گولڈن گلوبز: ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘ اور ’دا پاور آف دا ڈاگ‘ فاتح

گلیمر اور چکا چوند سے عاری اس سادہ سی تقریب کو ٹی وی پر براہ راست دکھانے کے بجائے لائیو بلاگ پر نشر کیا گیا جہاں ’دا پاور آف دا ڈاگ‘ اور ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘ نے بہترین فلموں کا ایوارڈ جیتا۔

ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تصویر جس میں ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘کے لیے  آریانا ڈی بوس کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

’دا پاور آف دا ڈاگ‘ اور ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘ نے اتوار کو ہونے والی گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں بہترین فلموں کا ایوارڈ جیت لیا ہے تاہم یہ ایوارڈز وصول کرنے کے لیے کوئی سٹار موجود نہیں تھا۔

گلیمر اور چکا چوند سے عاری اس سادہ سی تقریب کو ٹی وی پر براہ راست دکھانے کے بجائے لائیو بلاگ پر نشر کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہدایت کارہ جین کیمپئن کی ’دا پاور آف دا ڈاگ‘ کسی خاتون کی ہدایت کاری میں بنی ایوارڈ جیتنے والی دوسری فلم بن گئی ہے۔ فلم کو بہترین ہدایت کار اور کوڈی سمٹ میکفی کے لیے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی ملا ہے۔

دوسری جانب سٹیون سپیل برگ کی ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘ کے ری میک نے بہترین کامیڈی یا میوزیکل کے ساتھ ساتھ ریچل زیگلر اور آریانا ڈی بوس کے لیے مرکزی اور معاون اداکارہ کے انعامات بھی جیتے۔

وِل سمتھ اور نکول کڈمین نے ’کنگ رچرڈ‘ اور ’بیئنگ دا ریکارڈوز‘ میں اپنی اداکاری کے لیے بہترین اداکار اور اداکارہ کے انعامات جیتے۔

لیکن بیورلی ہلٹن میں منعقدہ اس تقریب میں یہ سٹارز معمول کے مطابق موجود نہیں تھے۔

گلولڈن گلوب ایوارڈز کی اہمیت اور چکا چوند کے برعکس منتظمین کی اخلاقی خامیوں پر ایک طویل عرصے سے جاری تنازع کی وجہ سے اتوار کو کسی قسم کی چکا چوند نظر نہ آئی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی اشاعتوں سے تعلق رکھنے والے 100 تفریحی مصنفین کے گروپ ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن پر بدعنوانی سے لے کر نسل پرستی تک کا الزام لگایا گیا ہے۔

گولڈن گلوب کو روایتی طور پر ہالی وڈ کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ گذشتہ سالوں میں، اس ایوارڈ شو کو لاکھوں ٹی وی ناظرین نے دیکھا اور سوشل میڈیا پر پرجوش بحث اور میمز کو جنم دیا، تاہم اس سال این بی سی نے اسے نشر نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاس اینجلس ٹائمز نے گذشتہ سال یہ انکشاف کیا تھا کہ ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن میں کوئی سیاہ فام ممبر نہیں تھا، جس کے بعد ہالی وڈ کے تمام سٹارز بشمول ٹام کروز جیسے ٹاپ فنکاروں پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

اس سکینڈل کے بعد ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن نے اصلاحات کی طرف تیزی سے کام کیا اور کئی سیاہ فام اور دیگر اقلیتی اراکین کو شامل کیا۔

اس نے ممبران کو اپنے ووٹ دینے والے سٹوڈیوز سے شاہانہ تحائف لینے اور ہوٹل میں قیام کرنے پر پابندی لگا دی اور اپنے فلاحی کاموں کو اجاگر کیا۔

اتوار کو بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی تقریب کے دوران ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن نے جیمی لی کرٹس کی پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کو ٹویٹ کیا جس میں گروپ کے کمیونٹی کام کی تعریف کی گئی۔

اپنی ٹویٹ میں کرٹس نے کہا: ’مجھے اس منصوبے میں ان کے ساتھ منسلک ہونے پر فخر ہے۔‘

لیکن مشہور شخصیات اس موقع پر واضح طور پر غیر حاضر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گولڈن گلوبز ویب سائٹ کے لائیو بلاگ پر قارئین کو مطلع کیا گیا: ’کوئی اور ایوارڈ کمیونٹی دوسروں کے ساتھ اتنی محبت اور سخاوت نہیں دکھاتی، جیسا کہ ہالی وڈ فارن پریس ایسوسی ایشن۔‘

کسی بھی ایوارڈ یافتہ اداکار نے فوری طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی جیت کا جشن نہیں منایا، تاہم ’ویسٹ سائیڈ سٹوری‘ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے کاسٹ اور عملے کو تین گلوبز جیتنے پر مبارکباد ضرور دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن