صحافی حسنین شاہ قتل: ’کیا وہ صحافی برادری کو پیغام دینا چاہتے تھے؟‘

لاہور پریس کلب کےصدر اعظم چوہدری کامطالبہ ہے کہ حکومت یہ کیس ہائی پروفائل میں رکھےنیز انہوں نے کہا کہ ’ہمیں علم ہونا چاہیے کہ اس قتل کے پیچھے ملزمان کا مقصد کیا تھا؟کیا وہ صرف حسنین کو قتل کرنا چاہتے تھے یا پوری صحافی برادری کو کوئی پیغام دینا چاہتے تھے۔‘

ریسکیو ترجمان کے مطابق انہوں نے حسنین کو فوری فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے (تصویر:ریسکیو 1122)

لاہور میں حکام کا کہنا ہے کہ نجی ٹی وی کے کرائم رپورٹر حسنین شاہ لاہور پریس کلب کے باہر سوموار کو نامعلوم افراد کی فائرنگ کا شکار ہو کر موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔  

حسنین شاہ کے ساتھی صحافی کرائم رپورٹر خرم عباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حسنین پریس کلب کے حالیہ انتخابات میں گورننگ باڈی کے امیدوار تھے مگر چند ووٹوں سے ہار گئے۔

خرم کے مطابق ’حسنین شاہ پریس کلب کے باہر اپنی گاڑی میں تھے جب ان پر سات سے دس گولیاں برسائی گئیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دو لوگ موٹر سائیکل پر آئے جنہوں نے حسنین شاہ پر گولیاں برسائیں۔ خون زیادہ بہہ جانے کے سبب حسنین شاہ موقع پر ہی جان سے چلے گئے۔‘

 آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے صحافی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اس واقعے کی تحقیقات اپنی نگرانی میں کروائیں۔ آئی جی پنجاب نے متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کو یقینی بنائیں۔ 

ریسکیو 1122 بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ریسکیو ترجمان کے مطابق انہوں نے حسنین کو فوری فرسٹ ایڈ دینے کی کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی لاش کو ریسکیو 1122 نے پولیس کے حوالے کر دیا۔  

لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت واقعہ ہے کہ پریس کلب کے دروازے پر ہمارے ایک ساتھی کو قتل کر دیا جاتا ہے۔‘

پولیس کے مطابق حسنین کو دس گولیاں لگیں اور جائے حادثہ سے دس خول ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پریس کلب کے دروازے کے سامنے آکر قتل کرنا جرات کا کام ہے جس سے ہمیں لگتا ہے وہ ہم سب کو ایک پیغام دینے آئے تھے۔ ہم نے حکومت کو بھی یہی کہا ہے کہ حسنین کے قتل کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں اور اسے ہائی پروفائل کیس کی لسٹ میں رکھیں اور فوری اس کی تحقیق کریں اور سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائیں تاکہ قاتلوں کا معلوم ہو سکے۔

’اس کے علاوہ ہمیں محرکات کا بھی علم ہونا چاہیے کہ اس قتل کے پیچھے ان کا مقصد کیا تھا، کیا وہ صرف حسنین شاہ کو قتل کرنا چاہ رہے تھے یا پوری صحافی برادری کو کوئی پیغام دینا چاہتے تھے۔‘

’آج پریس کلب لاہور کے اندر ہم نے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور پولیس اور حکومت کو 24 گھنٹوں کا وقت دیا ہے کہ وہ مقررہ وقت قاتلوں کو ہمارے سامنے لے کر آئیں اور اگر پولیس اور حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تو اس کے نتیجے میں ہم احتجاج کریں گے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کریں گے، اس کا فیصلہ ہم گورننگ باڈی کی میٹنگ بلا کر کریں گے۔‘  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پریس کلب لاہور کے حالیہ انتخابات میں صدر کے امیدوار اور سینئیر صحافی بابر ڈوگر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات  کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بڑا افسوس ناک واقعہ ہے۔ وہ کرائم رپورٹر تھے اور وہ لاہور میں موجود کرمنل گینگز اور کرائم کے حوالے سے رپورٹنگ کرتے تھےاور رپورٹر تو وہی رپورٹ کرتا ہے جو وہ دیکھتا ہے۔

’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ صحافیوں کو مار دیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصرکے خلاف ایکشن لے۔ اکثر تو یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری پولیس بھی ایسے عناصر کے ساتھ  ملی ہوتی ہے ان کے اندر قانون کا کوئی ڈر اور خوف نہیں ہوتا اور جو ان کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے وہ دن دیہاڑے گولیاں مار کر مار دیتے ہیں۔

’میں اس سارے واقعے کا ذمہ دار حکومت اور پولیس کو ٹھہراتا ہوں۔ اگر حکومت اور پولیس کی رٹ ہو تو پھر کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس طرح بے گناہ لوگوں کو مارتا پھرے۔‘  

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ( پی ایف یو جے) کے صدر شہزاد ذوالفقار اور دیگر عہدیداران نے بھی حسنین شاہ کے قتل کی مذمت کی ہے۔ پی ایف یو جے کے رہنماؤں نے کہا کہ ’پنجاب حکومت صوبے میں امن وامان بحال رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے اور صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے حسنین شاہ کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا۔‘ 

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ڈاکٹر عابد خان بھی پریس کلب پہنچے اور ان کا کہنا ہے کہ پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کو جلد ٹریس کر لے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے جب کہ پریس کلب کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا حکم دے دیا گیا ہے۔ 

صحافی حسنین شاہ کے قتل کا نوٹس وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی لے لیا اور قاتلوں کی جلد گرفتاری کا حکم دیا جب کہ مقتول کے اہل خانہ سے دکھ اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ 

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ورثا اور صحافی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں برابر کے شریک ہیں۔ ’صحافی حسنین شاہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، قتل میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘

دوسری جانب لاہور پریس کلب کے صدر و دیگر عہدیدران و ممبران نے صحافی حسنین شاہ کی تدفین تک سوگ میں پریس کلب بند رکھنے اور احتجاجاً پریس کلب پر کالے جھنڈے لہرانے کا اعلان کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان