زیر آب شور کی آلودگی کچھوؤں کی قوت سماعت متاثر کر رہی ہے: تحقیق

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جہاز رانی یا ساحل کے قریب تعمیرات جیسی سرگرمیوں کی وجہ سے زیر آب شور کی آلودگی کچھوؤں کی قوت سماعت متاثر کر رہی ہے۔

نئی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ  کچھوے آواز کے معاملے میں اس سے کہیں زیادہ حساس ہیں جتنا پہلے سمجھا گیا تھا (اے ایف پی)

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جہاز رانی یا ساحل کے قریب تعمیرات جیسی سرگرمیوں کی وجہ سے زیر آب شور کی آلودگی کچھوؤں میں قوت سماعت کی محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ محرومی چند منٹ سے لے کر کئی دنوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق، جسے جمعے کو اوشن سائنسز میٹنگ 2022 میں پیش کیا جائے گا، اس آلودگی کے کچھوؤں کی خطرے سے دوچار بعض اقسام کی بقا کے لیے مضمرات ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ مطالعات میں سمندری جانوروں جیسے سکویڈز (مچھلی کی قسم) مچھلیوں اور وہیلز پر شور کے اثرات کا پتہ چلا ہے۔ سائنس دانوں کا، جن میں امریکہ میں ووڈز ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے ماہرین بھی شامل ہیں، کہنا ہے کہ کچھوؤں جیسے رینگنے والے جانوروں پر کم کام کیا گیا ہے۔

نئی تحقیق سے اشارہ ملتا ہے کہ رینگنے والے یہ جانور آواز کے معاملے میں اس سے کہیں زیادہ حساس ہیں جتنا کہ پہلے سمجھا گیا تھا۔

اس تحقیق میں جس کا ماہرین نے جائزہ لینا ہے، محققین نے ایک کچھوے کے کان سے اوپر جلد کے نیچے ایک برقیرہ (الیکٹروڈ) داخل کیا جو کم سے کم تکلیف دہ تھا۔

اس کارروائی کا مقصد کچھوؤں کی طرف سے بنائے گئے ان بے حد چھوٹے برقی وولٹیجزکا پتہ لگانا تھا جب وہ آوازیں سنتے ہیں۔

بعد ازاں محققین نے پانی کے اندر کچھوؤں کی قوت سماعت کی نچلی حد اور اس بات کا تعین کیا کہ رینگنے والے جانوروں نے کون سی آوازیں یا فریکوئنسیز سب سے بہتر طور پر سنیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تجربات ’ٹریکیمس سکرپٹا ایلیگنز‘ اور ’کریسیمس پکٹا‘ نامی تازہ پانی کے کچھوؤں کی دو اقسام پر مرکوز رکھے گئے۔ بعد میں سائنس دانوں نے کچھوؤں کو بلند اور زیادہ فریکوئنسی والا شور سنوایا۔

محققین کچھوؤں کو شور سنوانے کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک اس کی قوت سماعت کی پیمائش کرتے رہے۔ بعد میں شور بند کر دیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ رینگنے والے جانوروں نے پانی کے اندر کم وقت میں اپنی سماعت کیسے بحال کی۔

اس کے بعد سائنس دانوں نے دو دن تک کچھوؤں پر نظر رکھی یہ دیکھنے کے لیے آیا ان کی قوت سماعت مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔

ایسے میں جب کچھوے اپنی سماعت ہمیشہ بحال کر لیتے ہیں، محققین کو پتہ چلا کہ عام طور پر وہ تقریباً 20 منٹ سے لے کر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک سماعت سے محروم رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم بعض اوقات ان کی سماعت آزمائشی گھنٹے کے اختتام تک بحال نہیں ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھوؤں کو قوت سماعت کی مکمل بحالی کے لیے مزید وقت درکار تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایک کچھوے کی قوت سماعت کئی دنوں تک متاثر رہی۔

ووڈز ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن سے وابستہ محققق اینڈریاسالس نے ایک بیان میں کہا: ’اگر ایسا قدرتی ماحول میں ہوتا ہے تو کچھوے ان اوقات میں اپنے ماحول میں آوازیں سننے کے قابل نہیں ہوں گے بشمول وہ آوازیں جو رابطے یا انہیں شکاری جانورں کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’سمندری اور عام کچھوے کی آدھی سے زیادہ اقسام خطرے سے دوچار ہیں اور شورکی آلودگی وہ اضافی عمل ہے جس پر ہمیں جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرتے وقت غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات