امریکی صدر کا سپریم کورٹ میں پہلی افریقی خاتون جج کی نامزدگی کا عندیہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران کیا جانے والا اپنا عہد دہرایا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں ایک افریقی خاتون کو بطور جج نامزد کریں گے۔

امریکی سپریم کورٹ کے معمر ترین جج جسٹس سٹیفن کی ریٹائرمنٹ کے بعد صدر جو بائیڈن کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے دور صدارت میں پہلی مرتبہ عدالت عظمیٰ کے جج کی نامزدگی مقننہ کو بھیجیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک افریقی خاتون کو بطور جج نامزد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اس ضمن میں صدارتی الیکشن کے دوران کیا جانے والا اپنا عہد دہراتے ہوئے کہا: ’میں سپریم کورٹ کے جج کے لیے امیدواروں کی معلومات اور ان کی تحریریں پڑھ رہا ہوں۔ میں صرف ایک بنیاد پر فیصلہ کروں گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں جنہیں نامزد کروں گا، ان میں غیر معمولی اہلیت، کردار، تجربہ اور دیانت داری ہوگی۔ وہ شخصیت امریکہ کی سپریم کورٹ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی افریقی خاتون ہوں گی۔ میرے خیال میں اس کام کو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ میں نے صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران یہ عہد کیا تھا اور میں اس عہد کو پورا کروں گا۔‘

امریکی سپریم کورٹ میں تعینات ججوں کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے اور وہ خود سے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں کب عدالت سے علیحدہ ہونا ہے۔

امریکی صدر کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی اہمیت

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی تنظیم کانگرشنل ریسرچ سروس کے مطابق: ’امریکی سیاست میں سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا مرحلہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ ہر نامزدگی ایک خاص معنی رکھتی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کو بطور اعلیٰ ترین عدالت بے شمار اختیارات حاصل ہیں۔ کسی ایک صدر کے دور اقتدار میں سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا موقع صرف ایک یا دو بار ہی آتا ہے۔‘

امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق بعض اوقات تو امریکی صدر کو سپریم کورٹ کے جج کی نامزدگی کا موقع ملتا ہی نہیں۔ ’امریکی آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔ ایسا جان بوجھ کر رکھا گیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کو صدارتی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جا سکے۔‘

امریکی سپریم کورٹ میں تعیناتی کا آئینی طریقہ

امریکی آئین کے آرٹیکل ٹو کے سیکشن ٹو کی شق نمبر دو میں تحریر ہے کہ ’صدر جج کو نامزد کریں گے اور سینیٹ کی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ سپریم کورٹ میں تعینات کریں گے۔‘

کانگرشنل ریسرچ سروس کے مطابق گذشتہ دو سو سال میں اس قانون پر کئی عملی شکلیں اختیار کی گئی ہیں لیکن ایک چیز کو تبدیل نہیں کیا گیا اور وہ ہے کہ جج تعیناتی میں صدر اور سینیٹ کے اختیارات میں توازن ہے۔

امریکی سپریم کورٹ میں اہم تاریخی تعیناتیاں

امریکی سپریم کورٹ میں پہلے افریقی جج تھرگڈ مارشل تھے جنہیں 1967 میں ڈیموکریٹ پارٹی سے امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے نامزد کیا۔ تھرگڈ مارشل 1991 تک سپریم کورٹ میں بطور جج برقرار رہے۔

اسی طرح امریکی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج ساندرا ڈے اوکونر تھیں۔ انہیں 1981 میں رپبلکن پارٹی سے صدر رونالڈ ریگن نے نامزد کیا تھا۔ وہ 2006 تک سپریم کورٹ میں جج برقرار رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا