کوئٹہ جیل میں سرگرمیوں کا مقصد مثبت سوچ پیدا کرنا ہے: آئی جی جیل

کوئٹہ کی اس جیل میں قیدی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے آرٹ کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ایک ماہر استاد انہیں آرٹ سکھاتے ہیں۔

عام طور پر قیدیوں اور جیل کو سنگین جرائم سے جوڑا جاتا ہے لیکن اب بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کے حالات زندگی بدلنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے ان کی فنی صلاحیتیوں کو اجاگر کیا جا سکے۔

ان تبدیلیوں کا آغاز کوئٹہ کی قدیم جیل جو 1939 میں قائم کی گئی، سے کردیا گیا ہے۔ اب یہاں قیدی نہ صرف مصوری اور میوزک سیکھ رہے ہیں بلکہ ان کی جسمانی صحت کا بھی خیال رکھا جا رہا ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات بلوچستان عثمان صدیقی نے یہ باتیں انڈپینڈنٹ اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب اگر کوئی کوئٹہ کے سینٹرل جیل کا دورہ کرے تو اسے بہت کچھ تبدیل ملے گا۔‘

انہوں نے بتایا: ’شروع میں یہاں حالات بہت برے تھےاور دیکھا گیا کہ ملاقات کرنےوالوں کی لائن لگی ہوتی تھی جو زمین پر بیٹھے ہوتے تھے۔ میری تعیناتی کے بعد حکومت بلوچستان نے جیل میں اصلاحات کے حوالے سے کام کا کہا۔ میرا چونکہ پولیس کا تجربہ ہے جیل کا نہیں تو یہ میرے لیے پہلا تجربہ تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پہلے ہم سوچتے تھے کہ کسی کو جیل میں بند کر کے اپنا کام پورا کر دیا۔ لیکن بنیادی طور پر جیل کا مقصد قیدیوں کی اصلاح کرنے کے ساتھ اس کو ایسا ہنر سکھانا ہے تاکہ وہ باہر نکل کر دوبارہ وہ جرم نہ کرے جوانہوں نے پہلے کیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’جب میں نے چارج سنبھالا تو یہاں جیل میں معاملات بہتر نہیں تھے۔ قیدیوں کے بالوں میں جوئیں تھیں۔ ان کے پاس کپڑے اور جوتے تک نہیں تھے۔ اس دوران کراچی میں ہمارے دوستوں کا ایک گروپ ہے جس کا نام سیچرڈے ویلفیئر گروپ ہے۔ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم آپ کو قیدیوں کے جرمانے کی رقم فراہم کریں گے۔‘

عثمان صدیقی نے بتایا کہ ’یہاں بہت سے ایسے قیدی تھے، جنہوں نے اپنی قید کی مدت پوری کرلی تھی۔ لیکن وہ دیت اور قصاص کے پیسے نہ دینے کے باعث رہا نہیں ہورہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’کراچی کے اس گروپ نے ان قیدیوں کے حوالے سے ہمیں 40 لاکھ روپے کی رقم ادا کی۔ جس کے ذریعے ان قیدیوں کی رہائی ملی۔‘

ان کے مطابق ’دوسرا بڑا مسئلہ جو میں نے یہاں دیکھا کہ پینےکا صاف پانی میسر نہیں۔ اگر ہم کسی کو ڈیرہ مراد جمالی اورسبی میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ میں گرم پانی پلائیں تو اس سے بڑی اذیت اور کیا ہوسکتی ہے۔‘

آئی جی جیل بلوچستان عثمان نے بتایا کہ ’انہی دوستوں نے ہماری ساری جیلوں میں واٹر پیوریفکیشن پلانٹس اور واٹر چلنگ ایکوپمنٹس لگائے وہ بھی انڈسٹریل کی سطح کے ہیں، کوئی کولر وغیرہ نہیں ہیں۔‘

عثمان صدیقی نےبتایا کہ انہوں نے یہاں پر آرٹ کی کلاسیں شروع کردیں۔ جو ان کے پیسوں سے شروع ہوئیں۔ پہلے ایک کلاس لگائی، جس کا بڑا اچھا رزلٹ آیا اور ہماری ایک منسٹر صاحبہ نے ایک پینٹنگ بھی خریدی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس آرٹ سکول کا خرچہ سالانہ 25 سے 26 لاکھ روپے ہے۔ اس دوران ان کی اور فیملی کی بس ہوگئی تھی۔ وہ اس پر چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ کرچکے تھے۔

عثمان صدیقی کے مطابق اب کراچی کے فیروز سننز والوں نے اس کو سپانسر کیا ہے۔ وہ دوسرا سکول گڈانی جیل میں کھول رہے ہیں۔ جس کے بعد50 سے 60 لاکھ روپے قیدیوں کے سکول پر خرچ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ یہاں کمپیوٹر کی کلاسیں، میوزک کی کلاسیں اور قیدیوں کو ہنر سکھانے کے لیے انہوں نے اپنے پلمبر اور الیکٹریشن کو ہائر کیا ہے۔ ان کو پہلے تربیت دی اور اب وہ دوسرے قیدیوں کو یہ ہنر سکھا رہے ہیں۔

آئی جی جیل جیل نے بتایا کہ ’ایک دن کرکٹر شاہد آفریدی میرے گھر آئے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ ان کی  فاؤنڈیشن ہے وہ اس کے ذریعے جیل کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’شاہد آفریدی نے 30 سیکنڈ لگائے اور مجھے کہا کہ بس ہوگیا۔ پھر انہوں نے اپنا بندہ بھیجا اور یہاں دو مہینے کے اندر ایک فٹ سال کا گراؤںڈ بنا دیا۔ جو آپ کے گلی محلوں میں بھی نہیں ہوگا۔ میں کراچی ڈیفنس میں رہتا ہوں وہاں بھی نہیں ہے۔‘

عثمان صدیقی کہتے ہیں کہ ’ایک دن چیف جسٹس بلوچستان جیل کے دورے پر آئے تو انہوں نے ملاقات کرنے والی جگہ پر قیدیوں کو زمین پر بیٹھے دیکھ کر مجھے ڈانٹ پلائی کہ یہ کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق کوئٹہ جیل میں اس وقت 40 بچے، 24 خواتین سمیت 665 قیدی ہیں۔ جن کی تعداد میں کمی اور اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’کراچی میں ایک این جی او ہے۔ سوسائٹی فار ایڈوانس منٹ آف دی ہیلتھ، ایجوکیشن ان دی انوائرمنٹ کے نام سے جو قیدیوں کی اصلاح کا کام کرتی ہے۔ انہیں بیٹھنے بات کرنے اور دوسروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے یہ سکھاتی ہے۔‘

عثمان کے مطابق: ’انہوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے کراچی جیل میں چار ہزار قیدیوں کو یہ کورس کرایا ہے جن میں صرف چار قیدی واپس آئے۔ یہی پروگرام ہم نے گڈانی جیل میں شروع کردیا ہے۔‘

’اس پروگرام میں ایک قیدی نے جب گریجویٹ کیا تو اس نے ہمیں خط لکھا ہے کہ اگر میں نے یہ کورس جیل آنے سے پہلے کیا ہوتا تو شاید میں کبھی جیل میں نہ ہوتا۔ یہ کورس اب کوئٹہ اور خضدار کےجیلوں میں بھی کروانے کا مںصوبہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ قیدیوں کو موبائل مرمت کا کورس کرائیں گے۔ چونکہ یہ قیدی سزا یافتہ ہیں اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ ہے تویہ کوئی نوکری نہیں کرسکتے۔ لیکن اگریہ لوگ موبائل کی مرمت کا کام سیکھ جاتے ہیں تو کہیں بھی کھوکھا لگا کر اپنی روزی روٹی کماسکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’اس کے لیے ہم نے مدد کرنے والا بندہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اور یہ کام کوئٹہ اور خضدار میں جلد شروع کر دیا جائے گا۔‘

جیل میں ان نئی تبدیلیوں اور اصلاحات کے نتیجے میں سرگرمیوں کی انتہائی مثبت اور دلچسپ صورت نظر آ رہی ہے اور کم سن قیدی جو مصوری کررہے ہیں۔ انہیں دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ یہ وہ ہیں جن کو اس سے پہلے علم نہیں تھا۔

کوئٹہ کی اس جیل میں قیدی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے آرٹ کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ایک ماہر استاد انہیں آرٹ سکھاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا