فوج کا سوڈان

وزیر اعظم عبداللہ حمدوک کا استعفیٰ سوڈان میں جدید شہری ریاست کے قیام کے لیے ہونے والی سول کوششوں کی ناکامی ہے۔

21 اگست 2019 کو لی گئی اس فائل فوٹو میں عبد اللہ حمدوک دارالحکومت خرطوم میں سوڈان کے عبوری وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے بعد دیکھائی دے رہے ہیں۔ عبداللہ حمدوک کے استعفیٰ کے بعد سوڈان ایک مرتبہ پھر سیاسی افراتفری کا شکار ہو گیا ہے (اے ایف پی)

وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے استعفیٰ کے بعد سوڈان ایک مرتبہ پھر سیاسی افراتفری کا شکار ہو گیا ہے۔ حمدوک دو ماہ سے بھی کم مدت پہلے فوجی جنتا کے رہنماؤں کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر دوبارہ فائز ہوئے تھے۔ اس سمجھوتے کو سویلین اور سیاسی حلقے مسترد کر چکے ہیں۔

فوجی رہنما جنرل عبدالفتاح البرہان نے ملک میں فوری عبوری حکومت کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ملک کے طول وعرض میں ایک مرتبہ شروع ہونے والے عوامی احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے۔ جمہوریت نواز گروپوں کا مطالبہ ہے کہ فوج اقتدار سے دور رہے، تاہم فوج کا سوڈان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔

تین سال قبل دسمبر 2018 کو شروع ہونے والی عوامی تحریک نے عمر البشیر کی حکومت کو مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد اتنا مضمحل کر دیا تھا کہ اگلے برس 2019 میں اپریل میں فوج نے عمر البشیر کے اقتدار پر شب خون مارا۔

اسی سال اگست میں شراکت اقتدار کا ایک فارمولا طے پایا، جس میں عبداللہ حمدوک کو عبوری کونسل کا سربراہ یعنی وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔ انہوں نے ملک میں تیل اور روٹی کی کمیابی کے خلاف ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد فروری 2021 کو کابینہ میں رد وبدل کا اعلان کیا۔

آگے چل کر فوج نے اکتوبر 2021 میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے عبوری کونسل تحلیل کر دی اور سویلین رہنما گرفتار کر لیے۔ اس وقت ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور کئی درجن سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

گذشتہ برس نومبر سے سوڈان کے عوام اس معاہدے کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نام نہاد ساورن کونسل پر فوجی کنٹرول ختم کیا جائے۔

عبداللہ حمدوک نے خود کو فوجی جنتا کے ساتھ نتھی کر کے فوج پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا، جو بالآخر غلط ثابت ہوا۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں حمدوک کو فورسز آف فریڈم اینڈ چینج کے اس ’سیاسی انکوبیٹر‘ سے محروم ہونا پڑا جس نے صدر عمر البشیر کو ایوان اقتدار سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں فوج کے ساتھ الائنس کر کے عبداللہ حمدوک ماہرین پر مشتمل عبوری حکومت بنانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ درایں اثنا سوڈانی عوام نے بڑے احتجاجی جلوس نکالنا شروع کر دیئے جنہیں فوج کی جانب سے تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش میں کم سے کم 55 افراد ہلاک ہو گئے۔

ایسے میں سویلین حکومت تشکیل دینے کی یقین دہانی پر فوج سے خیرات میں ملنے والی وزارت عظمی سے استعفی کے سوا عبداللہ حمدوک کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ حمدوک کے استعفے نے فوج کو بھی ایک عجیب صورت حال میں مبتلا کر دیا۔

فوجی جنرل البرہان سول حکومت بنانا چاہتے ہیں لیکن اس میں انہیں تاحال کامیابی نہیں ہو رہی۔ فوج کے پاس بھی زیادہ آپشنز موجود نہیں۔ فوجی قیادت کو یا تو سول اور سیاسی قیادت کے ساتھ حقیقی مذاکرات شروع کرنا ہوں گے یا پھر انہیں فوری طور پر سول عبوری حکومت تشکیل دے کر انتخاب کروانا ہوں گے۔

مظاہروں اور احتجاج روکنے کے لیے تشدد اور مواصلاتی سہولتوں پر قدغن سے سوڈان مزید افراتفری کا شکار ہو رہا ہے۔ اب تک کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ سول انتظامیہ کو اقتدار حوالے کرنے کے لیے فوج پر اعتماد خطرے سے خالی نہیں۔ کسی بھی سول انتظامیہ کو فوجی جنتا کے ہاتھ کی چھڑی بن کر چلنا پڑے گا ورنہ عبداللہ حمدوک کے ساتھ ہونے والا سلوک ایک مرتبہ پھر کسی نئے سویلین رہنما کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے۔

عبداللہ حمدوک کا استعفیٰ سوڈان میں جدید شہری ریاست کے قیام کے لیے نیا توازن قائم کرنے میں ناکامی کی دلیل دیتا ہے۔ حمدوک کا استعفیٰ سوڈان کو درپیش داخلی بحران کی وسعت اور گیرائی کا پتہ بھی دیتا ہے۔

حمدوک کا حالیہ استعفیٰ اس حقیقت کا بھی غماز ہے کہ سوڈانی عوام نے 1956 میں حاصل ہونے والی آزادی کے بعد سے اپنے ملک میں ہونے والے تجربات، بالخصوص یکے بعد دیگرے ہونے والی داخلی جنگوں سے کچھ نہیں سیکھا۔

جنوبی سوڈان کی خرطوم سے 2011 کے موسم گرما میں ہونے والے ریفرینڈم کے نتیجے میں علیحدگی اور ایک الگ ملک کے طور پر قیام کا اعلان بھی عمر البشیر کا اقتدار نہ بچا سکا، تاہم تادم تحریر سوڈان کی داخلی لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

فوج کے حمایتی تجزیہ کار عبداللہ حمدوک کے استعفیٰ کے تناظر میں اس رائے کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ سوڈانی عوام اس پیچیدہ دور کی ضروریات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوڈان کے حالات اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ فوج کے اعلیٰ عہدیدار حکومتی امور میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ملکی تعمیر میں بھی ہاتھ بٹائیں۔

اپنے مخصوص مفادات کی نگران سول ریاست کی تشکیل میں سوڈان کی سرکاری اشرافیہ ملک میں ہونے والے احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال کو اس لیے بھی جائز سمجھتی ہے تاکہ فوج اپنی موجودہ اہم پوزیشن سے دور نہ ہٹائی جا سکے۔

فوج کے حامی برملا کہتے ہیں کہ عمرالبشیر کے 30 سالہ دور اقتدار سے چھٹکارا سوڈانی عوام کی جدوجہد اور معزول صدر کے اقتدار سے علیحدگی اور فوج کی معاونت کے بغیر ممکن نہ تھا۔

دوسری جانب عمر البشیر کو ایوان اقتدار سے نکالنے کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بہت کم سوڈانی عوام جانتے ہیں کہ یہ فوج کے اعلی افسران ہی تھے جنہوں نے عمر البشیر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور پھر بعد میں ملک کے اندر خون خرابا روکنے کے لیے انہیں پابند سلاسل کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوج اور عوام کے باہمی تعاون کے باوجود عمر البشیر دور کے خاتمے کے بعد ملکی حالات میں کوئی بہتری نہ آئی۔ تا اطلاع ثانی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم دونوں دھڑوں کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے۔

سیاسی عدم بلوغت کی وجہ سے سوڈانی عوام ابھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا ملک جس دور سے گزر رہا ہے اس میں اعلیٰ فوجی افسران کا وجود غنیمت ہے۔ ملکی حالات میں بہتری تک انہیں سول حکمرانی کی بحالی کا انتظار کرنا ہو گا۔

لمحہ موجود میں سوڈان کے اندر جو بڑے اور غیر مقبول فیصلے درکار ہیں، وہ فوج کے ’کور‘ کے بغیر ممکن نہیں۔ فوج کے اعلیٰ افسران بالخصوص عبدالفتاح البرھان نہ ہوتے تو امریکہ سوڈان کو دہشت گرد ملک کی فہرست سے نہ نکالتا اور نہ افریقہ کے اس غریب ملک کے قرضے معاف ہوتے۔

جنرل البرھان خطے بالخصوص بحیرہ احمر، ہارن آف افریقہ اور دنیا میں ہونے والی اہم پیش رفت اور اس میں سوڈان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے، اس سے مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

بالفاظ دیگر ایتھوپیا، یمن اور ایران کی جانب سے بحیرہ احمر میں اپنی موثر موجودگی کی کوشش کے تناظر میں سوڈان کی سیاسی فیصلہ سازی کے لیے فوج کی حمایت ضروری ہے۔

الحدیدہ میں میڈیکل سپلائز لے کر جانے والا اماراتی پرچم بردار بحری جہاز کی حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں کے ہاتھوں ہائی جیکنگ کا واقعہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔

حوثیوں سے متعلق کون نہیں جانتا کہ وہ ایران کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر خطے کا امن تاراج کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف راست اقدام وقت کی اہم ضرورت ہے، خطے کے متاثرہ ممالک اس میں مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ