عورت کے بارے میں ہماری نفسیاتی گرہیں کب کھلیں گی؟

پدر سری معاشرے کا مرد دوسرے مرد کو گالی بھی بکتا ہے تو مشق ستم عورت ہی ٹھہرتی ہے۔

(اے ایف پی)

ریپ کی ایک شکل ہمارے سامنے ہے اور پورا سماج اس پر سراپا احتجاج ہے۔ ہم اگر یہ چاہتے ہیں کہ یہ دکھ کسی اصلاح احوال کا نقش اول بن جائے تو ہمیں اس سوال پرغور کرنا ہو گا کہ عورت کے بارے میں جن گرہوں کے ہم اسیر ہیں وہ گرہیں کب کھلیں گی؟

پہلے یہ جان لیجیے کہ تعزیرات پاکستان میں ریپ کا مفہوم کیا ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت کسی خاتون سے جسمانی تعلق کی پانچ صورتوں کو ریپ کہاجائے گا۔

  1. یہ تعلق اس عورت کی مرضی کے خلاف قائم کیا گیا ہو۔
  2. یہ تعلق اس کی مرضی کے بغیر قائم کیا گیا ہو۔ (پہلی صورت میں Against her will اور دوسری صورت میں Without her consent کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں)۔
  3. اس تعلق میں عورت کی رضامندی تو شامل ہو لیکن یہ رضامندی اس عورت کو موت یا جسمانی نقصان کے خطرے میں ڈال کر لی گئی ہو۔
  4. یہ تعلق اس غلط فہمی کی بنیاد پر قائم ہوا ہو کہ عورت نے مرد کو اپنا خاوند سمجھا ہو اور مرد جانتا ہو وہ اس کا خاوند نہیں۔
  5. یہ تعلق کسی ایسی لڑکی کے ساتھ قائم کیا گیا ہو جس کی عمر 16 سال سے کم ہو، چاہے اس میں اس لڑکی کی رضامندی شامل ہو یا نہ ہو۔

اب اپنے معاشرے پر ایک نگاہ دوڑائیے۔ ہمارے ہاں دانشوری کا عمومی میدان چونکہ سیاست قرار پایا ہے اس لیے سماجیات کے باب میں بے گانگی اور بے نیازی ہے۔ سماجیات البتہ جن کا موضوع ہے وہ جانتے ہیں کہ جبری شادیوں کے سماجی المیے نے کس طرح معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اب ذرا ریپ کی تعریف کے پہلے دو اجزا پر ایک نظر ڈالیے اور بتائیے جبری شادی کو شادی کہا جائے گا یا ریپ؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نکاح کیا ہے؟ یہ فریقین کے ایجاب و قبول کا نام ہے۔ اب سوال یہ ہے ایک مقدس معاہدے میں ایک فریق کی مرضی ہی شامل نہ ہو، اسے محض برادری میں رشتہ کرنے اور جائیداد کو غیروں میں جانے سے روکنے کے لیے کسی ایسے فرد سے بیاہ دیا جائے جو اسے پسند ہی نہ ہو اور وہ اس سے نفرت کرتی ہو یا اس کے بھائی جان کسی کو قتل کر آئے ہوں اور بدل صلح میں مقتول کے کسی عزیز سے اب اپنی بہن کو بیاہ رہے ہوں تاکہ وہ سزا سے بچ سکیں یا وٹہ سٹہ میں کسی ناپسندیدہ آدمی سے اس کی شادی کرائی جا رہی ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نکاح کی کیا حیثیت ہے؟ ایسے نکاحوں کے بارے میں ہمارے ہاں حساسیت کیوں پیدا نہیں ہو سکی اور ہم نے ریپ کی ان شکلوں کو رواج کا درجہ کیوں دے رکھا ہے؟

پاکستان کا قانون یہ کہتا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کی لڑکی سے جسمانی تعلق ریپ کہلائے گا اور اس بات کی کوئی اہمیت نہ ہو گی کہ اس میں اس کی رضامندی شامل ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ 16 سال سے کم عمر کی لڑکی کی نکاح کے بارے میں سماج کا رویہ کیا ہے اور اس کی حساسیت کا عالم کیا ہے؟

نکاح اگر ایک معاہدہ ہے اور مقدس معاہدہ تو ایک نابالغ بچی اس معاہدے کی فریق کیسے بن سکتی ہے؟ معاہدہ وہ کر سکتا ہے جو بالغ ہو۔ جو بالغ ہی نہیں اور قانونی اعتبار سے معاہدہ کرنے کے قابل ہی نہیں اسے نکاح کے معاہدے کا پابند کیسے کیا جا سکتا ہے؟

نابالغ بچی نہ معاہدہ کرنے کے قابل ہے اور نہ اس قابل ہے کہ وظیفہ زوجیت ادا کر سکے۔ لیکن آئے روز ہم خبریں پڑھتے ہیں فلاں شہر میں ایسا نکاح ہو گیا اور پولیس نے نکاح خواں سمیت دلہا اور دیگر کو گرفتار کر لیا۔ سماج نے کبھی اس پر حساسیت نہیں دکھائی۔

قوانین تو موجود ہیں لیکن سماج کی گرہیں کیسے کھلیں گی؟ میاں بیوی کا تعلق ہی محبت کا تعلق ہے لیکن یہاں باہم انڈر سٹینڈنگ ہو تو سماج کے نزدیک وہ مرد ’رن مرید‘ قرار پاتا ہے۔ اخلاقیات کے سارے تصورات ہم نے لڑکیوں کے لیے رکھ چھوڑے ہیں اور ہم بھول گئے ہیں کہ مرد کو بھی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پدر سری معاشرے کا مرد دوسرے مرد کو گالی بھی بکتا ہے تو مشق ستم عورت ہی ٹھہرتی ہے۔ گالی ماں بہن کی دی جاتی ہے اور بے تکلف دوستوں میں تو اسے ایک رواج کا درجہ حاصل ہے۔ روایتی گھرانوں میں بھی لڑکے کے سامنے درجنوں لڑکیوں کی تصاویر رکھ کر اس کی پسند معلوم کی جاتی ہے لیکن لڑکی اگر اپنی پسند زبان پر لے آئے تو اس کی یہ جسارت قابل برداشت نہیں۔

قانون کا تعلق استثنائی صورت حال سے ہوتا ہے لیکن تربیت ایک ہمہ جہت اور مسلسل عمل کا نام ہے۔ ایک حادثہ ہوا اور اس نے سماج کو ہلا کر رکھ دیا۔ لازم ہے کہ قانون اپنا راستہ بنائے اور مجرم کو قرار واقعی سزا ملے۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہونی چاہیے۔ جس دکھ نے ہمیں گرفت میں لے رکھا ہے وہ اصلاح احوال میں تب ہی ڈھل پائے گا جب اسی یکسوئی کے ساتھ سماج کی تربیت کو بھی موضوع بنایا جائے گا۔

کیا ہم یہ بھاری پتھر اٹھا پائیں گے؟

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر