کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں!

اس کیس میں لوگوں کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان کو فوری پھانسی دی جائے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ ان کی شناخت بھی سامنے لائی جانی چاہیے تاکہ ان کو شرمندگی اور ندامت ہو، دنیا ان کے سفاک چہرے دیکھے۔

لاہور میں جنسی تشدد کے واقعے کے خلاف اسلام آباد میں ایک احتجاج میں شریک دو خواتین (انڈپینڈنٹ اردو)

میں عورت ہوں۔ میں باہر نہ نکلوں، میں سکول نہ جاؤں، مرضی سے شادی نہ کروں، نوکری نہ کروں۔۔۔کیونکہ میرا معاشرہ مجھے اس چیز کی اجازت نہیں دیتا۔ میرا معاشرہ نہیں دیتا لیکن میرا دین تو مجھے ہر قسم کی آزادی دیتا ہے۔

جو مرد میری زندگی میں ہیں چاہے میرے دادا جان ہوں، نانا جان ہوں، والد ہوں، چچا ہوں، ماموں ہوں سب ہی اسلام کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے مجھے وہ سب کچھ کرنے دیتے ہیں جس کی اجازت مجھے دین دیتا ہے۔ تو پھر یہ معاشرہ کہاں سے آگیا؟ کس نے بنایا ہے یہ معاشرہ؟ کن اصولوں پر چلایا جا رہا ہے یہ معاشرہ؟ یہ وہ سوال ہیں جو میں سب سے پوچھنا چاہتی ہوں لیکن یہ بھی جانتی ہوں کہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملےگا۔

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

سچ پوچھیے تو میں بھی یہ سوال کرنا بھول گئی تھی لیکن گذشتہ دو تین دن میں ایسی خبریں سنیں کہ یہ سوال دوبارہ ذہن میں آگیا۔

ایک خاتون گاڑی میں بچوں کے ساتھ اپنے جاننے والوں کے ہاں سے رات تقریبا بارہ سے دو بجے کے درمیان اپنے گھر جانے کے لیے نکلی کہ راستے میں اس کی گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا۔ اس کی گاڑی بند ہو گئی۔ اس نے مدد کے لیے موٹروے پولیس کو فون کیا، موٹروے پولیس نے اس کو کوئی اور مقامی نمبر دیا، خاتون نے اس پر بھی فون کیا اور ان کی یقین دہانی کرانے کے بعد مدد کا انتظار کرنے لگی۔

اچانک کہیں سے دو حملہ آور موٹر سائیکل پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے خاتون کی گاڑی کے شیشے توڑے (یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے والی ہے کہ گاڑی کے شیشے اس قدر سیاہ تھے کہ گزرنے والے کو کسی صورت نظر نہیں آسکتا تھا کہ اندر کون بیٹھا ہے، کوئی بیٹھا بھی ہے یا نہیں)۔ لیکن ان وارداتیوں کو یہ نظر آگیا کہ اندر خاتون بیٹھی ہے۔

خیر انہوں نے بچوں کو گھسیٹنا اور اپنے ساتھ لے جانا شروع کیا اور ماں کو ان کے سامنے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ سیالکوٹ اور لاہور موٹروے پر پیش آیا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ عمومی طور پر جی ٹی روڈ سے زیادہ محفوظ موٹروے سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کون سا ظلم ہے جو عورت پر نہیں کیا جاتا؟ اسے گالی بھی دی جاتی ہے، اسے مارا پیٹا بھی جاتا ہے اور یہ مار پیٹ شہر میں رہنے والی خاتون کے گھر میں بھی ہے۔ یہ مار پیٹ قبائلی علاقے میں رہنے والی عورت کے خلاف بھی ہے اور یہ مار پیٹ وڈیرے اور جاگیردارانہ نظام میں رہنے والی عورت کے خلاف بھی ہے۔ یہاں تک کہ سڑک پر بھی ہے۔ اس سارے ظلم کے خلاف ہماری عورت عرصہ دراز سے جدوجہد کر رہی ہے اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہے۔

اس سے پہلے ہم یہ تو سنتے تھے کہ کوئی غیر شادی شدہ جوان لڑکی مغرب کے بعد اندھیرے میں آبادی والے علاقے سے باہر نکلتی تھی اور کہیں سنسان راستوں سے گزرتی تھی تو اس کو خطرہ ہوتا تھا، اس کی زندگی کو خطرہ ہوتا تھا۔ لیکن یہاں تو ایک شادی شدہ عورت ہے جس کے ساتھ اس کے بچے بھی ہیں۔ ہمارے اسلامی معاشرے کی، قبائلی معاشرے کی بنیادی اقدار ہمیشہ سے یہ رہی ہیں کہ شادی شدہ عورت جس کے بچے بھی ہوں اس کی آپ بے حد عزت کرتے ہیں، اسے ہر شخص تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اس واقعے کو ہمارے لیے ہماری تاریخ کا پست ترین مقام بنا دیتا ہے۔ یہاں پر کوئی خاندانی دشمنی، کوئی خاندانی بدلہ لینے والا معاملہ بھی نہیں ہے کہ جن سے بدلہ لیا جا رہا ہو ان کو جان بوجھ کر تکلیف اور ازیت پہنچائی جائے۔ یہاں دو لوگوں کا اچانک کہیں سے نمودار ہو جانا اور یہ سب حیوانیت دکھانا اپنی نوعیت کا پہلا ایسا تکلیف دہ واقعہ ہے کیونکہ یہ ہر لحاظ سے اس تشدد اور مار پیٹ سے مختلف ہے جو آئے دن عورت کے خلاف دیکھی جاتی ہے اور رپورٹ ہوتی ہے۔ اور اسی لحاظ سے یہ انتہائی پریشان کن ہیں۔

یہ واقعہ تو جو ہوا سو ہوا اس کے بعد خاتون کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے سی سی پی او لاہور جن کے بارے میں حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ بڑے ذمہ دار افسر ہیں، ان کی طرف سے جو باتیں کی گئی ان سے بہت غلط تاثر گیا۔ یہ باتیں ٹھیک لگتی اور بہت سراہی بھی جاتی اگر ایسے واقعات ہونے سے پہلے اس قسم کی پولیسنگ یا شہریوں کے تحفظ کے لیے اس قسم کی ذمہ دار مہم چلائی جائے۔ لیکن ایک واردات ہو جائے اور اس کے بعد آپ لوگوں کو تنبیہ کرنا شروع کر دیں، مشورے دیں، سارا ملبہ ان پر گرائیں تو اس سے بہتر ہے کہ آپ خاموش ہی رہیں۔

پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ اس موٹروے پر تو پولیس کی نفری ہی تعینات نہیں تھی۔ یہاں حکومت سے سوال اٹھتا ہے کہ جب پولیس تعینات کر کے موٹروے پر شہریوں کو حفاظت نہیں فراہم کی جا رہی، اس کے پیچھے وجہ چاہے جو بھی ہو، تو یہ موٹروے کھولی ہی کیوں گئی؟ اس پر اتنا زیادہ ٹول کس بات کا لیا جا رہا ہے؟

نفری نہ ہونے کے باعث یہ تو ایک نامکمل منصوبہ عوام کے لیے عجلت میں کھول دیا گیا جہاں کبھی ایک گاڑی لوٹی جا رہی ہے کبھی دوسری اور حکومت، پنجاب پولیس، موٹروے حکام گھوڑے بیچ کے سو رہے ہیں۔ اسی موٹروے کے بارے میں چند دن قبل یہ بھی خبر آئی کہ کچھ چوروں نے مزے سے ایک بڑا درخت لا کر سڑک کے درمیان رکھا اس کی وجہ سے گاڑیاں رکنے لگیں تو انہوں نے پوری تسلی سے انہیں بھی لوٹا، فائرنگ بھی کی لیکن حکام کو کوئی خبر نہ ہوئی۔

اس واقعے میں غلطی چاہے جس کی بھی ہو ایک غلطی جو ہمارے نظام کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ نظام چلانے والے ان سی سی پی او صاحب جیسے ہی لوگ ہیں، جن کو اپنی ذمہ داری کا خیال بعد میں آتا ہے عوام کی غلطی کی نشاندہی پہلے کرتے ہیں۔ ایسے معاملات میں تو آپ کبھی دنیا میں سب سے زیادہ جرائم ہونے والے ملکوں کی پولیس سے بھی اس قسم کی باتیں جرم ہونے کے بعد نہیں سنتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ذمہ داری ہے، آپ نے وہ ماحول اور اعتماد فراہم کرنا ہوتا ہے شہری کو کہ وہ گھر کے اندر اور باہر محفوظ ہے اور اگر کچھ ہوا تو آپ اس کے تحفظ کو فوری پہنچیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تو ایک ایسا کیس تھا جو عام طور پر روز دیکھنے میں نہیں آتا اس لیے یہاں نئے آئی جی پنجاب، سی سی پی او، وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعظم کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ اب جب گاؤں کا پتہ چلا لیا گیا ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ یہ مجرم بہت دور سے نہیں آئے ہوں گے تو اب یہ بہت ضروری ہے کہ اگلے ایک دن کے اندر یہ لوگ گرفتار ہوں، یہ اقبال جرم کریں اور بتائیں کہ انہوں نے یہ سب کیوں کیا۔ کیسے ان کو پتہ چلا کہ اس انتہائی سیاہ شیشوں والی گاڑی میں خاتون اکیلی اپنے بچوں کے ساتھ ہے اور اس پر حملہ کیا جا سکتا ہے؟ اس کی گاڑی کا پٹرول ختم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہ کہیں بھاگ بھی نہیں سکتی؟ ان تمام سوالوں کے جواب ہمیں چاہیے۔

وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا، یہ خوش آئند بات ہے لیکن یہ معاملہ یہاں رکنا نہیں چاہیے بلکہ  پولیس کے ادارے میں جو اصلاحات کا وعدہ تھا اس پر فوری کام شروع ہونا چاہیے۔ اداروں کو چلانے والوں کے ذہنوں میں بھی ٹریننگ کے زریعے اصلاحات کرنی ہوں گی۔ پولیس افسروں کی طرف سے ایسے بیانات سامنے آنے کی بجائے ان کی طرف سے حتمی حکمت عملی سامنے آئے کہ جرائم کا تدارک کیسے کریں گے۔

ہماری پولیس کا رویہ مظلوم کے ساتھ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے، پولیس والوں کو اس قسم کے کیسز کے حوالے سے تربیت نہیں دی گئی، وہ ایسے عجیب و غریب سوالات کرتے ہیں اور ایسے لب و لہجے میں کرتے ہیں کہ عام آدمی پولیس کے پاس جانا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

اس کیس میں لوگوں کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ان کو فوری پھانسی دی جائے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ ان کی شناخت بھی سامنے لائی جانی چاہیے تاکہ ان کو شرمندگی اور ندامت ہو، دنیا ان کے سفاک چہرے دیکھے۔ ایسا کہنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے ایک ملزم کی شناخت کر لی ہے۔ ڈی این اے میچ ہونے والے ملزم کا تعلق بہاولنگر سے بتایا جا رہا ہےجو کہ پہلے بھی ریپ کیس میں ہی پکڑا گیا تھا۔

یقینا اس کو چند دن یا ماہ بعد چھوڑ دیا گیا ہوگا کہ جا اپنا اگلا شکار ڈھونڈ۔ اس وقت اس کی شناخت کو دنیا کے سامنے اگر لایا گیا ہوتا تو اب تک وہ عوام کے جوتے کھانے کے ڈر سے اور احساس ندامت سے ہی شاید کچھ سدھر گیا ہوتا۔ لیکن لگتا ایسا ہی ہے کہ اس وقت اس کے خلاف کوئی خاص کارروائی ہی نہیں کی گئی۔ پھانسی یا سخت سزاؤں کے ساتھ ساتھ اس ملک میں عدل و انصاف کا نظام بھی فعال ہونا لازم ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک بااثر کاروباری شخص نے تحریک انصاف کی ایک خاتون کو 2017  میں اس کے بچوں کے سامنے بھرے بازار میں اس کی گاڑی سے باہر گھسیٹا، مارا پیٹاجب وہ اپنے موبائل سے مریم نواز کے جلوس کی تصویریں بنا رہی تھیں۔ آج تک اس آدمی کو کسی پولیس افسر نے گرفتار نہیں کیا اور آج تک کسی عدالت نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ ہم ہر چیز پر بٹ جاتے ہیں اور ہماری اس قسم کے مسائل پر بھی کوئی حتمی رائے نہیں ہوتی تو پھر کسی افسر سے کیا گلہ کرنا۔    

جب تک فوری گرفتاریاں نہیں ہوں گی، کیسوں کو فوری پایائے تکمیل تک نہیں پہنچایا جائے گا، مجرم کی شناخت کو عوام کے سامنے نہیں لایا جائےگا، سزائیں نہیں سنائی جائیں گی تب تک یہ واقعات ہوتے رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ