طالبان کا جلد تمام لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دینے کا وعدہ

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وزارت تعلیم 21 مارچ سے شروع ہونے والے نئے افغان سال کے بعد تمام لڑکیوں اور خواتین کے لیے سکول کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد 15 جنوری 2022 کو اے پی کو انٹرویو دے رہے ہیں (تصویر: اے پی)

افغانستان میں گذشتہ سال اقتدار حاصل کرنے والی طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخر کے بعد وہ ملک بھر میں لڑکیوں کے لیے تمام سکول کھول دیں گے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو دیے جانے والے انٹریو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بین الاقوامی برادری کے اولین مطالبے کے حوالے سے پہلی ٹائم لائن پیش کی ہے۔

اگست کے وسط میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں لڑکیوں کو ساتویں جماعت سے آگے سکول جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرنے والی بین الاقوامی برادری کو خدشہ ہے کہ طالبان اپنے پہلے دورہ اقتدار کی طرح اب بھی اسی طرح کے سخت اقدامات نافذ کر سکتے ہیں۔

20 سال پہلے انہوں نے خواتین کے لیے تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی پر پابندی لگا دی تھی۔

ذبیح اللہ مجاہد، جو طالبان کے ثقافت اور اطلاعات کے نائب وزیر بھی ہیں نے کہا کہ وزارت تعلیم 21 مارچ سے شروع ہونے والے نئے افغان سال کے بعد تمام لڑکیوں اور خواتین کے لیے سکول کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پڑوسی ملک ایران کی طرح افغانستان میں بھی اسلامی شمسی ہجری کیلنڈر رائج ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرویو میں کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم حکومت کی ’صلاحیت کا سوال ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارے ہونے چاہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ لڑکیوں کے لیے ہاسٹلز کی تلاش یا تعمیر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ آبادی والے علاقوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کلاس رومز کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ سکولوں کی الگ عمارتوں کی ضرورت ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہم تعلیم کے خلاف نہیں ہیں۔‘

طالبان کی حکومت کے دوران مختلف صوبوں میں تعلیم کے لحاظ سے مختلف صورت حال ہے۔ ملک کے 34 میں سے تقریباً 10 صوبوں کے علاوہ سب علاقوں میں ساتویں جماعت سے آگے سرکاری سکولوں میں لڑکیوں کو واپس کلاس رومز میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دارالحکومت کابل میں نجی یونیورسٹیوں اور ہائی سکولوں نے بلا تعطل کام جاری رکھا ہوا ہے۔ زیادہ تر ادارے چھوٹے ہیں اور کلاسوں کو صنفی لحاظ سے الگ رکھا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’ہم آنے والے سال تک ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ سکول اور یونیورسٹیاں کھل سکیں۔‘

بین الاقوامی برادری نے طالبان کے اعلانات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے یہاں تک کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرنے کے لیے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کے بارے میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس ہفتے خبردار کیا تھا کہ لاکھوں افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

شدید سرد موسم میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں تقریباً 30 لاکھ افغان ہیں جو جنگ، خشک سالی، غربت یا طالبان کے خوف کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے 5 ارب ڈالر امداد کی اپیل کی تھی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ان حالات میں عالمی برادری سے اقتصادی تعاون، تجارت اور مضبوط سفارتی تعلقات کی اپیل کی۔

ابھی تک نہ تو افغانستان کے پڑوسی ممالک اور نہ ہی اقوام متحدہ طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

بین الاقوامی برادری نے طالبان سے زیادہ جامع حکومت کا مطالبہ کیا ہے جس میں خواتین کے ساتھ ساتھ نسلی اور مذہبی اقلیتیں بھی شامل ہوں۔

جب کہ طالبان کی نئی کابینہ کے تمام ارکان مرد اور زیادہ تر طالبان کے ارکان ہیں۔ تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ نائب وزیر خزانہ اور وزارت اقتصادیات میں وہ اہلکار ہیں جو سابقہ امریکی حمایت یافتہ انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کام پر واپس آنے والے 80 فیصد سرکاری ملازمین پچھلی انتظامیہ کے میں بھی ملازم تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین صحت اور تعلیم کے شعبے اور کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹم اور پاسپورٹ کنٹرول میں کام کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا خواتین کو سرکاری وزارتوں میں کام پر واپس آنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔

آمدنی کے ذرائع پر بات کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کی زیادہ تر آمدنی کسٹم ٹیکس سے آئے گی جو طالبان ایران، پاکستان اور شمال میں وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں سے جمع کریں گے۔

اعداد و شمار پیش کیے بغیر انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے اپنے اقتدار کے پہلے چار مہینوں کے دوران پچھلی حکومت سے زیادہ آمدنی حاصل کی ہے۔

انہوں نے فرار ہونے والے افغانوں سے اپنے وطن واپس جانے کی اپیل بھی کی۔ طالبان کی اس حکومت میں مخالفین کی گرفتاری، صحافیوں پر تشدد، سماجی کارکنوں کو دھمکیاں دینے اور خواتین کے مظاہروں کے دوران ہوائی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے ارکان کی جانب سے افغان شہریوں کو ہراساں کرنے کے کچھ واقعات کا اعتراف کیا جس میں نوجوانوں کی تذلیل اور ان کے بالوں کو زبردستی کاٹنا بھی شامل ہے۔ ان کے بقول: ’اس طرح کے جرائم ہوئے ہیں لیکن یہ ہماری حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ’یہ ہمارا پیغام ہے کہ ہمارا کسی سے کوئی تنازع نہیں ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کوئی دشمنی رہے یا کوئی اپنے ملک سے دور رہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا