصی طور پر ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ مریضوں کو علاج کے وقت کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ریکارڈ بہتر طریقہ سے درج ہوسکے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ صحت پنجاب نے46 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف، میل نرسزودیگر عملہ بھرتی کیا ہے۔

ماہرین معیشت کے تحفظات

ماہر معیشت پرویز طاہر نے  صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’انسانی زندگیاں بچانے کی حکمت عملی سب سے بہتر ہوتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورت حال میں حکومت نے 400 ارب کے قریب فنڈز مختص کر دیے مگر اسے پورا کرنے کا کوئی فارمولہ نہیں بتایا ہے۔‘

پرویز طاہر کے بقول پنجاب کا ترقیاتی اور صحت کا بجٹ دیکھا جائے تو اتنی خطیر رقم خرچ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

’حکومت نے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کسی قسم کا کٹ یا بچت کا فارمولا نہیں دیا نہ ہی اضافی بجٹ کے بندوبست کا کوئی اعلان کیا ان حالات میں انشورنس کی رقم ادا کرنا بڑا چیلنج ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب صحت کارڈ امیر غریب کے لیے بلاامتیاز جاری کرنے کا اعلان کیا گیا جس سے بجٹ پر کافی دباؤ پڑے گا۔

’مستحقین کے علاوہ سرمایہ دار بھی مفت علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ اس پالیسی کی وجہ سے اس منصوبہ میں سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ آمدن تو وہی ہے اخراجات بھی پہلے جتنے ہوں گے تو پھر اضافی رقم کہاں سے آئے گی جب قرض لے کر ملک چلانا پڑ رہا ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل یہ اعلان کیا ہے ہوسکتا ہے یہ سیاسی نعرہ ہو اور بعد میں آنے والی حکومتوں کے لیے اس منصوبے کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو۔

پریز طاہر کے مطابق جو بھی ہے عوام کو صحت کی سہولت ملنا جب تک بھی ملے خوش آئند ہے۔

صحت کارڈ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فل الحال دستیاب ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں یہ سہولت ابھی نہیں دی گئی۔

صحت کارڈ کے لیے اپنی اہلیت 8500 پر قومی شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کر کے دیکھی جاسکتی ہے۔ تصدیقی ایس ایم ایس کے ذریعے آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ اس کے اہل ہیں یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت