امریکہ میں ریکارڈ تعداد میں لوگ مستعفی کیوں ہو رہے ہیں؟

مستعفی ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق ہوٹلنگ اور ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ہے جنہیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا کی وجہ سے ان کی نوکریاں متاثر ہوں گی۔

نیویارک میں تین جنوری کو لوگ سٹاک ایکس چینج کے آگے سے گزر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی کے ادارۂ شماریات کے مطابق نومبر 2021 میں 45 لاکھ افراد اپنی نوکریوں سے مستعفی ہو گئے، جو ایک ماہ کا ریکارڈ ہے۔

ادارے کے مطابق مستعفی ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق ہوٹلنگ اور ریسٹورنٹ انڈسٹری سے ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، ویئر ہاؤسنگ اور یوٹیلٹی کے شعبوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے نوکریاں چھوڑیں۔

امریکی ادارے انڈیڈ ہائرنگ لیب میں ریسرچ ڈائریکٹر نک بنکر نے سی این این کو بتایا کہ ’ملازمین تاریخی تعداد میں نوکریاں چھوڑ رہے ہیں۔ کم تنخواہ والے سیکٹر کرونا کی وبا سے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں اور زیادہ تر انہی شعبوں کے لوگ مستعفی ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو خدشہ ہے کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے ان کی نوکریاں خطرے میں ہیں اس لیے وہ ان شعبوں کو چھوڑ کر دوسرے شعبوں میں جا رہے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ یہ بات امریکی معیشت کی مضبوطی کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ لوگوں کو دوسرے شعبوں میں نوکریاں دستیاب ہیں جبھی انہیں اعتماد ہے کہ اپنی موجودہ نوکری سے زیادہ محفوظ یا زیادہ بہتر نوکری انہیں دستیاب ہو جائے گی۔

کرونا کے بحران کا اثر خاص طور پر ہوٹلنگ اور فوڈ سروسز کو ہو رہا ہے۔  نئی نوکریوں میں کمی انہی دو شعبوں میں دیکھنے میں آئی اور ان میں دو لاکھ 61 ہزار نوکریاں کم ہو گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک اور نکتہ یہ ہے کہ یہ ایسے شعبے ہیں جن میں نوکریاں کرنے والوں کی بڑی تعداد کم تعلیم یافتہ ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرے ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی کرونا کی وبا سب سے زیادہ معاشرے کے نچلے طبقوں کو متاثر کر رہی ہے۔ 

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ اعداد و شمار کرونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ کے کیسوں میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ میں گذشتہ روز ایک ہی دن میں دس لاکھ کے قریب کرونا کے کیس سامنے آئے جو اب تک کا ریکارڈ ہے۔

خدشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں کرونا وائرس کی اس تازہ لہر کی وجہ سے مزید لوگوں کی نوکریاں متاثر ہوں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت