حکومت بچانے کے لیے بلیک میلنگ کو مسترد کرتے ہیں، وزرا

پاکستان کے وفاقی وزرا نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ حکومت بچانے کے لیے کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ، سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں۔

وفاقی وزرا اسد عمر، حماد اظہر اور فواد چوہدری نے اسلام آباد میں جمعرات کی شام صحافیوں سے بات کی(سکرین گریب)

پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت بچانے کے لیے کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ، سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا حماد اظہر اور اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کرنے والے ایم این ایز کے حوالے سے کہا کہ ’عمران خان کے نام پر ووٹ لیا ہے استعفی دیں، الیکشن لڑ کے واپس آئیں۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم کسی کو پیسے نہیں دیں گے۔‘

وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب  صوبہ سندھ میں گورنر راج کے مشورے کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ’شیخ رشید نے بطور وزیر داخلہ اور ایک اہم اتحادی کی حیثیت سے گورنر راج لگانے کا تجویز دی ہے۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’سندھ حکومت نے بغاوت کی ہے۔‘

واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم کو صوبہ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان گورنر راج لگا سکتے ہیں مگر وہ نہ لگائیں تو وہ علیحدہ بات ہے۔‘

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ’تحریک انصاف مقابلہ جاری رکھے گی۔‘

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں۔ نظریہ پر کوئی عمران خان سے ملنا چاہتا ہے تو ضرور ملے، سودے بازی نہیں ہو گی۔‘

اسد عمر نے پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز اور عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فکر نہ کریں، جس عمران خان کو سپورٹ کیا وہ عمران خان مایوس نہیں کرے گا۔‘

ان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں موجود حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے اتحادیوں سے رابطے میں ہیں مگر خرید و فروخت نہیں کریں گے۔‘

ناراض ایم این ایز کے بارے میں بات کرتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں نے عمران خان کے نام پر لاکھوں ووٹ لیے۔ میڈیا ان کے حلقوں میں جا کر کے ان کے ووٹر کی رائے دکھائے۔ یہ لوگ اپنے حلقوں میں جانے کے قابل نہیں رہیں گے۔‘

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے تین ناراض ارکان پارلیمان سامنے آئے جن میں سے ایک راجا ریاض بھی ہیں۔ جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں ان کے ہمراہ 24 ارکان قومی اسمبلی موجود ہیں۔

اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں میڈیا اینکرز سے بات کرتے ہوئے راجا ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہم پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے خدشے کے بعد سندھ ہاؤس منتقل ہوئے ہیں۔‘

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے ایم این ایز کو خریدنے اور ہارس ٹریڈنگ کے الزام پر راجا ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عمران خان سے اختلاف ہے اور ہم اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے۔‘

راجا ریاض کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے دو اور ایم این ایز نے بھی میڈیا سے بات کی ہے جن میں نور عالم خان اور نواب شیر وسیر شامل ہیں۔

نواب شیروسیر کا کہنا تھا کہ ’ہم اگلا الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر نہیں لڑیں گے۔ ہم آزاد لڑیں گے یا عوام کی مرضی سے فیصلہ کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے بارے میں جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے سیاست دانوں کو ایسی زبان نہیں استعمال نہیں کرنی چاہیے۔‘

 

جبکہ نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے جو 20 کروڑ روپے لینے کا الزام عائد کیا ہے وہ افسوس ناک ہے۔‘

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس اس وقت سندھ ہاؤس ہارس ٹریڈنگ کا دارالخلافہ بنا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان تحریک انصاف کے اکاؤنٹ سے جاری ایک ویڈیو میں فواد چوہدری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہاؤس سے جو اطلاعات آئیں ہیں وہ یہ ہیں کہ وہاں بہت پیسہ شفٹ کیا گیا ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہاں پر لوگوں کو رکھنے کے لیے پولیس منگوائی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جس طرح سے یہاں منڈیاں لگائی گئی ہیں وہ آئین کے بھی خلاف ہیں اور ملک کے مستقبل سے بھی کھیلنے والی بات ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایک سخت ایکشن پلان کر رہے ہیں۔‘

تاہم سندھ ہاؤس میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان سامنے آنے کے بعد فواد چوہدری نے ایک اور ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ ’باضمیر ہوتے تو استعفیٰ دیتے۔ سپیکر کو ان ضمیر فروشوں کو تاعمر نا ابل قدر دینے کی کاروائی کرنی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل بدھ کو سوات میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ’اسلام آباد میں سندھ ہاؤس ہے۔ سندھ ہاؤس میں نوٹوں کی بوریاں لے کر بیٹھے ہیں ارکان کے ضمیر خریدنے کے لیے۔ آج سندھ کے عوام کا پیسہ بوریوں میں سندھ ہاؤس آیا ہے۔ سندھ سے گارڈ لے کر آئے ہیں اسے بچانے کے لیے کہ کوئی اندر نہ آ جائے۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ ’نواز شریف نے چھانگا مانگا سے ارکان کے ضمیر خریدنے کی روایت شروع کی تھی، آج سندھ کے عوام کا پیسہ بوریوں میں سندھ ہاؤس میں ہے جسے بچانے کے لیے گارڈ بھی سندھ سے آئے ہیں۔‘

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی سکیورٹی کے لیے رینجرز اور ایف سے کے دو ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید کا کہنا تھا کہ رینجرز اور ایف سے کے یہ اہلکار 20 مارچ سے دو اپریل تک اسلام آباد میں تعینات رہیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کے ایسے آنے والے 20 سے 22 دن ہیں جس میں ارکانِ پارلیمان اور عام لوگوں کو تحفظ دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’20 مارچ سے قومی اسمبلی اور لاجز کے بیرونی حصے کو تحفظ رینجرز اور ایف سی فراہم کرے گی۔‘

اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں سے رابطے جاری رکھنے کے لیے وزرا کی ڈیوٹی لگائی ہے۔

’27 تاریخ کو ڈی چوک میں جلسہ ہوگا اور 25 کو اپوزیشن بھی آ رہی ہے۔‘

انہوں اس حوالے سے کہا کہ وزارت داخلہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ’ہر دو صورتوں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا جائے۔‘

اس موقع پر شیخ رشید نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ایک بار پھر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کامیاب ہو جائیں گے۔ اس وقت تک ہمارے اتحادی جو سو بچار میں ہیں اور مشاورت کر رہے ہیں وہ بھی مجھے یقین ہے کہ عمران خان کے ساتھ آجائیں گے۔‘

دوسری جانب اسلام آباد میں جلسوں کے حوالے سے ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ’اگر شہریوں کے جان و مال کو نقصان ہوا تو وزیر داخلہ سے ڈپٹی کمشنر تک سب ذمہ دار ہوں گے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کو ڈی چوک اور ریڈ زون میں جلسے اور احتجاج روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ ’کسی شہری یا پارٹی کو پرامن احتجاج سے نہیں روک سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان