سندھ: جین مذہب کا قدیم گڑھ

سندھ میں جین مذہب کے قدیم آثار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

جین مذہب کا ایک مندر  یوں تعمیر کیا گیا ہے کہ آس پاس کےمنظر کا حصہ معلوم ہوتا ہے (تصویر: اختر حفیظ)

تھر سندھ کا اہم ترین ریگستانی علاقہ ہے۔ مگر گھومنے کے لیے تھر کا ماحول بارشوں کے بعد ہی بہتر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارشوں کے بعد وہاں پہاڑ، ریت کے ٹیلے اور میدانی ہریالی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔

لیکن میرے لیے اس بار تھر جانے کی اہم ترین وجہ جین مت کے وہ مندر تھے جو آج بھی سینکڑوں سالوں سے نگر پارکر اور پاری نگر کے علاقوں میں موجود ہیں۔

میرے سفر کا پہلا پڑاؤ ویرا واہ کا علاقہ تھا۔ یہ وہی علاقہ ہے جو کسی زمانے میں جین مت کا مرکز سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس علاقے میں جہاں جین مت کا چھوٹا سا مندر قائم ہے، وہیں پاری نگر کا تجارتی علاقہ بھی ہے۔

آج صحرائے تھر میں جس علاقے کو نگر پارکر کہا جاتا ہے، کسی زمانے میں یہ علاقہ پاری نگر کہلاتا تھا۔ یہ ایک بندرگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا کاروباری مرکز تھا، جہاں کا سب سے بڑا کاروباری طبقہ جین مت کو ماننے والا تھا۔

یہاں آج جتنے بھی مندر بچ گئے ہیں، وہ آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہے ہیں۔ اس کی اہم ترین وجہ ایک تو جین مت کا یہاں سے ختم ہو جانا ہے اور دوسری وجہ ہماری اپنی عدم توجہی ہے۔

مگر یہاں دیکھنے لائق بہت کچھ ہے۔ کارونجھر پہاڑ، اس کے دامن میں خاموش تالاب اور پہاڑی سلسلے کے کئی مناظر ایسے ہیں جنہیں سراہے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

پاری نگر بندرگاہ کی بنیاد پہلی صدی عیسوی میں پڑی۔ اس کے آثار نگر پارکر سے 14 کلومیٹر شمال میں ویرا واہ کے عقب میں ویران اور زبوں حال کھنڈروں کی صورت میں آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس زمانے میں یہاں تقریباً 40 ہزار لوگ آباد تھے جن میں جین دھرم کے ماننے والوں کی اکثریت تھی۔ یہ کھاتے پیتے لوگ تھے۔

اس وقت موجودہ رن کچھ سمندر کی صورت میں موجود تھا اور جس کی بندرگاہ پاری نگر تھا۔ رن کچھ سے جہاز سیدھا ڈوتڑ پر لنگر انداز ہوتے تھے۔ دوتڑ کا مقام ویرا واہ سے دو میل مغرب کی جانب ہے۔ پاری نگر، بھوڈیسر کی مسجد اور گوڑی مندر میں جو سنگ تراشی کا کام کیا گیا ہے، اس کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ گھاٹ انہی کاریگروں کا تیار کردہ ہے۔

کارونجھر کی گود میں پلنے والے جین مت نے اپنے زمانے میں کئی عروج و زوال دیکھے۔ آج اس علاقے میں جین مت کے چار اہم ترین مندر ہی رہ گئے ہیں، جن میں سے ایک ویرا واہ میں ہے، دوسرا بھوڈیسر میں جب کہ ایک گوڑی مندر اور ایک نگرپارکر شہر میں قائم ہے۔

جین مت درحقیقت ہندو مت یا سناتھن دھرم کا ردعمل ہے۔ جین مت کے 23 دھرم نیتاؤں میں سے 11ویں روحانی پیشوا یا تیر تھنکر شری انشانات کا جنم سندھ میں ہوا، انہوں نے سندھ اور ہند میں اپنے دھرم کی تبلیغ کی۔

 ان سب میں سے مہاویر کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔ مہاویر کا اصل نام وردھمان تھا، ان کے والد کا نام سرہاتھ تھا، جو کندا بور اور تیر سالا کے قبیلے جنا کے راجہ تھے۔ اسی لیے مہاویر کو وردھمان جنا پترا بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا جنم ودیہا کے دارالحکومت ویسامی میں ہوا۔ جین مت کی روایتوں کے مطابق ان کا جنم 545 ق، م یا 476 ق م میں ہوا۔

جین مت کے مطابق روح بھی مادہ ہے، اس مت کے مطابق کائنات کسی خدا نے تخلیق نہیں کی اور کائنات کے اپنے اصول ہیں، جن میں ترقی اور تنزل کے اپنے مراحل ہیں، جوریہ ایک قدرتی قانون کے تحت عمل کرتے ہیں۔

اس مت میں لاتعداد روحیں ہیں، جو مکمل دھیان اور راحت یا مادی سے جڑی ہوئی ہیں اور یہ عمل کے نتائج سے گزرتی اور بھگتتی ہیں۔ یہ تمام تر صورتیں ہر قسم کی حیات کے ساتھ ساتھ شروع سے لے کر راستے میں ہر منزل بلکہ آخری منزل تک ہمسفر ہیں۔

جین مت میں کسی بھی جاندار کو نقصان پہنچانے کی مکمل ممانعت ہے۔ ان کے مطابق پتھروں کی بھی روح ہوتی ہے، اس لیے جینی نہ تو لوہار ہوئے نہ کمہار ہوئے کیونکہ ان کے نزدیک لوہے کو بھی جو ضرب لگتی ہے اس سے ذہنی اذیت ہوتی ہے، لہٰذا وہ سوداگر، ببینکار اور کاروباری بنے۔

نامور محقق اور ماہر آثار قدیمہ بدر ابڑو اپنی کتاب ’سندھ میں جین مت‘ میں لکھتے ہیں کہ ’اوائلی جین مت میں بت پرستی نہیں تھی، مگر جین تیر تھنکر کی مورتیاں سٹوپا میں رکھنے کا رواج پہلے سے ہی موجود تھا۔

بعد میں عیسوی دور سے قبل ہی تیر تھنکر کے بت بننا شروع ہوئے جو متھرا (اتر پردیش) میں جین سٹوپاؤں سے ملے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیر تھنکر کے بت بنانے کا رواج قبل مسیح میں پڑ چکا تھا۔

قدیم کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ دیوتا ان بتوں کی پوجا کے لیے آئے تھے۔ اس طرح جین مت میں تیر تھنکر پوجا لازمی ہو گئی۔

ان تمام تر مورتیوں میں انہیں بیٹھا ہوا یا کھڑی ہوئی حالت میں دکھایا گیا ہے جبکہ قدیم مورتیوں میں سب تیر تھنکر برہنہ ہیں اور ان کی شناخت کے لیے ان کے نام بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ پانچویں صدی کے بعد ان کی علامات بننی شروع ہوئیں، نویں صدی سے تیر تھنکروں سے خدمت گار دیوی (ساسنا دیوی) کی مورتی آنے لگی۔

یہ مورتیاں زیادہ تر تیر تھنکر کی مورتی کے پس منظر میں یا مندر کے دروازے پر نصب تھیں، جین پجاریوں کے مطابق ڈکپالوں اور یکشون کی اپنی روحانی طاقتیں ہیں، اس لیے جین مت کے لوگ اپنی دنیاوی مسائل کے حل کے لیے ان خدمت گار دیویوں اور دیوتاؤں سے رجوع کرتے ہیں۔

آج جس جگہ سندھ میں یہ مندر اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں، اس کا تاریخی پس منظر بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ نگر پارکر کی ایک تو مذہبی تاریخ ہے اور دوسری سیاسی تاریخ بھی۔

مذہبی تاریخ میں جین مت اور اس سے جڑی تعمیرات حاوی نظر آتی ہیں جبکہ سیاسی اقتدار میں پرمار سوڈھے قبیلے کے جاہ و جلال سے نظر آتے ہیں۔

ایک روایت کے مطابق رانا چندن کے زمانے میں رانا کی جانب سے سناتھن دھرم کے پنڈتوں اور مقامی جینی تنظیموں کے لوگوں کے بیچ میں ایک مذاکرہ رکھا گیا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ پتہ چل سکے کہ کس مذہب کے دلائل زیادہ مضبوط ہیں۔ جو فریق ہار جائے گا، وہ دوسرے کی بالادستی قبول کرے گا۔

طے ہوا کہ سناتھن، جین مت جبکہ جینی سناتھن قبول کریں گے۔ جین مت کے گرو کے ہاں دلائل کم پڑ گئے، جس کے بعد ان کا نگر پارکر میں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔ مگر اس کا ایک اور پہلو بھی ہے، جو وہاں کی معیشت سے بھی جڑا ہے۔

پاری نگر ایک بندرگاہ تھی، یہ صحرا آج سے ہزاروں برس قبل سمندر تھا، آج جہاں کارونجھر پہاڑ کھڑا ہے، یہ ایک سونامی کی شکل میں ابلنے والا لاوا ہے، جو ٹھنڈا ہونے کے بعد گرینٹ پتھر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جب پاری نگر سے سمندری بندرگاہ کا زور ٹوٹنے لگا اور سمندر نے اپنی جگہ آہستہ آہستہ چھوڑ دی تو جینیوں کے لیے کاروبار کرنا مشکل ہو گیا اور انہوں نے یہاں سے ہجرت کرنا ہی بہتر سمجھا جس کی وجہ سے یہاں جینیوں کی تعداد اور بھی کم ہو کر رہ گئی۔

تقسیم کے بعد دوسری مذہبی اقلیتوں کی طرح جینیوں نے پاکستان چھوڑنے کو ترجیح دی اور 1971 میں آخری جینی خاندان ہجرت کر کے ہندستان چلا گیا۔

آج نگر پارکر اور ویرا واہ میں کوئی بھی جینی نہیں رہا، بس ان کے مندر ہی رہ گئے ہیں، جن میں سب سے اہم ترین مندر گوڑی مندر دوسرا پونی مندر، ویرا واہ مندر اور نگر پارکر مندر ہے۔

گوڑی مندر 1376 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ بہت خوبصورت مندر ہے اور یہاں بچ جانے والے تمام تر مندروں میں سب سے کشادہ۔ عدم توجہ سے اب اس کی حالت بگڑ گئی ہے اور اس کا شکھر بھی منہدم ہو چکا ہے۔

یہ مندر تین حصوں پر مشتمل ہے، پہلے رنگ منڈپ پھر اردھ منڈپ اور آخر میں مہامنڈپ ہےجہاں پر جینی مت کے پجاری اپنی مشکل ترین عبادات کیا کرتے تھے۔

مندر کی تعمیر میں سنگ تراشی کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ مسجد کے تین گنبد ہیں، جن پر جین مت سے متعلقہ اشکال بنائی گئی ہیں، جبکہ ستونوں سے لیکر چھتوں تک سنگ تراشی دیکھی جاسکتی ہے۔

ویرا واہ پر قائم مندر کا احاطہ کافی بڑا ہے مگر یہ ایک چھوٹا سا مندر ہے۔ جس میں ایک گنبد اور ایک شکھر ہے۔ اس کی دیواروں اور چھت پر بھی بہت ہی نفیس سنگتراشی کا کام کیا گیا ہے۔ آج کل اس مندر کی بحالی کا کام بھی ہو رہا ہے۔ اس میں جین مت کے تیر تھنکروں کی مورتیاں بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ جین مت کا ایک اور اہم مندر پونی کا مندر ہے جو اس وقت سب سے زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کے ستون بھی ریزہ ریزہ ہو رہے ہیں، جبکہ شکھر کب کا مکمل طور پر گر چکا ہے۔

کارونجھر پہاڑ کے دامن میں بنے اس مندر کو تعمیر ہوئے نو سو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے مگر اس میں بھی اس خوبصورتی کو دیکھا جاسکتا ہے جو جین مت کے مندروں کی شناخت ہے۔ کسی زمانے میں یہ مندر ان سب میں سے مضبوط ترین مندر رہا ہو گا۔

جین مت کا سب سے بڑا مندر نگر پارکر شہر میں قائم ہے۔ خوش قسمتی سے یہ آج بھی بہت اچھی حالت میں ہے۔ اس میں جین کے تیر تھنکروں کی مورتیاں گڑی ہوئی ہیں، اس کے علاوہ وہ تمام تر علامات بھی مورتیوں کی شکل میں موجود ہیں جن کو اس مت میں بہت مقدس مانا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا مندر ہے، جس کا ایک گنبد ہے اور اس کی دیواروں پر بھی اچھی خاصی سنگ تراشی کی گئی ہے۔ کسی زمانے میں یہاں آباد جینی بڑی تعداد میں اس مندر کا رخ کیا کرتے تھے۔

میں نے ایک ایک کر کے یہاں کے تمام جین مندر دیکھے، جو ہمیں جین مت کے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ تمام تر مندر ایک دوسرے سے قریب واقع ہیں۔

سندھ کے علاقے تھر کو درد اور دکھ کا دیس سمجھا جاتا ہے مگر درحقیقت یہ علاقہ کئی عجائبات سے بھرا ہوا ہے، جس کے لیے دیکھنے والی آنکھ چاہیے۔

آج ان تمام مندروں میں ویرانی بستی ہے، جین مت کا کوئی ایک بھی ماننے والے اب اس خطے میں نہیں رہا، جس کہ وجہ سے یہ مندر بےگانگی کا شکار بھی رہے ہیں۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ انڈاومنٹ فنڈ ٹرسٹ سندھ نے ان مندروں کی مرمت کا ذمے لیا ہے، اور ان کی بحالی کا کام سستی سے سہی، مگر ہو رہا ہے۔

سندھ کے چند عالیشان عجائبات میں سے نگر پارکر کے علاقے میں قائم یہ مندر بھی شامل ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ سینکڑوں سالوں سے قائم ان مندروں کو ہم اپنا تاریخی اور سماجی ورثہ سمجھ کر بچا پائیں گے یا یہ بھی ریزہ ریزہ ہو کر وقت کے صحرا کی ریت ہو جائیں گے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین