بھارت: مسلم خواتین کو ایپ پر’نیلامی‘ کے لیے پیش کرنے پرغصہ

مسلمان خواتین کی تصاویر ’بُلی بائی‘ نامی ایپ پر نمائش کے لیے ڈالی گئی ہیں جو بظاہر آن لائن ’نیلامی‘ کا کام کرتی ہے۔

21 جولائی 2021 کی اس تصویر میں بھارتی مسلمان خواتین حیدرآباد شہر میں نماز  ادا کرتے ہوئے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بھارت میں ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار مسلمان خواتین کی تصاویر ایک ایسی ایپ پر نمائش کے لیے ڈالی گئی ہیں جو بظاہر آن لائن ’نیلامی‘ کا کام کرتی ہے۔

اس اقدام نے جہاں اشتعال پیدا کیا، وہیں بھارتی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کارروائی کرے گی۔

’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے، جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال کی جانے والی توہین آمیز اصطلاح ہے۔

 ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں۔

بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں۔

اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

ہفتے کی رات ایک ٹویٹ میں بھارت کے وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے کہا: ’گٹ ہب نے آج صبح ہی صارف کو بلاک کرنے کی تصدیق کی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’سی ای آر ٹی (کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم)، جو ان کی وزارت کے تحت ایک دفتر ہے اور پولیس حکام مزید کارروائی کے لیے ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔‘

بلی بائی ایپ، ’سُلی ڈیلز‘ نامی ایک اور ویب سائٹ کے چھ ماہ بعد سامنے آئی ہے جس کو گیٹ ہب پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے دو شکایات درج کروائی گئی تھیں، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی اب تک کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

بلی بائی کے ذریعے نشانہ بنائے گئے صحافیوں میں سے ایک عصمت آرا نے اتوار کو دہلی پولیس سٹیشن میں شکایت درج کروائی۔

اس کے بعد دہلی پولیس نے ایک ’ابتدائی معلوماتی رپورٹ‘ (ایف آئی آر) درج کی جس میں مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دینے، قومی انضمام کے خلاف متعصبانہ الزامات اور جنسی ہراسانی سے متعلق الزامات شامل تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عصمت آرا نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’یہ بہت افسوسناک ہے کہ ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے آپ کو اپنے نئے سال کا آغاز خوف اور نفرت کے اس احساس سے کرنا ہوگا۔ یقیناً یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ #sullideals کے اس نئے ورژن میں میں واحد نہیں ہوں جسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

دی انڈی پینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مایوس ہیں کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو بار مسلم خواتین کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا:’یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایسا ہوا ہے۔ ایسا بار بار آواز اٹھانے والی مسلم خواتین کے ساتھ ہوا ہے جو ان مسائل کو اجاگر کرتی ہیں جن کے بارے میں لوگ بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

بقول عصمت ایف آئی آر درج کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی ٹھوس کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’چونکہ (سُلی ڈیلز کیس میں) کوئی حقیقی کارروائی نہیں کی گئی ہے اس لیے یہ خواتین کے ساتھ ساتھ ان مجرموں کے لیے بھی ایک اشارہ ہے۔ خواتین کے لیے اشارہ یہ ہے کہ (اگر) آپ شکایت کرتے رہیں تو آپ کو کوئی ازالہ نہیں ملے گا اور ان مجرموں کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ کسی قسم کے نتائج کا سامنا کیے بغیر یہ کام جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

اگرچہ اس ایپ کو اب گٹ ہب سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن اس واقعے پر بھارت میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی شور مچایا گیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے کہا کہ انہوں نے بار بار ایسے پلیٹ فارموں کے ذریعے خواتین کو نشانہ بنانے کی نشاندہی کی اور ’اس طرح کی بد تمیزی‘کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے۔

وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی ویشنو کے بیان کے بعد پریانکا چترویدی نے مزید کہا کہ تحقیقات کا آغاز کافی نہیں ہے۔

ایک اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی نریندر مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’حکام کی غیر فعالیت نے ان مجرموں کو بے شرم بنا دیا ہے۔‘

اگرچہ حکومت نے اس واقعے پر مزید کوئی بیان نہیں دیا ہے لیکن عصمت آرا نے کہا کہ جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کی جانب سے وہ ’حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرتی ہیں۔‘

انہوں نے دی انڈی پینڈنٹ کو بتایا کہ صرف نوٹس لینا کافی نہیں ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین