آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں تو سکیورٹی پر فرق پڑتا ہے: عمران خان

قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن کے اجرا کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ’غریب ممالک معاشی مشکلات کی صورت میں آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں کیوں کہ وہ آسان قرضے دیتے ہیں لیکن پھر ان کی شرائط بھی ماننی پڑتی ہیں تو سکیورٹی پر فرق پڑتا ہے۔ ‘

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر معاشی مشکلات کی وجہ سے مجبورا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جاتے ہیں تو سکیورٹی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ 

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعے کو اسلام آباد میں قومی سلامتی پالیسی کے عوامی ورژن کے اجرا کے موقع پر خطاب کے دوران کیا، جس میں سول اور فوجی اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

تقریب سے خطاب میں عمران نے کہا کہ ’غریب ممالک معاشی مشکلات کی صورت میں مجبورا آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں کیوں کہ وہ آسان قرضے دیتے ہیں تو ان ہی کے پاس جانا پڑتا ہے لیکن پھر ان کی شرائط بھی ماننی پڑتی ہیں تو سکیورٹی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ سمجھوتہ سکیورٹی فورسز والا نہیں ہے لیکن عوام پر معاشی بوجھ پڑتا ہے اور ٹیکسز لگانے پڑتے ہیں۔‘

انہوں نے نیشنل سکیورٹی ڈویژن کو جامع اور اتفاق رائے سے تیار کردہ قومی سلامتی کی پالیسی تیار کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔ 

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کو محفوظ بنایا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس قومی سلامتی پالیسی میں ’انکلوسو گروتھ کا خیال پیش کیا ہے، جو کہ دراصل مدینے کی ریاست کا خاصہ ہے۔ یعنی ریاست اپنے غریب طبقے کو بچانے کی ذمہ داری لیتی ہے جو سکینڈینیوین ممالک میں ہے۔‘

اس سے قبل وزیراعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اپنے خطاب میں قومی سلامتی پالیسی کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی میں معاشی تحفظ کو مرکزیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اتفاق رائے سے قومی سلامتی پالیسی کی تعریف بھی وضع کی ہے جو یہ ہے کہ ’پاکستان کے عام شہری کا جسمانی اور معاشی تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور اولین ترجیح ہوگی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی میں دیگر چند چیزوں کے بھی تذکرے ہیں جن میں گورننس بھی شامل ہے۔

مشیر برائے قومی سلامتی کے مطابق: ’اس سے قبل گورننس اور شفافیت کو قومی سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا تھا لیکن اس پالیسی میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ اگر یہ نہیں ہوگا تو آپ اپنے معاشرے کو اکھٹا کرنے کی بات نہیں کر سکتے۔‘

معید یوسف نے کہا کہ ہم پاکستان میں ’جیو اکنامکس کی بات کرتے ہیں جو کہ لازمی سی چیز ہے یعنی معاشی سلامتی ملکی سلامتی سے منسلک ہے لیکن یہ جیو سٹریٹیجی سے علیحدہ چیز نہیں ہے۔ ہماری توجہ جیو سٹریٹجی پر ہے اور رہے گی کیوں کہ جس خطے میں ہم رہتے ہیں، ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے لیکن آگے چلتے ہوئے ہماری توجہ جیو اکنامکس پر بھی ہوگی۔‘

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بتایا کہ جیو اکنامکس کا مطلب ہے کہ پاکستان راہداری کے لیے استعمال ہو، ترقیاتی شراکت داری کے لیے استعمال ہو اور تمام دنیا کو دعوت دی جائے کہ پاکستان میں آکر سرمایہ کاری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی میں آخر میں انفرادی سکیورٹی کو اہمیت دی گئی ہے جس میں آبادی، نوجوان نسل، خوراک، ماحولیات کا تحفظ اور صحت کا تحفظ شامل ہے کیوں کہ ان شعبوں کے بغیر قومی سلامتی کی بات کرنا بے معنی ہے۔

معید یوسف نے بتایا کہ آج جاری کی جانے والی پالیسی 50 سے 55 صفحات پر مشتمل ایک جامع پالیسی ہے جس کا عوامی ورژن ریلیز کیا گیا ہے البتہ اس کا کچھ حصہ حساسیت کی بنیاد پر منظر عام پر نہیں لایا جا رہا  اور اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست