خیبر پختونخوا: تمام خاندانوں کے لیے صحت کارڈ کی سہولت دی جائے گی

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود اس بجٹ میں عوام کے لیے ریلیف بھی ہے اور صوبے کی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا عوام کو پیشگی اطلاع دے چکے ہیں کہ کرونا وبا کی وجہ سے ریونیو میں 100 ارب روپے کا فرق آیا ہے  (ٹوئٹر)

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال 21-2020 کا میزانیہ پیش کیے جانے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا بھی اپنا بجٹ 19 جون کو پیش کرے گا جس میں عوام کو بجٹ کے حجم اور دیگر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

تاہم صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا عوام کو پیشگی اطلاع دے چکے ہیں کہ کرونا وبا کی وجہ سے ریونیو میں 100 ارب روپے کا فرق آیا ہے جس کی وجہ سے انہیں اس بار خسارے کا بجٹ پیش کرنا پڑ رہا ہے۔

کرونا وبا کے نتیجے میں خیبر پختونخوا سب سے زیادہ مشکلات اور چیلنجز کا شکار ہے، جہاں شرح اموات زیادہ ہے اور متاثرین کی تعداد میں روز بروز اضافے کے سبب مختلف سماجی اور معاشی مسائل نے جنم لینا شروع کر دیا ہے۔

اس تناظر میں صحت کا بجٹ کیسا ہوگا اور اس میں موجودہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا ریلیف موجود ہے؟ اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو  سے خصوصی بات چیت کے دوران وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلے سالوں میں متوازن بجٹ پیش کیے ہیں، یعنیٰ جتنا ریونیو تھا اتنے ہی اخراجات رہے لیکن اس دفعہ ریونیو پر بہت دباؤ ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود اس بجٹ میں عوام کے لیے ریلیف بھی ہے اور صوبے کی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے گا۔ ’اس مد میں ہم نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک الگ گرانٹ مختص کی ہے جس میں مریضوں کے علاج معالجے سے لے کر  ہیلتھ، ریسکیو، انتظامی معاملات، احساس پروگرام، طبی عملے کی ضروریات وغیرہ ان  تمام چیزوں کے لیے فنڈ ہوگا۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم پہلے سے ہی ہسپتالوں میں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش میں ہیں جس کے نتیجے میں طبی عملے کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ  ہم تمام صوبے میں بستروں کی تعداد 500 تک بڑھا رہے ہیں۔‘

چونکہ طبی عملے کو فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے، کیا اس بجٹ میں ان کی تنخواہوں کو بڑھانے یا انہیں کوئی الاؤنس دینے کے لیے بھی کچھ ہوگا؟

اس کے جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا: ’تنخواہیں بڑھانے کے حوالے سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، حالانکہ میری ذاتی خواہش تو بہت ہوگی کہ ایسا ہو لیکن میری تمام ڈاکٹر ایسوسی ایشنز سے بات ہوئی ہے اور انہیں باور کروایا ہے کہ جیسے ہی ہمارے پاس فنڈز آئیں گے، ہم ان کی ضروریات کووقتاً فوقتاً پورا کرتے رہیں گے۔ چونکہ وہ فرنٹ لائن پر ہیں اس کے لیے طبی عملے کو پہلے ہی ایک سپیشل پیکج دیا جا رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیمور جھگڑا نے مزید اس حوالے سے بتایا کہ وہ ڈاکٹر حضرات کے مسائل، شکایات اور پروموشنز کے حل کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

بجٹ میں عوام کے لیے کیا خوش خبری ہے؟ اس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ’نئے مالی سال کے بجٹ میں اس بار خیبر پختونخوا کے صحت کارڈ کے تحت تمام خاندانوں کے لیے فل فنڈنگ ہے۔ یعنی ہر خاندان، چاہے وہ صاحب حیثیت ہے یا غریب، سب کو یکساں طور پر یہ سہولت دی جائے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ان کی حکومت کو بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے لہٰذا اگر عوام ان پر بجا تنقید کریں گے تو اس سے صحت اور  دوسرے اداروں میں بہتری آئے گی، تاہم اگر بے جا تنقید کریں گے اور حکومت کو سپورٹ نہیں کریں گے تو مسائل بڑھتے جائیں گے اور ملکی معیشت کمزور ہوتی رہے گی۔

پچھلے ہفتے عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کے نام ایک خط میں تجویز دی تھی کہ وہ دو ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی اور دو ہفتے سختی کریں کیونکہ ادارے کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی اختیار کرنے کی وجہ سے ہی ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بجٹ اور اقتصادیات کے موضوع پر بات چیت کے دوران وزیر خزانہ سے اس بابت بھی پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے لیے اس پر من و عن عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ ’لاک ڈاؤن اور دیگر ضروری اقدامات کو ہم بالکل مانتے ہیں، لیکن ہم صرف اس علاقے میں لاک ڈاؤن لاگو کریں گے جہاں ضرورت ہوگی کیونکہ اس وقت ہماری معیشت خطرے میں ہے جس کی وجہ سے ریونیو میں اتنی بڑی کمی آئی ہے۔‘

خیبر پختونخوا کو  وفاق کی جانب سے اس بار 90 ارب روپے کی عدم فراہمی اور صوبائی آمدن میں 10 ارب کمی کے باعث کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کے دس سالہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے رواں سال کے دوران مختص فنڈز کی عدم فراہمی اور نئے مالی  سال کے لیے رکھے گئے فنڈز میں کمی کے بعد خیبر پختونخوا کے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اگر 19-2018 کے مالی سال پر نظر ڈالی جائے تو خیبر پختونخوا کا کُل بجٹ  900 ارب سے زائد رہا، جب کہ اس میں صحت کے 115 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11 ارب 69 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

موجودہ بجٹ 19 جون کو سہ پہر تین بجے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کی صدارت ڈپٹی سپیکر محمود جان کریں گے۔ جب کہ تیمور جھگڑا بجٹ پیش کریں گے۔ تمام اراکین اسمبلی کو ایس او پیز کے ساتھ شرکت کا کہا گیا ہے۔ تاہم بہت سے اراکین کرونا وائرس کی علالت کی  وجہ سے اس اہم اجلاس میں شرکت سے محروم رہ جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت