اب روبوٹ کتے امریکی سرحد کی حفاظت کریں گے

اس فیصلے کے نقادوں کا کہنا ہے کہ روبوٹ کتے پہلے سے سرحد پر موجود نامساعد حالات کو مزید خراب کریں گے۔

یہ روبوٹ  ہر قسم کی زمین جس میں ریت، چٹانیں اور پہاڑیاں شامل ہیں اور انسانوں کی بنائی ہوئی سیڑھیوں پر چل سکتا ہے: گھوسٹ روبوٹکس(تصویر  پیٹرا مولنر /ٹوئٹر)

امریکہ کی میکسیکو کے ساتھ ملنے والی جنوبی سرحد پر گشت کی ذمہ داری روبوٹ کتوں کو دی جا رہی ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ’تارکین وطن مخالف ماحول‘ اور علاقے میں پہلے سے موجود نامساعد اور غیرانسانی حالات مزید بگڑیں گے۔

امریکہ کے محکمے ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے منگل کو کہا کہ وہ میکسیکو کے ساتھ ملنے والی ملک کی جنوبی سرحد پر نگرانی کا کام روبوٹ کتوں کے سپرد کر رہا ہے۔

اس اقدام کا مقصد امریکہ کے کسٹمز اینڈ پروٹیکشن (سی بی پی) کے عملے کی مدد کرنا ہے۔

محکمے کا کہنا تھا کہ روبوٹ کتوں کی تعیناتی کے پروگرام کا مقصد ٹیکنالوجی کو کام میں لاتے ہوئے سرحدوں پر سی بی ایس کی موجودگی میں اضافہ ‘انسانی زندگی کے لیے خطرات‘ کم کرنا ہے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈائریکٹوریٹ (ایس اینڈ ٹی) کی پروگرام مینیجر برینڈالونگ کے بیان کے مطابق: ’ہو سکتا ہے کہ جنوبی سرحد پر انسانوں اور جانوروں کے لیے سازگار ماحول موجود نہ ہو اس لیے ٹھیک اس وجہ سے ایک مشین وہاں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔

لونگ کا مزید کہنا تھا کہ ’ایس اینڈ ٹی کی قیادت میں اس منصوبے کے تحت آٹومیٹڈ گراؤنڈ سرویلینس وہیکلز(زمین پر نگرانی کے خود کار آلات) یا جسے ہم’اے جی ایس ویز‘کہتے ہیں، پر توجہ دی جا رہی ہے۔

آغاز میں ناقدین نے گھوسٹ روبوٹکس نامی کمپنی کی طرف سے روبوٹ کتوں کی نقاب کشائی کو ان سائنس فکشن تصورات میں ایک کے ساتھ جوڑا جنہیں ٹیلی ویژن شو بلیک مرر میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان سائنس فکشن فلموں میں انتہائی برے حالات پیش کیے جاتے ہیں۔

روبوٹ کمپنی، جو اس منصوبے پر ڈی ایچ ایس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، گذشتہ سال ایک ایسا روبوٹ کتا سامنے لائی تھی جس کی کمر پر گن نصب تھی۔

اس ٹیکنالوجی کے نقادوں نے یہ کہہ کر اس پر شدید تنقید کی کہ یہ غیر انسانی اور جارحانہ ہے چاہے ڈی ایچ ایس کا یہ ماننا ہی کیوں نہ ہو کہ نیم خود کار ڈرونز’طاقت میں اضافے‘کا سبب ہیں۔

امریکہ میں شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی امریکن سول لبرٹیز یونین نے، جو ایک غیر منافع بخش اور وکالت سے منسلک تنظیم ہے، کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو روبوٹ کتوں کا پروگرام فوری طور پر منجمد کر دینا چاہیے۔

اے سی ایل یو نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’ڈی ایچ ایس کی طرف سے سرحدوں پر روبوٹ کتوں کے استعمال کا منصوبہ شہری آزادیوں کے لیے تباہ کن ہے۔ حکومت کو لازمی طور پر اس منصوبے پر ردعمل کا اظہار کرنا چاہیے اور بائیڈن انتظامیہ لازمی طور پر ہمارے ملک کو تارکین وطن مخالف حالات کی طرف جانے سے روکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھوسٹ روبوٹکس میں چیف پراڈکٹ افسر گیون کنیلی کا تاہم کہنا ہے کہ کمپنی کا سو پاؤنڈ وزنی روبوٹ کتے کی اس انداز میں ’نسل کشی‘کی گئی جو سی بی پی کے کام کے لیے عین موزوں ہے۔

کنیلی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ طاقت ورچار ٹانگوں والا روبوٹ ہے۔ یہ ہر قسم کی زمین جس میں ریت، چٹانیں اور پہاڑیاں شامل ہیں اور انسانوں کی بنائی ہوئی سیڑھیوں پر چل سکتا ہے۔‘

امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر سخت اور نامساعد حالات کے باوجود ڈی ایچ ایس کا دعویٰ ہے کہ ان ویران علاقوں میں بہت سی غیرقانونی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

سی بی پی کی انوویشن ٹیم سے تعلق رکھنے والے بریٹ بیکر کے بقول: ’کسی بھی دوسرے مقام کی طرح آپ کو روائتی مجرمانہ سرگرمیوں کا سامنا ہوتا ہے لیکن سرحد پر آپ کو انسانی اور منشیات کی سمگلنگ سمیت دوسرے غیر قانونی سامان کی سمگلنگ کا سامنا ہے جن میں اسلحہ یا ممکنہ طور پر ڈبلیو ایم ڈی (بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (کی سمگلنگ) شامل ہے۔‘

بیکر کا مزید کہنا تھا کہ’ان سرگرمیوں کو فرد واحد سے لے کر اوپر کی جانب جاتے ہوئے بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیمیں، دہشت گرد یا دشمن حکومتیں اور ان کے درمیان آنے والا کوئی بھی انجام دے سکتا ہے۔‘
صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں ایجنٹس اور افسروں کی زندگی کے متعدد خطرات موجود ہیں۔ حال ہی میں سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ خطہ جاری موسمیاتی بحران کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں مزید ناخوشگوار ہو سکتا ہے۔ دستاویزات کے بغیر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پار کرنے والوں کو پانی کی کمی کی وجہ سے موت کے خطرے کا زیادہ سامنا ہو گا۔ 

بیکر کے بقول: ’صحرا یا پہاڑوں میں کام کرنے والے ایجنٹس اور افسروں کو مشکل علاقے، زیادہ درجہ حرارت اور نمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے بعد بلاشبہ ان کا واسطہ ان لوگوں سے پڑ سکتا ہے جو انہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔‘

اس وقت روبوٹ کتوں کی صلاحیتوں کو چوکیدار کے فرائض انجام دینے اور مشکل علاقے میں وزن اٹھانے کے حوالے سے آزمایا جا رہا ہے۔ اس وزن میں ویڈیو اور دوسرے سینسر شامل ہیں جو روبوٹ کتے پر نصب کیے جانے کے بعد وہ ویڈیو اور دوسرا ڈیٹا اسے چلانے والے یا نگرانی کرنے والے افراد کو براہ راست منتقل کر سکتا ہے۔

محققین نے روبوٹ کتوں کو ایسے حالات سے بھی گزارا ہے جن کے تحت انہیں سخت ماحول میں حرکت کرنی ہو گی۔ تنگ جگہوں پر کام کرنا ہو گا اور وہ زیادہ درجہ حرارت اور آکسیجن کی کمی سے متاثر نہیں ہوں گے۔ یہ وہ حالات ہیں جو سی بی پی کے ایجنٹس اور افسروں کے لیے خطرناک ہیں۔

روبوٹ کتوں کی اس طرح سے پروگرامنگ کی گئی ہے کہ وہ دن کی روشنی اور رات کے وقت کسی چوکیدار کی طرح کام کریں گے۔ ان کی بیٹری کے کارآمد رہنے کی مدت اور کتوں پر ماحول کے اثرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی جانچا گیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی