سوڈان میں مفادات کی کھچڑی

کیا خونی جھڑپوں اور مظاہروں کے دوران سوڈان کا انقلاب مصر جیسی صورتحال اختیار کر سکتا ہے؟

 سوڈانی عوام کے لیے غذائی قلت بڑا مسٔلہ بن چکا ہے(اے ایف پی)

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لینا آسان کام نہیں ہے لیکن اپریل میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں عمرالبشیر کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد مبارک باد کے پیغامات کا سیلاب مصر کے خونی انقلاب کی یاد دلاتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ہٹانے سے فوج کی اقتدار پر گہری گرفت سے کیسے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے؟

اور یہ کہ وسیع اثر و رسوخ رکھنے والی سوڈانی فوج کو کیسے لگام دی جائے جبکہ خطے کی طاقتیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں جن کے بحیرہ احمر کے کنارے واقع اس اہم ملک سے گہرے مفادات وابستہ ہیں؟

خونی جھڑپیں

گذشتہ ہفتے خرطوم کی گلیوں میں رونما ہونے والے خونی واقعات ہمیں مصر کی یاد دلاتے ہیں جب لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان کی سربراہی میں قائم سوڈانی عبوری فوجی کونسل اور اس سے وابسطہ دیگر سیکورٹی کے اداروں بشمول ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا جنہوں نے مظاہرین کو گولیوں سے بھون ڈالا۔

تاہم مظاہرین بھی اس وقت تک دھرنا چھوڑنے کے لیے راضی نہیں ہیں جب تک کہ وہ مجوزہ عبوری حکومت میں اکثریتی سول کنٹرول کا مطالبہ تسلیم کروانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔

نیم فوجی دستوں پر الزام ہے کہ انہوں نے دارالحکومت خرطوم میں مظاہرین کے ایک کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا، مختلف رپورٹس کے مطابق اس کریک ڈاون میں 113 افراد مارے گئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق آر ایس ایف کے اہلکاروں نے مظاہرین کو نہ صرف گولیوں سے چھلنی کر ڈالا بلکہ کئی افراد کی موجودگی کے باوجود مظاہرین کے خیموں کو نذر آتش کر دیا جبکہ دیگر افراد کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اس کریک ڈاون کے ثبوت مٹانے کے لیے ہلاک ہونے والے مظاہرین کی لاشوں کو دریا نیل میں بہا دیا۔

لاشیں گننے والے مظاہرین اور اپنے گمشدہ پیاروں کو تلاش کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں حالات میں بہتری کی امید نہیں ہے۔

فوجی مفادات

مقامی خاتون صحافی ریم عباس کا کہنا ہے کہ وہ [خطے کی طاقتوں کی] پراکسی وار میں پھنس کر رہے گئے ہیں۔

’ہم نہیں جانتے کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے۔ شاید یہ پورا خطہ ان مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے جن کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں۔‘

ریم عباس کا مزید کہنا تھا کہ عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوجی حکام کو دیے جانے والا تین ارب ڈالر کا پیکج پر ان کو سب سے زیادہ تحفظات ہیں۔

سوڈانی فوج کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان اور ان کے نائب اور آر ایس ایف کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد حماد دگالو خلیج کے ان دو ممالک کے بہت قریب تصور کیے جاتے ہیں جنہوں نے حال ہی میں ریاض اور ابوظہبی کا دورہ کیا ہے۔

یمن جنگ

سوڈان کی باقاعدہ فوج کے علاوہ اس کے حمایت یافتہ 14 ہزار عسکریت پسند بھی یمن میں سعودی سربراہی میں جاری جنگ میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے رہے ہیں۔

سعودی خصوصاً اماراتی جن کے 45 فوجی 2015 کے میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، نے اپنی باقاعدہ فوج کی بجائے نئے اتحادی اور نجی ملیشیا پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے اور سوڈان کے عسکریت پسند ان کے لیے بہترین انتخاب تھا۔

یمن میں سوڈان کی مدد کے پیش نظر خلیجی ممالک اس ملک کو خانہ جنگی میں جاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے اسی لیے انہوں نے عبوری فوجی کونسل کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا ہے۔

خلیجی ممالک کیسے چاہیں گے کہ سوڈان میں ایسی سویلین حکومت آ جائے جو فوری طور پر یمن سے اپنی فوج واپس بلانے کا حکم دے دے اور نیم فوجی دستوں سے ڈافر اور دیگر مقامات پر کیے گئے مظالم کا حساب مانگے؟

زرعی زمین

صرف فوجی مدد ہی خلیجی ممالک کی سوڈان میں دلچسپی کی واحد وجہ نہیں ہے بلکہ خواراک کی کمی کی شکار یہ ریاستیں دریائے نیل کے دونوں جانب سوڈان کی زرخیز زمین پر بھی نظریں جمائے بیٹھی ہیں اور دھڑا دھڑ زرعی زمینیں خرید رہی ہیں تا کہ یہاں سے حاصل کردہ اناج، سبزیوں اور پھلوں سے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کا پیٹ بھر سکیں۔

 2016 میں سوڈانی پارلیمان نے ایک بل پاس کیا تھا جس میں ملک کے مشرقی حصے میں سعودی عرب کو 10 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی اجازت دی گئی تھی، یہ علاقہ سعودی بندرگاہ جدہ سے ایک دن سے بھی کم بحری سفر پر واقع ہے۔

سعودی، اماراتی، مصری اور قطری سرمایہ کار سوڈان میں وسیع زرعی رقبہ خرید چکے ہیں جہاں وہ اناج، سبزیاں اور جانوروں کے لیے چارہ کاشت کر رہے ہیں۔

ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ترکی، مصر، امارات، سعودی عرب اور اردن سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار سوڈان میں مزید 85 لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ خرید رہے ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال میں جب سوڈان کے آبی اور زرعی وسائل پر بیرونی قبضہ بڑھتا جا رہا ہے، افریقہ کا یہ سب سے زرخیز ملک اپنی ہی آبادی کو خوراک مہیا کرنے سے قاصر ہے۔

 غذائی قلت بھی سوڈانی عوام کے لیے بڑا مسٔلہ بن چکا ہے جس نے عوام میں غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور یہ عمر البشیر کا تختہ الٹنے کی وجوہات میں سے ایک ہے۔

مصر کا کردار

دوسری جانب مصر اپنی سرحد کے قریب ایک اور بغاوت کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا ہے جہاں قائرہ پر سابق فوجی سربراہ السیسی اخوان مسلمین کی حکومت گرا کر اقتدار پر قابض ہو گئے تھے۔

مصر جو افریقن یونین کا موجودہ صدر بھی ہے، کبھی نہیں چاہے گا کہ سوڈان سے اٹھنے والی بغاوت کی لہر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے اسی وجہ سے وہ سوڈانی فوج کی حمایت کر رہا ہے۔

قائرہ اپنی سرحد کے قریب خانہ جنگی بھی نہیں دیکھنا چاہے گا۔

مغرب کا کردار

اگرچہ مغربی ممالک نے سوڈان کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم ان سے اس سے زیادہ کی امید نہیں کی جا سکتی۔

مغربی ممالک بشمول امریکہ نے موجودہ صورتحال میں اقتدار کی سویلین حکومت کو پرامن منتقلی پر زور دیا ہے تاہم وہ اپنے خلیجی اتحادیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ بھی مول لینے کو تیار نظر نہیں آتے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر