بھارت: مسلمان خواتین کی آن لائن بولی، بلی بائی سکینڈل کیا ہے؟

ٹوئٹر پر سامنے آنے والے غم و غصے کے بعد بھارت کے وفاقی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور گٹ ہب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس میں ملوث صارفین کو بلاک کر دے۔

بھارت میں پولیس اہلکار ایک خاتون اور مرد کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت لے جا رہے ہیں جن پر آن لائن ایپ پر مسلمان خواتین کی ورچوئل نیلامی میں ملوث ہونے کا الزام ہے (تصویر: روئٹرز)

دہلی پولیس نے بھارتی مسلمان خواتین کی ’بُلی بائی‘ ایپ پر آن لائن ’نیلامی‘ کے لیے نیرج بشنوئی نامی 20 سالہ طالب علم کو اس سازش کا مرکزی ملزم نامزد کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔

جمعرات کو عمل میں لائی گئی یہ گرفتاری اس کیس کے سلسلے میں ممبئی پولیس کی جانب سے بھی تین دیگر افراد کو حراست میں لیے جانے کے چند دن بعد سامنے آئی۔

’بُلی بائی‘ ایپ ہے کیا؟

نئے سال کے آغاز پر بھارت میں صحافی، سماجی کارکن اور دیگر اہم شخصیات سمیت سینکڑوں مسلم خواتین نے ُبُلی بائی‘ نامی ایک نئی ایپ پر اپنی تصاویر اور ان کے بارے میں توہین آمیز مواد دریافت کیا۔

یہی نہیں بلکہ ہوسٹنگ پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ پر مسلم خواتین کو آن لائن ’نیلامی‘ کے لیے بھی پیش کیا گیا۔

اس ایپ کا نام بھی ’بُلی بائی‘ فقرے سے اخذ کیا گیا ہے جو بھارت میں مسلم خواتین کے لیے استعمال ہونے والی توہین آمیز اصطلاح ہے۔

ایپ کو کھولنے والے صارفین کو خواتین کی زیادہ تر ایڈیٹڈ تصاویر دکھائی گئیں اور انہیں ’یور بُلی بائی آف دا ڈے‘ ٹیگ لائن کے ساتھ پیش کیا گیا۔

چند ماہ کے دوران ایسی دوسری ایپ

یہ ایپ واضح طور پر آن لائن ٹرولنگ کی ایک مثال ہے جس میں کوئی حقیقی لین دین شامل نہیں ہے اور یہ دوسری بار ہے کہ بھارت میں اس طرح کی ایپ صرف چھ ماہ کے عرصے میں سامنے آئی ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں بھی اسی طرح کی ایک ایپ ’سُلی ڈیلز‘ منظر عام پر آئی تھی۔ سُلی ڈیلز کی ہوسٹنگ بھی گٹ ہب پلیٹ فارم پر ہی کی گئی تھی۔

بُلی بائی ایپ کی طرح سُلی ڈیلز میں بھی سینکڑوں ممتاز مسلم خواتین کی تصاویر پیش کی گئیں اور انہیں ’نیلامی‘ کے لیے پیش کیا گیا۔

اس ایپ کو کھولنے والے صارفین کو بھی خواتین کی تصاویر دکھائی گئیں جس میں ایک بلکل ایسی ہی ٹیگ لائن تھی یعنی ’یور سُلی ڈیل آف دی ڈے۔‘‘

سُلی ڈیلز کیس میں آج تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی حالانکہ ایپ کو بعد میں گٹ ہب نے ہٹا دیا تھا۔

اس کے بعد گٹ ہب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نے اس طرح کی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹس کی تحقیقات کے بعد صارف کے اکاؤنٹس کو معطل کر دیا۔ یہ سب ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی تھی۔‘

قبل ازیں ’دا ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس کے ذرائع نے کہا تھا کہ وہ سُلی ڈیل کیس میں ’بنیادی سازشی کرداروں‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ذرائع نے پہلے کہا تھا کہ حکام کیلیفورنیا میں قائم گٹ ہب پلیٹ فارم سے سُلی ڈیلز کے تخلیق کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے میوچل لیگل اسسٹنس ٹریٹی (MLAT) کا استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر غم و غصہ

ہفتے کو بُلّی بائی ایپ پر تصاویر منظر عام پر آنے کے فوراً بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر کہا کہ سلی ڈیل کیس میں پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہ لانے کی وجہ سے ایسی ہی ’آن لائن نیلامی‘ پھر سے ہو رہی ہے۔

خواتین نے کہا کہ یہ ایپ دائیں بازو کی ہندو قوم پرست نریندر مودی حکومت کے دوران ملک میں بڑھتے ہوئے منقسم ماحول میں سوشل میڈیا پر انہیں ہراساں کیے جانے والی مہم کا حصہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی عصمت آرا، جن کی شکایت پر دہلی پولیس نے گذشتہ ہفتے ایف آئی آر درج کی تھی، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ مسلم خواتین کے ساتھ بار بار ایسا ہو رہا ہے اور یہ ایسے مسائل کو اجاگر کرتا ہے جن کے بارے میں لوگ بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

ٹوئٹر پر سامنے آنے والے غم و غصے کے بعد بھارت کے وفاقی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور گٹ ہب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس میں ملوث صارفین کو بلاک کر دے۔

بھارتی حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا جنہوں نے کہا کہ پولیس اور حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے سے مسلمان خواتین کو آن لائن نشانہ بنانے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

کیس میں چار گرفتار

بھارت کی وفاقی وزارت داخلہ کے زیر کنٹرول دہلی پولیس کو جہاں دونوں معاملات میں فوری کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں ممبئی میں پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔

پیر کو ممبئی پولیس نے بنگلورو سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طالب علم 21 سالہ وشال جھا کو گرفتار کیا تھا۔

پولیس نے ایک دن بعد شمالی ریاست اتراکھنڈ سے 19 سالہ شویتا سنگھ کو گرفتار کیا اور ایک اور مشتبہ شخص میانک راوت کو بدھ کو گرفتار کیا گیا۔

21 سالہ راوت دہلی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں جن کا تعلق بھی اتراکھنڈ سے ہے۔

جمعرات کو دہلی پولیس نے کہا کہ بشنوئی کو شمال مشرقی ریاست آسام سے گرفتار کیا گیا جو اس معاملے میں ’بنیادی سازش کردار‘ تھے۔

دہلی پولیس کے خصوصی سائبر سیل یونٹ کے ایک اعلیٰ افسر کے پی ایس ملہوترا نے کہا: ’خصوصی سیل نے گٹ ہب پر بُلی بائی ایپ بنانے والے مرکزی سازش کار کو گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ متنازع بلی بائی ایپ کیس مکمل طور پر حل ہو گیا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین