سعودی خواتین تیز رفتار حرمین ٹرین چلانے کی منتظر

سعودی خواتین حرمین سروس کی زیادہ مانگ کے بعد مزید تربیت یافتہ ڈرائیورز کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد کریں گی۔

سعودی ریلوے پولی ٹیکنک کے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو کے اس سکرین گریب میں ایک نوجوان سعودی خاتون کو حرمین ایکسپریس کی تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے (تصویر: @SRP_KSA)

سعودی ریلوے پولی ٹیکنک (ایس آر پی) نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ اس نے حرمین ایکسپریس ٹرین لیڈرز پروگرام میں تربیت حاصل کرنے کے لیے سعودی خواتین کی رجسٹریشن کھول دی ہے۔

سعودی خواتین جلد ہی مملکت کی حرمین ایکسپریس ٹرین چلا سکیں گی۔ یہ تیز رفتار سروس ہے جو مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کو آپس میں جوڑتی ہے اور توقع ہے کہ ایک سال میں 60 ملین مسافر اس کے ذریعے سفر کریں گے۔

خواتین گریجویٹس ان مرد ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی جنہوں نے گذشتہ پروگرامز کے دوران گریجویشن کیا ہے۔

اس پروگرام کے لیے رجسٹریشن ایک سال تک جاری رہتی ہے اور رینفے کے ایس اے نامی کمپنی میں ملازمت کو یقینی بناتی ہے جو کہ ہائی سپیڈ ٹرین پروجیکٹ کو چلانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ رجسٹریشن پولی ٹیکنک کی ویب سائٹ پر 13 جنوری تک کھلی ہوئی ہیں۔

ایس آر پی کے جنرل منیجر عبدالعزیز السُغیر نے کہا ہے کہ تربیتی پروگرام 15 فروری سے جدہ میں شروع ہوگا اور اس میں ریل پروجیکٹ سے منسلک کام کی جگہوں پر عملی تربیت بھی شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی خواتین حرمین سروس کی زیادہ مانگ کے بعد مزید تربیت یافتہ ڈرائیورز کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد کریں گی۔

تربیت یافتہ افراد کو تربیتی مدت کے دوران ماہانہ چار ہزار سعودی ریال بونس ملے گا اور وہ زیر تربیت ملازم کے طور پر سوشل انشورنس سکیم میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد خواتین کو آٹھ ہزار سعودی ریال تک ماہانہ تنخواہ ملے گی۔

ایس آر پی کے جنرل منیجر عبدالعزیز السُغیر کا کہنا ہے کہ ’وطن کی بیٹیاں باصلاحیت قومی نوجوانان منصوبے کا ایک اہم جزو ہیں کیوں کہ وہ ریلوے کی صنعت کی ترقی اور اس کی پائیداری میں اپنا حصہ ڈالیں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ان کی مہارت، کارکردگی اور خدمات کے معیار کو بڑھانے اور سعودی عرب کو ایک عالمی لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرکے مملکت کے وژن 2030 کو حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر