سوات: ’سیب کے باغ ذریعہ معاش ہیں، حکومت نے سیکشن فور لگا دیا‘

سوات میں ایکسپریس وے اور سپورٹس کمپلیکس سمیت اس وقت 57 ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جس کے لیے زرعی زمینوں پر سیکشن فور لگایا گیا ہے، تاہم مقامی افراد اس پر سراپا احتجاج ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے سراج خان کے باغات میں سیب کی کئی مختلف اقسام سمیت دیگر پھلوں کے درخت ہیں، جن کا تحفظ اب ان کے لیے پریشانی کا سبب بنا گیا ہے کیونکہ ان کی زمین ممکنہ طور پر حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کئی سالوں کی انتھک محنت کے بعد اب جب یہ درخت پھل دینے کے قابل ہوئے ہیں تو حکومت نے ان کی 13 کنال 16 مرلے اراضی پر حصول اراضی قانون کا سیکشن فور لگا دیا گیا ہے، جسے وہ اپنا معاشی قتل گردانتے ہیں۔

سراج خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے باغ میں مختلف اقسام کے سیب اور دیگر پھلوں کے درخت ہیں، جن کی نشوونما میں کافی عرصہ لگا۔ ’میں نے ان باغات کے ساتھ بڑی محنت کی اور یہی میرا اور میرے خاندان کا ذریعہ معاش ہے، لیکن مجھ سے سیاسی اختلافات کی بنا پر اب حکومت نے میری زمین پر سیکشن فور لگا دیا ہے تاکہ یہاں پر سپورٹس کمپلیکس بنایا جاسکے۔‘

واضح رہے کہ سرکاری منصوبوں کی زد میں آنے والی اراضی پر حکومت حصول اراضی قانون کا سیکشن فور لگا کر زمین اپنی ملکیت میں لے لیتی ہے اور مالکان کو اس کی قیمت ادا کی جاتی ہے۔

سراج کا کہنا تھا کہ وہ ایک سماجی کارکن بھی ہیں اور مختلف مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ بقول سراج: ’میرے باغات تک آنے کے لیے نہ ہی کوئی پختہ راستہ ہے اور نہ ہی یہ سڑک کے کنارے واقع ہے، اس کے باوجود میری زمین کو قصداً سیکشن فور میں ڈالا گیا ہے اور میرا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔‘

سوات میں اس وقت 57 ایسے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جس کے لیے زمینوں پر حصول اراضی قانون کا سیکشن فور لگایا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان کے دفتر سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق یہ منصوبے مختلف محکموں کے ذریعے تکمیل تک پہنچائے جا رہے ہیں جبکہ متعلقہ محکمے اپنے منصوبے کے لیے سیکشن فور لگاتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق جن منصوبوں میں زرعی اراضی کو شامل کیا گیا ہے ان کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جس میں مقامی عمائدین کو بھی شامل کیا گیا ہے اور اب ان کمیٹیوں کے ذریعے مقامی لوگوں کے تحفظات دور کیے جارہے ہیں اور کوشش ہے کہ زرعی اراضی کو بچایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ اراضی متاثرین کو سالانہ انتقالات کے حساب سے رقم دی جا رہی ہے۔ یہ رقم مارکیٹ ریٹ سے کم ہوتی ہے۔

سوات میں ایک اور بڑے منصوبے سوات ایکسپریس وے (موٹر وے) کے لیے بھی مختلف مقامات پر مارکنگ کر دی گئی ہے۔ یہ 80 کلومیٹر شاہراہ چکدرہ سے شروع ہو کر فتح پور کے مقام پر ختم ہوگی۔

اس منصوبے میں بھی زرعی اراضی اور لوگوں کے مکانات کو مارکنگ میں شامل کیا گیا ہے، جس پر مقامی عمائدین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور اس منصوبے کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں۔

علاقہ ننگولئی کے رہائشی فتح اللہ ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ سوات ایکپریس وے کے لیے تین نقشے پاس ہوئے ہیں، جن میں سے آخری نقشے میں زرعی اراضی اور لوگوں کے ذاتی مکانات کو شامل کرکے ان کی مارکنگ کی گئی ہے۔

بقول فتح اللہ: ’دریائے سوات کے کنارے بننے والی سوات ایکسپریس وے کو مختلف مقامات پر زرعی اراضی میں داخل کیا گیا ہے، جس سے ہمارا معاشی قتل ہو رہا ہے اور قیمتی زمینوں کو اونے پونے داموں خریدا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم ترقی کے خلاف نہیں، ایکسپریس وے ضرور بنایا جائے لیکن دریائے سوات کے کنارے اور زرعی اراضی سے دور، تاکہ ایک طرف سیاحوں کو ایکسپریس وے پر حسین نظارے دیکھنے کو ملیں تو دوسری طرف ہماری زرعی اراضی کو بچایا جائے۔ مختلف منصوبوں کے لیے زرعی زمینوں کو سیکشن فور کے ذریعے خریدا گیا ہے، جس سے یہاں کی زراعت متاثر ہو رہی ہے اور لوگوں کا ذریعہ معاش چھینا جا رہا ہے۔‘

ضلعی انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں نے اس حوالے سے بتایا کہ سوات ایکسپریس وے کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور جلد ہی یہاں کے مقامی عمائدین کے تحفظات دور کیے جائیں گے اور کوشش ہو گی کہ زرعی اراضی کو بچایا جائے۔

دوسری جانب سوات میں ڈیڈک چیئرمین اور ایم پی اے فضل حکیم خان کا کہنا ہے: ’ہم یہ نہیں چاہتے کہ زرعی زمین کو خراب کیا جائے، لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ سوات میں موٹروے نہ آئیں۔ اراضی متاثرین کو بھی ریلیف دیا جائے گا اور خیبر پختونخوا اور ملک بھر کے عوام کو بھی ریلیف دیا جائے گا۔ دونوں کام ایسے طریقے سے کریں گے کہ یا تو گھروں کو مسمار کیا جائے گا یا زمینوں کو، اس میں ایک کام تو کرنا پڑے گا۔‘

فضل حکیم نے مزید کہا: ’مقامی لوگوں کے مشورے سے کام کیا جائے گا، اس میں بہت کم لوگوں کو نقصان ہوگا لیکن اکثریت خوش ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان