صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف ٹوئٹر پر منظم مہم کیسے چلائی گئی؟

ٹوئٹر ٹرینڈز کے تجزیوں کے لیے بین الاقوامی طور پر استعمال ہونے والی سروسز ٹویٹ بائنڈر اور ٹرینڈز میپ کی مدد سے انڈپینڈنٹ اردو نے صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف چلنے والے ہیش ٹیگز میں ٹویٹ کرنے والے اکاؤنٹس کا تجزیہ کیا، جس میں کچھ دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔

23 اکتوبر 2014  کو پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی پیٹر میکلر ایوارڈ فار کریجس اینڈ ایتھیکل جرنلزم موصول کرنے کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

چند روز قبل معروف پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی کے بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے ایک کالم کے بعد انہیں کئی دن تک سوشل میڈیا پر غیر معمولی ٹرولنگ اور حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کالم میں عاصمہ شیرازی نے پاکستانی معیشت کی خستہ حالی اور موجودہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ ملکی حالات کی بہتری میں افواج پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔

کالم شائع ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کچھ پوسٹس کے ذریعے ان پر ’جانبدارانہ صحافت‘ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گِل نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے عاصمہ شیرازی پر مسلم لیگ ن سے قربت کا الزام لگایا اور ان سے خاتون اول پر لگائے گئے الزام کے ثبوت بھی مانگے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر عاصمہ شیرازی کے خلاف ٹویٹس کے طوفان اور دو تضحیک آمیز ٹرینڈز کو ’عوام کا ردعمل‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’جب وزیراعظم اور ان کے خاندان کو آپ گالیاں دیں گے تو سوشل میڈیا پر لوگ ری ایکٹ کریں گے۔‘ یعنی شہباز گِل کے مطابق ٹوئٹر پر عاصمہ شیرازی کی ٹرولنگ کے ذمہ دار عوام ہیں۔

ٹوئٹر کے ٹرینڈز کے تجزیوں کے لیے بین الاقوامی طور پر استعمال ہونے والی سروسز ٹویٹ بائنڈر اور ٹرینڈز میپ کے ذریعے انڈپینڈنٹ اردو نے عاصمہ شیرازی کے خلاف چلائے جانے والے ایک ہیش ٹیگ کا تجزیہ کیا۔  

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ٹوئٹر پر وہ لوگ جو اس ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ کروانے میں سب سے زیادہ سرگرم تھے، کون ہیں اور کس سیاسی جماعت کے حامی ہیں، اور ان کے فالورز کی سیاسی وابستگی کیا ہے؟ یہ بھی دیکھا گیا کہ کیا ان دونوں ہیش ٹیگز کی ایکٹیوٹی آرگینک یا معمولی سطح کی تھی یعنی ان پر کسی مخصوص گروپ کے لوگوں نے نہیں بلکہ صرف عام ٹوئٹر صارفین نے ٹویٹس کیں، یا پھر ایک مخصوص گروپ نے اسے غیر معمولی طور پر بُوسٹ کرکے عاصمہ شیرازی کے خلاف ایک مصنوعی منظم مہم بنائی۔

ٹرینڈز میپ کی رپورٹ کے مطابق 20 اکتوبر کو شروع ہونے والے اس ہیش ٹیگ پر کُل 11100 ٹویٹس کی گئیں، جن میں سے 7800 صرف ری ٹویٹس تھیں۔ اس ہیش ٹیگ پر سب سے زیادہ ٹویٹس لاہور سے ہوئیں، جبکہ کراچی دوسرے اور اسلام آباد تیسرے نمبر پر تھا۔ اس کے علاوہ اس ہیش ٹیگ پر 83 فیصد ٹویٹس صرف ان اکاؤنٹس سے تھیں جو بظاہر مردوں کے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیٹا سٹوریز پر کام کرنے والے فری لانس صحافی اسد بیگ کے مطابق: ’جب کسی ہیش ٹیگ پر کی جانے والی ٹویٹس میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہو جائے اور پھر اچانک سے یہ ایکٹیوٹی بہت کم ہوجائے تو ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ اس ہیش ٹیگ کو مقبول کرنے میں مصروف عمل تھے، انہوں نے جیسے ہی چھوڑا تو تعداد میں بہت بڑی کمی آگئی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہیش ٹیگ آرٹیفیشل ہے یعنی مصنوعی طور پر کسی منظم مہم کے تحت بُوسٹ کیا گیا ہے۔‘

تضحیک آمیز مذکورہ ہیش ٹیگ، جو اشاعت کے قابل نہیں، کی ایکٹیوٹی میں بھی اسی طرح کے معاملات سامنے آئے۔ ڈیٹا کے مطابق 20 اکتوبر کی دوپہر ایک بجے شروع ہونے والا یہ ہیش ٹیگ صرف آٹھ ٹویٹس فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا۔ چند ہی گھنٹوں میں اس کی رفتار 884 ٹویٹس فی گھنٹہ پر پہنچ گئی۔ رات کے تین بجے یہ تعداد 84 ٹویٹس فی گھنٹہ ہوگئی جس کے بعد یہ ہیش ٹیگ تقریباً غیر فعال ہوگیا۔

 اگلے روز 21 اکتوبر کو صبح 10 بجے یہ پھر فعال ہوا اور شام پانچ بجے تک اس کی رفتار 500 ٹویٹس فی گھنٹہ رہی جبکہ شام چھ بجے تک یہ پھر غیر فعال ہوگیا۔

’ٹویٹ بائنڈر‘ کے ذریعے اس ہیش ٹیگ میں سب سے زیادہ  سرگرم ٹوئٹر صارفین کی معلومات حاصل کی گئیں تو دلچسپ نتائج سامنے آئے۔

’ٹویٹ بائنڈر‘ ایک ٹریکنگ ٹول ہے جو صارفین کو تین اقسام میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک وہ جو مجموعی طور پر سب سے زیادہ  سرگرم رہے، دوسرے وہ جنہوں نے سب سے زیادہ ری ٹویٹس کیں جبکہ تیسرے وہ جنہوں نے سب سے زیادہ نئی ٹویٹس لکھیں۔

ان تینوں اقسام میں سے ہم نے ٹاپ کے چند اکاؤنٹس کا تجزیہ کیا اور جاننے کی کوشش کی کہ ان کی سیاسی وابستگی کیا ہے۔ ٹویٹ بائنڈر کی رپورٹ میں یہ تین اکاؤنٹس سب سے زیادہ سرگرم نظر آئے:  roomank07382960A ، @PakistanArmyZ10@ ، اور [email protected]۔

تینوں اکاؤنٹس پر وزیراعظم عمران خان کی تصاویر نمایاں ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان اکاؤنٹس کو چلانے والے افراد حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بظاہر حامی ہیں۔

اس میں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان اکاؤنٹس کی جانب سے عاصمہ شیرازی کے خلاف اس تضحیک آمیز ہیش ٹیگ پر کی جانے والی ایکٹوٹی بوٹ اکاؤنٹس جیسی تھی۔ انہیں عام اصطلاح میں فیک یا ٹرول اکاؤنٹس بھی کہا جاتا ہے, جب ان کا مقصد کسی شخص کو ٹوئٹر پر ٹرول کرنا ہو یا کسی مخصوص موضوع یا ہیش ٹیگ کو اچانک سے ٹرینڈ کروانا ہو۔

صحافی اسد بیگ نے ٹرول اکاؤنٹس کی نشاندہی کے حوالے سے بتایا کہ ’مخصوص موضوعات کو ٹوئٹر پر ٹرینڈ کروانے میں یا لوگوں کو ٹرول کرنے میں صرف ایک نہیں بلکہ کئی ٹرول اکاؤنٹس حصہ لیتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس آپس میں ایک دوسرے سے منسلک اور کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں۔ عموماً ان کے یوزر نیم میں کافی نمبر لکھے ہوتے ہیں، ان کے فالورز کم ہوتے ہیں مگر یہ زیادہ لوگوں کو فالو کرتے ہیں، ان کی ٹویٹس کا مواد، ان کے اوقات اور جغرافیائی وقوع ومحل ایک جیسا ہوتا ہے۔‘

[email protected] کے نام سے چلنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ پچھلے سال بنایا گیا۔ اس کے 939 فالورز ہیں جبکہ یہ 2000 لوگوں کو فالو کرتا ہے۔ ٹرینڈز میپ کی رپورٹ کے مطابق اس اکاؤنٹ نے رواں سال 21 مارچ کو 799 ٹویٹس اور ری ٹویٹس کیں۔ اس کے علاوہ اس کی اب تک کی تمام ٹوئٹر ایکٹیوٹی میں 99.5 فیصد صرف ری ٹویٹس ہی ہیں۔

صحافی اسد بیگ کے مطابق: ’یہ غیر معمولی ایکٹیوٹی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک بوٹ اکاؤنٹ ہے جسے اس مہم میں استعمال کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’عموماً ایک عام ٹوئٹر صارف ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 50 یا 100 ٹویٹس کرتا ہے مگر بوٹ اکاؤنٹس کی ایکٹیوٹی اس سے کافی مختلف ہوتی ہے۔ یہ اکاؤنٹس عام طور پر غیر فعال ہوتے ہیں مگر کسی مہم کے دوران ان کی ایکٹیوٹی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے اکاؤنٹس جن کی مجموعی ٹوئٹر ایکٹیوٹی میں ری ٹویٹس یا ریپلائز غیر معمولی طور پر زیادہ ہوں، ایسے اکاؤنٹس کو بھی بوٹ یا ٹرول اکاؤنٹ کہا جاتا ہے۔‘

[email protected] نے اپنی اب تک کی ٹوئٹر ایکٹیوٹی میں جن ٹوئٹر صارفین کو سب سے زیادہ ری ٹویٹ کیا ہے ان میں اکثر اکاؤنٹس پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں جبکہ دیگر اسی جماعت سے وابستہ ہیں۔

                                                                                                                  

اس اکاؤنٹ کے 942 ٹوئٹر فالورز کی جانچ کرنے پر حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے منسک کئی اہم نام سامنے آئے جن میں انفارمیشن سیکرٹری پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب رضوانہ غضنفر، پی ٹی آئی کی ایم این اے اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ اور ثقافت ڈاکٹر ریشال ملک، چیئرپرسن سی ایم ٹاسک فورس برائے خواتین ترقی پنجاب تنزیلہ عمران خان، پی ٹی آئی آزاد جموں و کشمیر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کی ڈپٹی ٹوئٹر ہیڈ شفق زہرہ اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے تصدیق شدہ سرکاری معاون اکاؤنٹ ٹیم سرور کی ڈپٹی سوشل میڈیا ہیڈ عائشہ اعجاز کے نام بھی شامل ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک یہ تمام لوگ کیا عاصمہ شرازی کے خلاف تضحیک آمیز ہیش ٹیگز کی حمایت کرتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ایسی نازیبا زبان استعمال کرنے والے فیک اکاؤنٹس کو، جو کہ خود کو پی ٹی آئی کا حامی ظاہر کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے ورکرز کی جانب سے فالو کیوں کیا جاتا ہے؟ وہ خود کو ان سے دست بردار کیوں نہیں کرتے؟

اس ہیش ٹیگ پر دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ٹویٹس کرنے والا [email protected] نامی اکاؤنٹ ہے جس پر نام عرفان احمد درج ہے۔ اس کی پروفائل اور کور فوٹو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اکاؤنٹ بھی پاکستان تحریک انصاف کا حامی ہے جبکہ اس اکاؤنٹ کا پاکستان آرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ اس کی کور فوٹو میں عرفان احمد کے دوسرے اکاؤنٹ کا ذکر ہے جس کا یوزر نیم [email protected] ہے اور اس نے اپنا تعلق پی ٹی آئی کی رضاکارانہ فورس سے بتایا ہے۔ بظاہر ان دونوں اکاؤنٹس کا تعلق لاہور سے ہے۔

ٹوئٹر کی ایڈوانس سرچ سے یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں اکاؤنٹس سے ان ہیش ٹیگز پر ٹویٹس اور ری ٹویٹس کی گئیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں کیوں کہ ان دونوں صارفین نے مسلسل ایک دوسرے کی پوسٹس کو شیئر کیا ہے۔

ٹرینڈز میپ کی رپورٹ کے مطابق اس اکاؤنٹ کی ایکٹیوٹی بھی ایک ایسے بوٹ اکاؤنٹ جیسی ہے جس کا کام بظاہر صرف لوگوں کو ٹوئٹر پر جواب دینا ہے۔ پچھلے دو سالوں میں اس اکاؤنٹ کی 75.5 فیصد ایکٹیوٹی لوگوں کو جواب دینا ہی رہی ہے۔

اس اکاؤنٹ نے سب سے زیادہ جواب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں مریم نواز، حنا پرویز بٹ اور مریم اوررنگزیب کو دیے ہیں، جو اکثر نازیبا الفاظ سے بھرے تھے۔ اس کے علاوہ عاصمہ شیرازی اور غریدہ فاروقی جیسے صحافیوں کو بھی کئی جواب دیے گئے ہیں۔

اس ٹرینڈ میں حصہ ڈالنے والا ایک اور اکاؤنٹ [email protected] ہے، جو بظاہر تحریک انصاف کا حامی اکاؤنٹ لگتا ہے۔

یہ اکاؤنٹ صرف چھ دن پہلے بنا ہے۔ اس کے استعمال شدہ ہیش ٹیگز میں سب سے زیادہ عاصہ شیرازی مخالف ٹرینڈ ہیں اور کچھ وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کے خلاف بھی۔

غیر معمولی ری ٹویٹس کرنے والے بوٹ اکاؤنٹس کی طرح اس اکاؤنٹ نے بھی اپنی اب تک کی ٹوئٹر ایکٹویٹی میں 97.9 فیصد صرف ریٹویٹس کی ہیں۔ ٹرینڈز میپ پر اس اکاؤنٹ کی جانچ کرنے سے ایک دلچسپ پہلو سامنے آیا کہ اس اکاؤنٹ نے اب تک جن ٹوئٹر صارفین کی ٹویٹس کو سب سے زیادہ ری ٹویٹ کیا ہے ان میں پہلے چار PTIofficial ، @_Akml__، @[email protected] اور [email protected] ہیں۔

ان تمام اکاؤنٹس کی ایکٹویٹی راولپنڈی اور لاہور میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹوئٹر پر ایک معمولی ریسرچ سے یہ تمام اکاؤنٹس پاکستان تحریک انصاف کے حامی اکاؤنٹس معلوم ہوتے ہیں۔ ٹرینڈز میپ نے @Joooookeeeerrr کی باقاعدہ ایک بوٹ اکاؤنٹ کے طور پر نشاندہی بھی کی ہے۔

اس اکاؤنٹ کے نام کے آگے بنے لال نشان سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹرینڈز میپ کے مطابق یہ ایک بوٹ اکاؤنٹ ہے۔

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ TheGrea01634223، @_Akml__، @[email protected] اور [email protected] کا ایک ہی جغرافیائی وقوع ومحل سے تعلق اور بظاہر ایک ہی مقصد ہے۔

موقف جاننے کے لیے ہم نے ان چاروں اکاؤنٹس سے ٹوئٹر پر رابطہ کرنے کے کوشش کی مگر ان کے اکاؤنٹس پر ڈائریکٹ میسج کا آپشن موجود نہیں تھا۔ 

ہم نے ایک ٹویٹ میں ان اکاؤنٹس کو ٹیگ کرکے پوچھا کہ ان سے رابطہ کیسے کیا جائے۔ تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔  ٹوئٹر صارف [email protected] نے ہماری ٹویٹ کو صرف لائیک کر کے چھوڑ دیا۔

 

یقیناً ان اکاؤنٹس جیسے ٹوئٹر پر اور بھی کئی اکاؤنٹس ہیں جن کا تجزیہ کرنے کے لیے کافی وقت درکار ہے۔ البتہ عاصمہ شیرازی کے خلاف چلنے والا ہیش ٹیگ پر ایکٹیوٹی کرنے والے ٹاپ کے کچھ  اکاؤنٹس کا جائزہ کرکے یہ بات سامنے آئی ہے کہ  بظاہر یہ ہیش ٹیگ ایک مصنوعی طور پر بُوسٹ کی گئی منظم مہم کا حصہ تھا جس میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے بظاہر حامی ٹوئٹر اکاؤنٹس سب سے زیادہ  سرگرم تھے اور ان میں سے زیادہ تر بوٹ یا ٹرول اکاؤنٹس تھے جو اکثر کسی مہم کے دوران کی استعمال کیے جاتے ہیں۔

صحافی اسد بیگ نے کہا: ’اگر ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ، دن میں 800 سے 900 ٹیوٹس، ری ٹویٹس یا ریپلایئز کر رہا ہے، خصوصاً جب یہ تمام ٹویٹس کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت یا اس کے دفاع میں کی جائیں، تو لگتا یہی ہے کہ یہ سوشل میڈیا ایکٹیوٹی مشغلاً یا شوقیہ نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ طور پر کی جا رہی ہیں اور اگر ایسا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کے لیے کون اور کیوں اکاؤنٹس چلانے والوں پر پیسے خرچ کر رہا ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان تحریک انصاف کو ان تمام ٹرول اکاؤنٹس کا نوٹس لینا چاہیے جو ان کے نام سے اور ان کی سپورٹ میں چل رہے ہیں اور خواتین صحافیوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ خود کو ان سے دست بردار کیوں نہیں کرتی؟ کیوں کوئی ایکشن نہیں لیتی؟ ان اکاؤنٹس کو رپورٹ کیوں نہیں کرتی؟ اور کیوں ان کے خلاف کوئی واضح بیان جاری نہیں کرتی؟‘

حکمران جماعت تحریک انصاف نے جنوری 2013 میں اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے سوشل میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے حامیوں کو غلط زبان استعمال کرنے اور دوسرے آن لائن صارفین کی بے عزتی کرنے سے روکا گیا تھا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق: ’پی ٹی آئی ہر شخص کے اظہار رائے کے حق کو اہمیت دیتی ہے لیکن امید ہے کہ تنازعات اور اختلافات کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جائے گا۔‘

پارٹی نے اپنے آن لائن حامیوں پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کا احترام کریں اور ’جوابی دلائل کو عزت، احترام اور شائستگی کے ساتھ پیش کریں تاکہ سختی سے خیال رکھا جائے کہ میڈیا اہلکاروں کے ساتھ کسی بھی طرح زیادتی یا حملہ نہ کیا جائے۔‘

حامیوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی اصلی شناخت استعمال کریں اور جعلی اکاؤنٹس استعمال کرنے سے گریز کریں۔

شہباز گِل سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ 

نوٹ: یہاں یہ وضاحت کرنا بھی لازمی ہے کہ سیاست دانوں اور صحافیوں کے خلاف منفی اور اکثر نازیبا ہیش ٹیگز میں صرف ایک ہی سیاسی پارٹی یا اس کے حامی حصہ نہیں لیتے، گذشتہ کچھ سالوں سے یہ رجحان ملک کی تمام بڑی پارٹیوں کے حامیوں میں دیکھا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق