مذہبی نسل کشی اور بھارتی مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

بلا روک ٹوک مذہبی تشدد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ریاست ان پُرتشدد مذہبی جنونیوں کے ساتھ مل کر بھارت کو ہندو اکثریتی ملک بنانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا شکار تمام اقلیتیں ہیں۔

11 فروری 2022 کو کولکتہ میں مظاہرین کرناٹک میں ایک مسلمان طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد احتجاج کر رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

اقلیتوں کو بھارت میں اس سے پہلے اپنی بقا کے خدشات اتنے شدید نہ تھے جتنے موجودہ بی جے پی حکومت نے وزیراعظم مودی کی قیادت میں پیدا کر دیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت آر ایس ایس کے ساتھ مل کر بھارت سے تمام اقلیتوں کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

یہ مذہبی انتہا پسند نہ صرف اقلیتوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں سے بھی بھارت کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔ کئی مقامات پر مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں کے علاوہ دلت افراد کو ہندو تشدد پسند ہجوم کا سامنا کرتے ہوئے جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں اور اس سلسلے میں قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔

ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی شرح کو مبالغہ آمیزی کے ساتھ بڑھا چڑھا کر عام ہندوؤں کو اپنے ملک میں اقلیت بن جانے کے امکان سے خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور حکومت ان بے بنیاد خدشات کو دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی اور نہ ہی حکومت حجاب کرنے والی معصوم مسلمان طالبات کو ان کے ہم جماعتوں کی ہراسانی سے محفوظ رکھ پا رہی ہے۔

اس بلا روک ٹوک مذہبی تشدد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ریاست ان پُرتشدد مذہبی جنونیوں کے ساتھ مل کر بھارت کو ہندو اکثریتی ملک بنانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اور تمام اقلیتیں اس وقت ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والے حملے کا شکار ہیں۔ چونکہ آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ بی جے پی ایک لمبے عرصے تک بھارت پر حکمرانی کرے گی جس سے اقلیتوں پر مظالم میں مزید تیزی آئے گی، اس لیے ضروری ہے کہ اقلیتیں خصوصاً مسلمان جو اس مذہبی تشدد کا خاص نشانہ ہیں، اپنے تشخص کے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ 

مسلمانوں کے پاس بظاہر دو راستے دکھائی دیتے ہیں۔ پہلا راستہ اسی طرح مظالم کا شکار رہنا اور کسی معجزے کا انتظار کرنا ہے جس میں سیکولر سیاسی جماعتیں اور عدلیہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ان کی مدد کے لیے میدان میں اتریں۔

دوسرا راستہ ایک منظم مزاحمت کا ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنی سیاسی قوت بڑھاتے ہوئے ان مظالم کا سیاسی اور قانونی مقابلہ کر سکیں۔ مسلمان بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ ان کی تعداد 20 کروڑ سے بھی زیادہ ہے اور وہ بھارت کے ہر حصے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ ہزار سکھ ایک طاقتور مودی حکومت کو اپنی پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو یقیناً اسی قسم کی پرامن سیاسی جدوجہد سکھوں سے بہت زیادہ بڑی تعداد میں مسلمان زیادہ کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں مسلمانوں کو اپنی بقا کے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی جلد از جلد طے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آر ایس ایس کے انتہا پسند دہشت گرد مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’جینوسائیڈ واچ‘ نے پہلے ہی اس سامنے نظر آنے والے خطرے کی نشاندہی کر دی ہے۔

مسلمانوں کو اپنی بقا کے اس بڑے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں نے متحدہ ہندوستان کی متشدد تقسیم کے بعد کوشش کی کہ وہ مرکزی دھارے والی سیاسی جماعتوں کا حصہ بن کر بھارت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ ممتاز مسلمان رہنما حکمران کانگریس کا حصہ رہے۔ مسلمان اشرافیہ نے بھی حکمران جماعتوں کا ساتھ دیا اور ان کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اور ایک حد تک اپنے مذہبی تشخص تک کو بھی پیچھے ڈال دیا، لیکن بدقسمتی سے اس مصالحانہ جذبے کے باوجود مسلمان امتیازی سلوک اور تسلسل کے ساتھ فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنے رہے۔ مسلمان فنکار اب بھی ممبئی جیسے بظاہر ترقی پسند شہر میں کرائے پر گھر تک نہیں لے سکتے۔ اب معاملہ ان کی نسل کشی تک پہنچ چکا ہے۔

اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اپنی ایک علیحدہ سے سیاسی جماعت بنائیں جو ان کے سیاسی مفادات کا اپنی انتخابی طاقت کے ذریعے مقابلہ کرسکے۔ اس سلسلے میں ریاست یو پی میں جاری انتخابات، جو مارچ تک مکمل ہوں گے، کے دوران مسلمانوں کو متحد ہو کر بی جے پی کے امیدواروں کے خلاف اپنے ووٹ کا اجتماعی استعمال کرنا چاہیے۔

یو پی میں کئی انتخابی حلقے ایسے ہیں جن میں مسلمانوں کی تعداد 40 سے 50 فیصد کے درمیان ہے اور ان کا ووٹ بی جے پی مخالف امیدواروں کے لیے کافی سود مند اور فیصلہ کن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمانوں کا سیاسی اتحاد اور انتخابی طاقت انتہا پسندوں اور حکومت کو اپنے معاندانہ رویے میں تبدیلی پر غور کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

مسلمان سارے بھارت میں پھیلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس طرح سے ایک متحدہ ووٹ بینک کی صورت میں نہیں ابھر سکے جس طرح پنجاب میں سکھ انتخابی اکثریت میں ہیں۔ اگرچہ یہ ایک لمبی منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہوگا مگر مسلمانوں کی مجوزہ سیاسی جماعت کو اس حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اپنی رہائشی ترجیحات بنائیں اور ان کے مطابق ان علاقوں میں نقل مکانی کی کوشش کریں جس سے ان کی سیاسی اور انتخابی قوت میں اضافہ ہوسکے۔

اس سارے عمل میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد پر انحصار کرنا ہو گا کیونکہ یہ ان کی بقا کی جنگ ہے اور یہ جنگ ان میں اتحاد، ایک دوسرے کی مالی مدد اور ان کی سیاسی قوت بڑھائے بغیر جیتی نہیں جا سکتی۔

بھارتی حکومت کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد انہیں اس بات پر مجبور کر سکتا ہے کہ وہ بھی اپنی نسل کشی کا مقابلہ کرنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کریں۔ اس قسم کے تشدد کی ابتدا بھارتی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوسکتی ہے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ