بھارتی خاتون جنہوں نے 104 سال کی عمر میں پڑھنا سیکھا

کونتھی کی اس کامیابی کو نومبر میں تسلیم کیا گیا تھا جب انہوں نے ریاستی خواندگی کے امتحان میں 100 میں سے 89 نمبرز حاصل کیے۔

کٹیاما کونتھی جنہوں نے 104 سال کی عمر میں پڑھنا سیکھا ہے 28 دسمبر 2021 کو بھارت کی ریاست کیرالہ میں واقع گاؤں تھروونچور میں اخبار کے ساتھ تصویر بنوا رہی ہیں (اے این فوٹو بذریعہ تبن آگسٹین)

جب صبح کا اخبار بھارتی ضلعے کوٹیام کے گاؤں تھروونچور میں واقع 104 سالہ کٹیاما کونتھی کے گھر پہنچتا ہے تو وہ پہلے صفحے سے لے کر آخری تک اس کا بغور مطالعہ کرتی ہیں۔

اس عیش و آرام کا چند ماہ قبل تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کیوں کہ انہوں نے چند ماہ قبل ہی پڑھنا لکھنا سیکھنے کا اپنا خواب پورا کرنا شروع کیا۔

زندگی بھر ناخواندہ، ایک پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے اور زمین سے محروم کھیتوں میں کام کرنے والوں کی سب سے چھوٹی بیٹی کونتھی جانتی تھیں کہ تعلیم ایک ایسا شوق ہے جسے وہ اپنے ابتدائی سالوں میں پورا نہیں کر سکیں گی۔

نوجوانی میں انہوں نے ایک آیورویدک دوا فروش سے شادی کی اور پانچ بچوں کی پرورش کی۔

کونتھی نے عرب نیوز کو بتایا کہ شروع میں زندگی سخت تھی اور ان دنوں بقا ہی واحد کوشش تھی۔ تعلیم ہمارے ذرائع اور تخیل اور سماجی حیثیت سے بالاتر تھی۔

کئی دہائیوں بعد اپنے 10 پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آبائی ملیالم یعنی جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ میں بولی جانے والی زبان کے حروف تہجی سیکھے۔ لیکن یہ پڑھنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

مدد غیر متوقع طور پر اس وقت آئی جب 34 سالہ پڑوسی ریحنا جان کو ان کے خواب کا علم ہوا۔

لکھنا پڑھنا سکھانے والی استانی ریحنا جان نے کونتھی کو حروف تہجی کی کتابیں دینا شروع کیں اور دونوں ہر شام پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ملتے تھے جو توقع سے زیادہ تیز تھی۔

ریحنا جان نے کہا کہ میں نے اب تک جن طلبا کو پڑھایا ہے ان میں کونتھی سب سے زیادہ ہونہار ہیں۔ انہوں نے ایک سال کا کورس تین میں مکمل کرلیا ہے۔

کونتھی کی اس کامیابی کو نومبر میں تسلیم کیا گیا تھا جب انہوں نے ریاستی خواندگی کے امتحان میں 100 میں سے 89 نمبرز حاصل کیے تھے اور کیرالہ کے وزیر تعلیم وی سیونکوٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے امتحان کے نتائج کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان میں بتایا گیا تھا کہ ’علم کی دنیا میں داخل ہونے میں عمر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔‘

کونتھی اب ابتدائی اسکول کے چوتھے سال میں داخلہ لے سکتی ہیں۔ ایک نیا باب جس کی وہ منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ میں پڑھ سکتی ہوں۔ میں نے کبھی بھی اپنے خواب کو مرنے نہیں دیا اور میں اس خواب کو جینا چاہتی ہوں۔‘

وہ اپنی اچھی صحت کو فعال ہونے کی وجہ قرار دیتی ہیں۔ کچھ سماعت اور بینائی میں کمی کے علاوہ، صد سالہ طالب علم کو کوئی بیماری نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ بے کار نہ بیٹھیں اور اپنے آپ کو مشغول رکھیں تو اس سے آپ صحت مند رہتے ہیں۔‘

آج کل گھر کا کام کرنے سے پہلے ان کی صبح کی پہلی مصروفیت مقامی ملیالم زبان کا اخبار کیرالہ کوموڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں واقعی اخبار ڈھونڈتی ہوں اور اس میں جو کچھ بھی شائع ہوتا ہے اسے پڑھتی ہوں۔ یہ میری ایک عادت ہے اور جس سے مجھے اچھا محسوس ہوتا ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا