حکومت اور اپوزیشن کی جاری آنکھ مچولی

اندرونی اختلافات ہوں یا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے نہ ختم ہونے والے اقدامات، حکمران جماعت نے ابھی تک اس طوفان کے جلد از جلد آنے میں کوئی کسر چھوڑی نہیں۔ پی ٹی آئی کی خوش قسمتی ہے کہ طوفان کے راستے میں بڑی رکاوٹ خود اپوزیشن ہی ہے۔

پی ڈی ایم کے اچھے دنوں کی یاد۔ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما، مسلم لیگ ن کی مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے بلال بھٹو زرداری 22 نومبر 2020 کو پشاور میں ایک ریلی کے دوران سٹیج پر اکٹھےبیٹھے ہیں(اے ایف پی)

ترمیمی فنانس بل منظور کروانے کے بعد بظاہر عمران خان کے لیے کوئی سیاسی چیلنج نظر نہیں آ رہا لیکن کسے نہیں معلوم کہ اسلام آباد کے ابر آلود موسم میں طوفان کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔

بہرحال اندرونی اختلافات ہوں یا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے نہ ختم ہونے والے اقدامات، حکمران جماعت نے ابھی تک اس طوفان کے جلد از جلد آنے میں کوئی کسر چھوڑی نہیں۔ پی ٹی آئی کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس طوفان کے راستے میں بڑی رکاوٹ خود اپوزیشن کی بڑی جماعتیں ہی بنی ہوئی ہیں۔

ن لیگ ہو پیپلز پارٹی یا پھر مولانا بظاہر تو سب کا مشترکہ قلیل مدتی ہدف عمران خان کی رخصتی ہے لیکن لانگ ٹرم ہدف اگلے سیٹ اپ میں اپنی اپنی جگہ پکی کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن، تحریک انصاف کی پے درپے غلطیوں کے باوجود یکسوئی کے ساتھ کسی مشترکہ حکمت عملی کو عملی شکل دینے میں ابھی تک ناکام رہی ہے۔

کہنے کو تو 25 جنوری کو پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں عدم اعتماد لانے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا لیکن حقیقت یہ ہے حزب اختلاف قیادت میں اس معاملے پر تضاد اور کنفیوژن ابھی تک برقرار ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ن لیگ کی اعلی قیادت عدم اعتماد کے بعد بننے والی حکومت میں شامل ہونے کے حق میں نہیں اور فی الفور نئے انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کیوں اس آپشن کو قبول کر کے اپنی سندھ حکومت بھی چند ماہ بعد ختم کروا لے؟ پیپلز پارٹی اسی صورت عدم اعتماد کے آپشن پر غور کرنا چاہے گی اگر وہ کم از کم مرکز میں ایک ایسی حکومت (ن لیگ جس کی حمایت تو کرے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی) بنانے میں کامیاب ہو جو موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے تک برقرار رہے۔

ایسا کر کے ہی پیپلز پارٹی اپنے قلیل اور طویل مدتی مقاصد حاصل کر سکتی ہے۔ یہاں ان دو بڑی جماعتوں کا عمران خان کو نکالنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن نہیں تو انتہائی پیچیدہ بن جاتا ہے۔

اس کے بعد آتی ہے مولانا فضل الرحمان کی باری جن کو بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی کنفیوژن کے بیچ، پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے صاحبزادے کے لیے قسمت آزمائی کریں۔

ایسی صورت حال میں ذہن میں سوال یہی کھٹکتا ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتیں عمران خان کو واقعی رخصت کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ اگر قومی اسمبلی میں عمران خان کو گھر بھیجنے میں طویل مدتی مقاصد آڑے آ رہے ہیں تو اپنی اپوزیشن کو حقیقی ثابت کرنے لے لیے کم از کم سینٹ میں عدم اعتماد تو لائی جا سکتی ہے؟

اس میں بھی اگر سنجیدگی دور دور تک نظر نہیں آ رہی تو پھر یہ تاثر تقویت ہی پکڑے گا کہ عمران خان کو خطرہ خود سے ہی ہے اور اپوزیشن کی سیاست صرف ان کے اقتدار کو دوام ہی بخشتی رہے گی۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی، پختونخوا کے لوکل باڈیز انتخابات میں عمران خان کی شکست کو اپوزیشن قیادت بشمول مولانا صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے سے تعبیر کیا لیکن اسی اپوزیشن نے ترمیمی فنانس بل کی منظوری کو اگلے ہی دن فون کالوں کا نتیجہ قرار دیا۔ باوجود اس کے کہ اسلام آباد کے باخبر حلقوں میں ووٹنگ سے پہلے یہ خبر آ چکی تھی کہ اپوزیشن بل کی منظوری میں رکاوٹ نہ بننے کی یقین دہانی کروا چکی ہے۔

اپوزیشن کی سیاست سے ہٹ کر اگرمعاملات کو دیکھا جائے تو مارچ سیاسی طور پر انتہائی اہم ہے۔ خود عمران خان مخصوص وجوہات کی بنا پر اگلے تین ماہ کو اہم قرار دے چکے ہیں۔ اور انہیں یہ اندازہ بھی بخوبی ہے کہ اقتدار کا یہ کھیل ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جس میں بازی پلٹانے والوں کا پلڑا بھاری ہو چکا ہے۔

لیکن عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ انہیں اپوزیشن بھی حقیقی نہیں ملی۔ تحریک انصاف کو سب سے بڑا خطرہ ان 20 ممبران اسمبلی سے ہے جو اگلا الیکشن پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے نہ لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ رائے بھی زور پکڑ چکی ہے کہ اگر تحریک انصاف کی بازی پلٹا دی جاتی ہے تو اس میں اتحادی جماعتوں سے کہیں زیادہ اپنے ہی پارٹی کے اراکین اسمبلی کا مرکزی کردار ہوگا۔

پختونخوا کے لوکل باڈیز انتخابات میں شکست پر پارٹی تنظیمیں تحلیل کرنے کے عجیب و غریب فیصلے نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ وزیراعظم زمینی حقائق سے نہ صرف بے خبر ہیں بلکہ کٹ چکے ہیں۔ وہ خود نوشتہ دیوار نہیں پڑھ پا رہے جو پرویز خٹک جیسے منجھے ہوئے سیاست دان سمجھ چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر دفاع کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے تقریبا متفق ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان پر براہ راست تنقید باکمال خٹک کا وقتی غصہ نہیں۔ پختونخوا میں شکست کے بعد عمران خان نے انہیں معاملات سنبھالنے کے لیے میدان میں تو اتارا لیکن کئی دوروں کے بعد خٹک صاحب زمینی حقائق کا اندازہ بخوبی لگا چکے ہیں۔

ایبٹ آباد میں تو پارٹی کارکنان نے ان سے جو سلوک کیا وہ شاید کیمروں کے سامنے ان کے سیاسی کیرئیر میں شرمندگی اور ہزیمت اٹھانے کا منفرد واقعہ تھا۔ پختونخوا کے بڑے شہروں تک میں گیس اور بجلی ناپید ہو چکی ہے، حکومت کی کارکردگی سے لوگ نالاں ہیں، پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی حلقوں میں جا تک نہیں پا رہے۔ ایسے میں وہ پرویز خٹک جنہیں دو تہائی اکثریت لانے کے باوجود کھڈے لائن لگایا گیا کیوں عمران خان کے لیے اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگائیں گے؟

انہوں نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں جو کیا اس سے میڈیا میں تماشہ تو لگا لیکن عمران خان کو ذاتی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ پرویز خٹک کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ وہ جو کر رہے ہیں اس کا نتیجہ کیا ہوگا یا باالفاظ دیگر وہ وزیراعظم کو جو جھٹکا دینا چاہتے تھے وہ دے چکے۔

لیکن کیا وزیر دفاع ہونی کو ٹالنا چاہتے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے عمران خان کو وہ نوشتہ  دیوار پڑھنا پڑے گی جو کہ پرویز خٹک اور نور عالم خان سمیت پی ٹی آئی کے 22 اراکین قومی اسمبلی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔

اپوزیشن تو فی الحال ان کو گھر بھجوانے سے قاصر ’دکھنا‘ چاہتی ہے لیکن اپنی ہی پارٹی کے تیزی سے بگڑتے معاملات اور زمینی حقائق سے کوسوں دوری عمران خان کو ایوان اقتدار سے رخصت کرنے میں سب سے اہم وجہ ثابت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ