دنیا بی بی سی کے بغیر رہ سکتی ہے لیکن کیا برطانیہ بھی؟

’بی بی سی کے بجٹ میں کٹوتی کرنے کا یہ بدترین وقت ہے۔ یہ کارپوریشن وہ سب کچھ ہے جو برطانیہ دنیا کو اس وقت دیتا ہے۔‘

بی بی سی کے ملازمین نے 18 فروری 2013 کو وسطی لندن میں براڈ کاسٹنگ ہاؤس کے باہر ملازمتوں میں کٹوتیوں کے خلاف پلے کارڈ ز اٹھا رکھے ہیں(فائل فوٹو:اے ایف پی)

جب میں 17 سال کی عمر میں لندن آئی تو میرے لہجے نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ یہ آدھا فرانسیسی تھا، جو سمجھ میں آتا تھا کیونکہ میں فرانس میں پلی بڑھی تھی اور آدھا کوکنی، جس کی کوئی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایسا کیوں ہے۔ مجھ سے بار بار پوچھا گیا کہ میں اس طرح سے کیسے بول رہی ہوں۔ مجھے یہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا کہ دراصل کیا ہوا ہے۔

سال 2009 تھا اور میں نے اپنے ابتدائی سال ’دی مائیٹی بوش‘(بی بی سی کے مزاح پر مبنی اور حقیقت سے عاری شو) کے ساتھ چپکے ہوئے گزارے تھے۔ ایک فوم کے سفنج کی طرح، میں نے اس کے کچھ لہجوں کو غیرارادی طور پر جذب کر لیا تھا۔

12 سال بعد، میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میرا لہجہ اب بہت کم پریشان کن ہے۔ پھر بھی، ان مہینوں اور ان لوگوں کے بارے میں سوچ کر لطف آتا ہے جنہیں میں نے الجھا دیا تھا۔

میں کرسمس کے موقع پر جب اپنے آبائی شہر واپس گئی تھی ان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جیسا کہ اب رواج ہے، میری دادی نے میرا استقبال کیا، پھر مجھے بی بی سی سیریز کی ایک جامع فہرست فراہم کی جو انہوں نے ہماری آخری ملاقات کے بعد دیکھی تھی۔

کچھ شاندار تھے، کچھ مایوس کن، لیکن کوئی بات نہیں۔ وہ واقعی میں جو بات جاننا چاہتی تھیں وہ یہ تھی کہ آگے کیا آنے والا ہے؟ چونکہ ٹی وی شوز کے آنے میں کچھ مہینے لگتے ہیں، اس لیے مجھے اپنے خاندان کو بی بی سی کی پیشگی اطلاع دینے والی سمجھا جاتا ہے، جو مستقبل کے ڈراموں اور مزاح کے پروگراموں کی خبریں لا سکتی ہے۔

گھر کے کسی اور حصے میں، میرے والد، جنہیں پوڈ کاسٹ کی شدید لت لگ چکی ہے، تاریخ، سائنس، سیاست کو بغیر کسی خوف اور حمایت کے سنیں گے۔ ان کی پسند یقیناً بی بی سی ہے۔ ’ان آر ٹائم‘ (ہمارے وقت میں) ان کا پسندیدہ ترین ہے۔

مختصراً مری لی کونٹ کی ہر نسل کا اس وقت برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے ساتھ تعلق ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے زیادہ تر نسلیں زندہ نہیں رہیں اور نہ ہی برطانیہ میں رہیں گی۔

یہ شاید واضح ہے کہ میں یہ سب اب کیوں سامنے لا رہی ہوں۔ گذشتہ ہفتے کلچر سیکرٹری نڈین ڈوریس نے اگلے چند سالوں میں بی بی سی کے بجٹ میں دو ارب پاؤنڈز کی موثر کٹوتی کا اعلان کیا اور 2027 میں لائسنس فیس ختم کرنے کا عزم کیا۔

اگرچہ کنزرویٹو پارٹی کا ایک حصہ طویل عرصے سے کارپوریشن کو محدود کرنا چاہتا ہے، لیکن بظاہر اس اقدام کا مقصد مبینہ طور پر ڈگمگاتے ٹوری ووٹروں کو واپس لانا ہے۔ کیا یہ پالیسی کامیاب ہوگی؟ یہ ابھی جاننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کیا اس کے خوفناک، دیرپا، مکمل طور پر قابل احتراز نتائج ہوں گے؟ میں اس پر شرط لگا سکتی ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درحقیقت، میں یہاں تک کہوں گی کہ بی بی سی کے بجٹ کو کم کرنے کا یہ بدترین وقت ہے۔ برطانیہ نے 2020 میں یورپی یونین کو چھوڑ دیا، پھر پوری دنیا کی طرح وبائی مرض کی لپیٹ میں آگیا۔

اگلے چند سالوں میں ملک کو آخرکار یہ طے کرنا پڑے گا کہ وہ عالمی سٹیج پر کیا بننا چاہتا ہے اور کیا اس کے عزائم حقیقت سے تال میل کھاتے ہیں یا نہیں۔ بریگزٹ کے حامیوں نے برطانیہ کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پینٹ کیا جو عالمی سطح پر اپنے وزن سے زیادہ اہم ہے اور اگر اسے تنہا چھوڑ دیا جائے تو یہ ترقی کی منازل طے کرے گا۔

اگر ایسا ہونا ہے تو، سافٹ پاور کلیدی ہوگی۔ غیر ملکیوں کے پاس اس وقت خاص طور پر برطانیہ کی طرف دیکھنے کی چند وجوہات ہیں۔ اس کی ملکی سیاست تباہی کا شکار ہے، اس کے خارجہ امور کے معاملات میں بہت زیادہ کام نہیں ہو رہا ہے اور بریگزٹ مذاکرات کی خامیاں بالکل کسی خیر سگالی کو فروغ نہیں دے رہی ہیں۔

ہو سکتا ہے یہ وہ نہ ہو جو کلچر سیکرٹری نڈین ڈوریس اور اس کے لوگ سننا چاہتے ہیں، لیکن اگر ملک میں عام طور پر ایک چیز ہے تو وہ ثقافت ہے۔ یہ برطانوی فلمیں اور ٹی وی سیریز ہیں۔ برطانوی موسیقی اور برطانوی ریڈیو۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دور تک سفر کرتی ہیں اور لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کرتی ہیں۔

بی بی سی کو اپنے پروگرامنگ کو مزید کم کرنے پر مجبور کرکے، حکومت صرف ملک کو چھوٹا اور غیر متعلقہ محسوس کرنے کا انتظام کرے گی۔ لی کونٹے اپنے لامتناہی ٹی وی شوز اور پوڈ کاسٹ کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ بالآخر امریکہ، باقی یورپ، یا مقامی میڈیا کی طرف رجوع کریں گے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ برطانیہ کا یہی ہدف ہونا چاہیے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر