رانا شمیم کیس: صحافیوں کے خلاف فرد جرم عائد نہ کرنے کی استدعا

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت سے استدعا کی گئی کہ خبر دینے والے صحافیوں کے خلاف توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ کی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس پر اگلی سماعت میں بحث ہوگی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت کا ایک منظر (تصویر:  بشکریہ اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ)

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ میڈیا میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی کی اشاعت سے سائلین کے حقوق متاثر ہوئے ہیں، جن کا تحفظ اس عدالت کی اولین ترجیح ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعے کو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس دوران انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے رانا شمیم کے بیان حلفی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینئیر صحافی نے اس بیان حلفی سے متعلق خبر شائع کر کے اس عدالت میں آنے والے سائلین کا عدالت پر اعتماد متزلزل کیا ہے۔ ’یہ سائلین کے حقوق کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔‘

کمرہ عدالت میں روزنامہ دا نیوز کے انصار عباسی کے علاوہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر ناصر زیدی، افضل بٹ، عامر غوری اور دوسرے صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم، ان کے وکیل عبدالطیف آفریدی، اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید، اور عدالت کے معاون وکلا ریما عمر اور فیصل صدیقی بھی موجود تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے روزنامہ دا نیوز کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الررحمن کی غیر حاضری کی وجہ دریافت کی تو انصار عباسی نے کہا کہ ان کے بعض اہل خانہ کرونا وائرس سے متاثر ہیں جس کے باعث وہ قرنطینہ میں ہیں۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ خبر دینے والے صحافیوں کے خلاف توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ کی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس پر اگلی سماعت میں بحث ہوگی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مذکورہ بیان حلفی کی اشاعت سے انہیں ہونے والے افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس سلسلے میں کئی مرتبہ انصار عباسی سے براہ راست سوالات کیے، تاہم انہیں بہت زیادہ بولنے کی اجازت نہیں دی۔

ایک موقعے پر انصار عباسی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنا بیان لکھ کر لائے تھے جو وہ پڑھ کر سنانا چاہتے ہیں۔

اسی طرح چیف جسٹس اطہر من اللہ وکلا اور مدعا علیہان کو توہین عدالت سے متعلق ایجوکیٹ کرنے کے انداز میں گفتگو کرتے رہے۔

انہوں نے کئی مرتبہ انصار عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سائلین کے حقوق سب سے اہم ہیں، جن کے تحفظ کی خاطر وہ کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

چیف جسٹس نے ایک موقعے پر کہا کہ بیان حلفی کے ذریعے ایک بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ بھی ایک ایسے مقدمے سے متعلق جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بیانیے سے عدالت میں آنے والے سائلین کا عدالت پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔

ایک موقعے پر انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’عدالت میں آنے والے سائلین اور ان کا تحفظ ان کے لیے آزادی اظہار رائے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘

تاہم انہوں نے بارہا کہا کہ ’کسی بھی معاشرے میں میڈیا کی آزادی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ میڈیا کو آزاد ہونا چاہیے لیکن ذمہ داری کے ساتھ۔‘

چیف جسٹس نے انصار عباسی سے دریافت کیا کہ ’کیا اگر رانا شمیم کے بیان حلفی میں لکھا گیا مواد آپ کو کسی کے بیان کی صورت میں ملتا تو کیا اسے شائع کیا جاتا؟‘

اس پر انصار عباسی نے کہا کہ ’وہ کبھی بھی ان معلومات کو کسی کے بیان کی شکل میں شائع نہ کرتے۔‘

سینئیر صحافی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیان حلفی کی تصدیق رانا شمیم سے کی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا موقف بھی شائع کیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقعے پر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ مدعا علیہان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم جاری کرنے والے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر پی ایف یو جے کے صدر ناصر زیدی نے عدالت سے ایسا نہ کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً صحافیوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے سے بہت غلط تاثر جائے گا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس فرد جرم کے عائد کرنے کا مقصد خصوصاً صحافیوں کو توہین عدالت سے متعلق تعلیم دینا ہے تاکہ مستقبل میں وہ محتاط رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’بیان حلفی کی اشاعت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی آزادانہ حیثیت پر سوال اٹھا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں یا میرے دوسرے جج ساتھی کسی مقدمے کے سلسلے میں کسی دباؤ یا اثر میں آئے ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ اس عدالت میں مقدمات کسی کے کہنے پر لگتے ہیں۔‘

اٹارنی جنرل خالد جاوید اور عدالت کے معاون وکلا نے صحافیوں کے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کی مخالفت کی، جبکہ رانا شمیم کے وکیل عبدالطیف آفریدی نے سرے سے مقدمہ ختم کرنے کی استدعا رکھی۔

تمام وکلا کا خیال تھا کہ اس مقدمے کی سماعت سے تمام پارٹیز خصوصاً صحافیوں کی توہین عدالت سے متعلق کافی ایجوکیشن ہوئی ہے، جس کا انہیں مستقبل میں ضرور فائدہ ہو گا۔

وکلا اور صحافیوں کے اصرار کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تمام پارٹیوں کو اس کے متعلق سوچنے کا موقع دیا جا رہا ہے اور فرد جرم عائد کرنے سے متعلق آئندہ سماعت میں مزید بحث ہو گی۔

مقدمے کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان