’پاکستان میں غیرموجود چیزیں دکھائی، سنائی دینے کی کیفیت میں اضافہ‘

ماہرین نفسیات نے خبردار کیا کہ پاکستان میں مختلف ذہنی امراض خصوصاً سائیکوسس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے تحقیق کی کمی اور عوام کی کم علمی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

جب کسی شخص کو  وہ چیزیں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں، جو کسی اور کو نظر نہیں آتیں، جبکہ ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ طب کی کتابوں میں اس کیفیت کو ’سائیکوسس‘ کہا جاتا ہے (تصویر: پکسابے)

صوبہ خیبر پختونخوا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں ذہنی صحت کے حوالے سے رواں ہفتے منعقد کیے گئے ایک ورکشاپ میں شرکت کرنے والے قومی وبین الاقوامی ماہرین نفسیات نے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان بھر میں ’سائیکوسس‘ کو ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

پشاور میں واقع خیبر میڈیکل یونیورسٹی جہاں حال ہی میں برطانیہ کی ریسرچ یونیورسٹی کیل اور میڈیکل ریسرچ کونسل برطانیہ کے تعاون اور مالی امداد سے دماغی صحت پر ایک تحقیقی مطالعے کا آغاز ہوا ہے۔

ماہرین نے اس مطالعے کو ایک بروقت تحقیق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسائل پر بہتر انداز میں قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم متعلقہ یونیورسٹی میں منعقدہ ورکشاپ میں ماہرین نفسیات نے خبردار کیا کہ پاکستان میں مختلف ذہنی امراض خصوصاً سائیکوسس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے تحقیق کی کمی اور عوام کی کم علمی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

سائیکوسس کیا ہے؟

جب ایک شخص حقیقت کی دنیا سے رابطہ توڑ کر وہم و فریب میں اس حد تک مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ چیزیں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں، جو کسی اور کو نظر نہیں آتیں، جبکہ ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ طب کی کتابوں میں اس کیفیت کو ’سائیکوسس‘ کہا جاتا ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر نائیلہ ریاض نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے دماغی صحت پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ دس، 15 سال سے طب کی دنیا میں بحث ہو رہی ہے کہ 2020 تک دنیا میں امراض قلب کے بعد دوسرا اہم طبی مسئلہ ’دماغی امراض‘ کا ہوگا۔

ڈاکٹر نائیلہ ریاض کہتی ہیں کہ دماغی صحت کے شعبے میں ہمیشہ ’ڈپریشن‘ کو سرفہرست سمجھا جاتا رہا ہے اور اسی سبب تمام تر توجہ اسی پر مرکوز رہی۔ ’تاہم پچھلے کچھ سالوں سے ماہرین نفسیات سائیکوسس کی جانب راغب ہوگئے ہیں۔‘

نائلہ ریاض نے بتایا کہ دماغی صحت کی دو اقسام ہیں ’نیوروسس‘ اور سائیکوسس‘ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’نیوروسس ایک معتدل ذہنی خلفشار یا پریشانی کا نام ہے، جو کہ سٹریس، ڈپریشن اور ذہنی اضطراب کی وجہ سے جنم لیتا ہے، جبکہ سائیکوسس شخصیت میں ایک غیرمعمولی تبدیلی کا نام ہے، جس کی وجہ سے ذہن میں ایک ہلچل مچ جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سائیکوسس میں ایک شخص ’ہیلوسینیشن‘، ’ڈیلوژن‘، اور ’آئسولیشن‘ جیسی علامات کا شکار ہو جاتا ہے۔

جبکہ سائیکوسس میں مبتلا شخص میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:

  • غیر موجود کسی شخص سے باتیں کرنا
  • آوازیں سنائی دینا
  • بے خوابی، عدم استحکام اور گھبراہٹ
  • اشتعال انگیزی
  • طبیعت میں رد و بدل اور دھیان دینے میں دشواری
  • چڑچڑا پن
  • اینٹی سوشل ہو جانا، لوگوں سے متنفر اور بے زار رہنا۔

سائیکوسس کی وجوہات

طبی تحقیق کے مطابق صدمہ، کسی قریبی رشتہ دار کی موت، سر میں رسولی، کام کا بوجھ، منشیات کا استعمال وغیرہ سائیکوسس کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر نائلہ ریاض کے مطابق بعض اوقات، سائیکوسس تیز بخار میں بھی ہو جاتا ہے اور مریض بے تکی اور غیر حقیقی باتیں کرنے لگتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹراما یا صدمہ سائیکوسس کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ ’خیبر پختونخوا، قبائلی اضلاع اور افغانستان کے ایسے مریض جو دہشتگردی اور بم دھماکوں کے صدمے سے گزرے ہیں، وہ سائیکوسس کا نشانہ بنے۔‘

خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں اس بیماری پر روشنی ڈالتے ہوئے ماہرین نفسیات نے کہا کہ پاکستان جیسے کم آمدنی والے ممالک میں نوجوانوں میں سائیکوسس دو سال تک غیر تشخیص شدہ اور لاعلاج رہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 18 ماہ کے اندر اس بیماری کو باآسانی ٹھیک کیا جاسکتا ہے، جبکہ بعد ازاں یہ پیچیدہ شکل اختیار کر جاتی ہے۔

پشاور میں مقیم  سائیکالوجسٹ پلوشہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گھر بیٹھے آن لائن کلینک چلاتی ہیں اور ان کے پاس قریباً دس ہزار مریضوں میں ایک بڑی تعداد سائیکوسس کے شکار افراد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا میں دماغی صحت کے مسائل اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ یہ صوبہ نہ صرف دہشتگردی سے متاثر ہوا ہے بلکہ یہاں کے رسم و رواج بھی ان میں اضافے کا سبب ہیں۔

’افسوس یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد اپنی کم علمی کی وجہ سے ان ذہنی امراض کو جن بھوت کا نام دے کر آج بھی پیروں فقیروں کے پاس علاج کے لیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک باآسانی حل ہونے والا مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے اور علاج کا عمل پھر تمام عمر چلتا رہتا ہے۔‘

پلوشہ خان نے بتایا کہ سائیکوسس ایک قابل علاج مرض ہے اور اس میں کاؤنسلنگ کی بجائے ماہرین نفسیات دوائیں تجویز کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت